پیرس(نیوزڈیسک)فرانس میں15سال سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ سیکس ریپ تصور کیا جائے گا جبکہ سیکس کے لئے قانونی عمرپندرہ سال مقررکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق فرانس میں مساوات کی وزیرنے اس اقدام کو سراہا ہے جس کے لیے ڈاکٹروں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کی گئی تھی۔اب تک پراسیکیوٹرز کو 15سال سے کم عمر کے ساتھ سیکس کے لیے ریپ کی دفعات لگانے کے لیے اسے جبری سیکس ثابت کرنا پڑتا تھا۔یہ قانونی تبدیلیاں حالیہ دو واقعات کے بعد کی گئی جن میں دو آدمیوں پر 11سالہ بچیوں کے ساتھ سیکس کے الزامات عائد کیے گئے۔فرانس میں حالیہ قانون سازی کے تحت اگر سیکس کے دوران کسی قسم کا جبر یا زور زبردستی ثابت نہ ہو تو ملزم کو جنسی استحصال کے تحت سزا ہوتی تھی نہ کے ریپ کے الزامات کے تحت۔اس کی سزا کم از کم پانچ سال قید اور 75000یورو تک جرمانہ ہے۔بچوں اور بالغوں پر جنسی حملے کی سزا برابر ہے لیکن ریپ کی صورت میں زیادہ سخت سزائیں ہیں۔حکومت آئندہ ہفتے میں عمر کی اس حد نئی حد کی جنسی تشدد کے دیگر قوانین کے ہمراہ منظوری دے گی۔فرانس کی وزیر مارلین سچیاپا نےکہا ہے کہ انہیں بہت خوشی ہوئی ہےکہ زیادہ عمر چنی گئی ہے۔ اس حد کی فرانس کے صدر نے بھی حمایت کی ہے۔فرانس میں یکجہتی اور صحت کے وزیر اگنس بزین کا کہنا تھانئی حد مقرر کیے جانے سے اجتماعی شعور پیدا ہوگا۔ اور سب کو دیکھنا ہوگا کہ کیا قانونی ہے اور کیا غیر قانونی ہے۔