ہمارے پڑوس کا کمپیوٹر کڈ دوڑتے ہوئے میرے پاس آیا اور ہانپتے ہوئے کہنے لگا ”بالم دادا، وہ آپ کا لنگوٹیا دوست ہے نا پپن پروانہ، وہ گلی کے نکڑ پر بیٹھا ہوا ہے اور زاروقطار رو رہا ہے“۔
اس وقت میں حال سے نکل کر ماضی کی طرف نکل گیا تھا اور شکیل بدایونی کی لکھی ہوئی غزل ،اک دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گرا ،کوئی وہاں گرا، محمد رفیع کی آواز میں سن رہا تھا ۔ دھن بنائی تھی نوشاد نے، فلم تھی دل گی، ہیرو اور ہیروئن تھے شیام اور ثریا ۔ فلم سپرہٹ تھی اور کئی مہینوں تک تاج محل سینما میں چلتی رہی تھی۔ تاج محل سینما بندر روڈ پر ریڈیو پاکستان کراچی کے عین سامنے، تھیوسوفیکل ہال کے بازو میں تھا۔ آدھی صدی یعنی پچاس برس پرانی بات ہے۔ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو تاج محل سینما موجود نہیں ہے۔ تاج محل سینما کی جگہ موٹر پارٹس کی دکانیں کھل گئی ہیں۔ بندر روڈ کا نام بدل کر ایم اے جناح روڈ رکھ دیا گیا ہے۔
ریڈیو پاکستان خوبصورت عمارت سے شفٹ ہو کر سوک سینٹر کے قریب اپنی نئی عمارت میں منتقل ہو گیا ہے۔ تاج محل کے قریب تھیوسوفیکل ہال کا نام بدل کر جمشید ہال رکھ دیا گیا ہے۔ اب وہاں اینی بیسنٹ اور تھیا سافی کے فلسفے پر لیکچر نہیں ہوتے، اب وہاں اسٹیج ڈرامے بھی نہیں ہوتے ۔ اسٹیج اور تھیٹر اجڑ چکے ہیں، نایاب کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری بند کر دی گئی ہے، نایاب کتابیں نامعلوم جگہ منتقل کر دی گئی ہیں۔ اردو کے بے شمار ڈرامے تھیوسوفیکل ہال کے تھیٹر میں منعقد ہوتے تھے۔ خواجہ معین الدین کے دو ڈراموں نے تو برسوں تک دھوم مچائے رکھی۔ وہ دو ڈرامے تھے، تعلیم بالغاں اور مرزا غالب بندر روڈ پر۔ اب پلٹ کر دیکھتا ہوں تو وہاں ماضی کی پرچھائیوں کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا ہے۔ مجھے پرچھائیاں اچھی لگتی ہیں، سرگم اور سرگوشیوں کی بازگشت اچھی لگتی ہے۔ پرانے گیتوں اور غزلوں کے البم کھول کر بیٹھ جاتا ہوں اور پہروں حال کے اندھیروں سے کٹ کر ماضی کی روشنیوں میں کھو جاتا ہوں۔ سب کے سامنے ہوتے ہوئے میں کسی کے سامنے نہیں ہوتا۔ کچھ ایسی ہی میری کیفیت تھی جب پڑوس کے کمپیوٹر کڈ نے مجھے آ کر بتایا کہ میرا لنگوٹیا دوست پپن پروانہ گلی کے نکڑ پر درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا اور زارو قطار رو رہا تھا۔
کمپیوٹر کڈ نے کہا ”دادا لگتا ہے دوست کے بھیجے میں وائرس آ گیا ہے وہ سسکیاں لیکر رو رہا ہے“۔
کمپیوٹر کڈ کا نام فیضیاب ہے۔ سولہ سترہ برس کا ہے،کمپیوٹر کا متوالا ہے۔ پڑوس میں کسی کا کمپیوٹر گڑبڑ کرنے لگے تو فوراً فیضیاب کو پکڑ کر لے آتے ہیں اور کمپیوٹر اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ فیضیاب کھڑے کھڑے خرمستیاں کرنے والے کمپیوٹروں کو ٹھیک کر دیتا ہے، اس کا نام پڑ گیا ہے کمپیوٹر کڈ……کمپیوٹر کڈ نے کہا ”بالم دادا اگر آپ اجازت دیں تو پپن پروانے کے بھیجے کا اسکین Scanدیکھ لوں۔ اگر کوئی بگ Bugہے تو وہ ان کے بھیجے سے نکال دوں“۔
میں نے کمپیوٹر کڈ سے کہا ”تم مجھے پپن پروانے کے پاس لے چلو “۔تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے ہم اس جگہ پہنچے جہاں ایک اجڑے ہوئے درخت کے نیچے پپن پروانہ بیٹھا ہوا تھا اور رو رہا تھا۔ شانوں سے تھام کر پپن کو میں نے گلے لگایا اور اس سے رونے کا سبب پوچھا۔ پپن نے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ دیا اور سسکیاں لیتے ہوئے کہا ” بالم بھائی میں نے بدبختوں سے گڑگڑا کر التجا کی، منتیں کی، مگر ظالموں نے میری ایک نہ سنی۔ جب ہاتھ جوڑتے ہوئے میں نے ان سے کہا کہ میرا موبائل فون میرے پاس کسی کی نشانی ہے، تم میرا بٹوہ لے لو، میری گھڑی لے لو لیکن مجھ سے میرا موبائل فون مت چھینو ، یہ میرے پاس کسی کی نشانی ہے۔ انہوں نے مجھے برابھلا کہا اور مجھے کوستے ہوئے کہا، ابے بڈھے کھوسٹ تجھے شرم نہیں آتی اس عمر میں تحفے تحائف لیتا ہے ! قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا ہے اور کسی کی نشانی اپنے پاس رکھتا ہے! ڈوب مر بڈھے مردود۔ بالم بھائی انہوں نے میری بہت بے عزتی کی اور میرا موبائل فون مجھ سے چھین کر چلے گئے“۔
پپن پروانے کی زندگی میں اس موبائل فون کی اہمیت میں سمجھ سکتا تھا۔ وہ فون اسے کچھ سال پہلے سایا شمسی نے دیا تھا۔ سایا شمسی اور پپن پروانہ کراچی یونیورسٹی کے اکنامکس ڈپارٹمنٹ میں پڑھتے تھے۔ یہ پچاس پچپن برس پرانی بات ہے۔ سایا شمسی محبت تو پپن پروانے سے کرتی تھی مگر اس نے شادی ایک بینکر کے بیٹے سے رچالی تھی جو آج کل بہت بڑا بزنس مین ہے۔ میرے پوچھنے پر سایا نے کہا تھا ”بالم بھائی تمہارا دوست اچھا ہے، نیک ہے، شریف ہے۔ وہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔ مجھے اپنی فکر نہیں ہے مجھے اپنے آنے والے بچوں کی فکر ہے۔ ان کی تعلیم و تربیت، ان کے مستقبل کی فکر ہے۔ میں محبت کے نام پر اپنے بچوں کو بھینٹ نہیں چڑھا سکتی“۔
پپن پروانہ زندگی کی بے رحم دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ اس نے شادی نہیں کی،گھر نہیں بسایا۔ پریڈی اسٹریٹ پر اس کی پرانی کتابوں کی چھوٹی سی دکان ہے۔ شمسی ستر پچھتر برس کی ہو گئی ہے۔ پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں والی ہو گئی ہے مگر وہ اب بھی محبت پپن سے کرتی ہے، کبھی کبھار پپن کے اولڈ بک ورلڈ پر آتی ہے اس قصے میں سایا شمسی کا اصلی نام میں نے آپ سے چھپایا ہے۔ سایا شمسی کی نشانی کھو کر پپن بہت دکھی تھا۔ میں نے پپن سے کہا ”چل، چل کر تھانے پر رپورٹ درج کرواتے ہیں، شاید تجھے تیرا موبائل فون مل جائے“۔
ہم پولیس اسٹیشن پہنچے،کمپیوٹر کڈ ہمارے ساتھ تھا۔ اے ایس آئی نے پپن کو آڑے ہاتوں لیا ۔ اس نے پوچھا، کس دکان سے خریدا تھا فون ؟ رسید ہے تمہارے پاس؟ سم کس کے نام ہے ؟“
پپن گھبرا کر تھانے سے باہر نکل گیا۔ کمپیوٹر کڈ نے مجھے بازو سے تھامتے ہوئے کہا ”بالم دادا، ایک مرتبہ پپن دادا کا فون خراب ہو گیا تھا، میں نے ٹھیک کیا تھا اس فون میں ٹریکر لگا ہوا تھا۔ وہ نمبر میں نے نوٹ کر لیا تھا میں بتا سکتا ہوں کہ پپن دادا کا فون اس وقت کہاں ہے“۔
کمپیوٹر کڈ نے کندھے سے لٹکتا ہوا چھوٹا سا لیپ ٹاپ کھولا اور چند منٹوں کے اندر اس نے پتہ لگا لیا کہ پپن کا موبائل کراچی کے کس علاقے کی کس بلڈنگ کے کس فلیٹ میں موجود تھا، ہم لپک کر تھانے میں داخل ہوئے۔
کمپیوٹر کڈ نے لیپ ٹاپ اے ایس آئی کے سامنے رکھا اور اسے اسکرین پر نقشہ سمجھاتے ہوئے کہا ”سر، پپن دادا کا فون فلاں علاقے کی فلاں بلڈنگ کے فلاں فلیٹ میں ہے“۔
اے ایس آئی کو ناگوار لگا، اس نے لاپروائی سے کہا، یہ علاقہ ہمارے تھانے کا نہیں ہے۔ جاؤ جا کر اسی علاقے کے تھانے میں رپورٹ درج کرواؤ “۔
قصہ مختصر، ہم کمپیوٹر کی مدد سے پپن کے موبائل فون کا کھوج لگاتے رہے اور فون ایک علاقے سے نکل کر دوسرے کسی علاقے میں پہنچتا رہا ۔ یہ موبائل چھیننے والوں کا خاصہ ہے۔ آخر کار ہم شہریوں اور پولیس کے الحاق سے بنے ہوئے دفتر پہنچے۔ چیف صاحب نے فرمایا، یقین کیجئے، ٹریکر کی مدد سے ہم آپ کا موبائل فون ڈھونڈ نکالیں گے اور آپ تک پہنچائیں گے“۔
ڈیڑہ دو ماہ بعد پپن پروانے کو ایک کوریئر سروس سے پارسل ملا۔ پارسل میں ایک نیا موبائل فون تھا وہ پارسل اسے سایا شمسی نے بھیجا تھا ۔