پراسراریت کی گہری دھند میں لپٹی اس بھید بھری نگری کے راز کھلنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ پیپلز پارٹی ، اصغر خان کیس کے مختصر فیصلے کو ایک فتح عظیم سمجھتے ہوئے یہ تاثر دے رہی ہے کہ روایتی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پی پی پی کی جڑیں کاٹتی اور نواز شریف کی بلائیں لیتی رہی۔ حقائق اس کے برعکس ہیں جس کا تذکرہ پھر سہی۔
پیش نظر معاملہ 1990 ء کے ان انتخابات کا ہے جنہیں ایک خاص رخ دینے کے لئے اس وقت کے زور آوروں نے ایک حکمت عملی تیار کی تھی ۔ بظاہر اس حکمت عملی کے تین اجزا تھے۔ پہلا یہ کہ پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لئے دائیں بازو کے ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے۔ (اس مقصد کے لئے آئی جے آئی پہلے ہی تخلیق ہو چکی تھی) دوسرا یہ کہ نواز شریف کو پنجاب تک محدود رکھتے ہوئے وزیر اعظم نہ بننے دیا جائے اور تیسرا یہ کہ سندھی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بعد سندھی وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی کا راستہ ہموار کیا جائے جو ہمیشہ فوج کے قرابت داروں میں رہے۔ لیکن آئیے دو برس پیچھے چلتے ہیں۔
اگست 1988ء میں سانحہ بہاولپور کے چند دن بعد سپریم کورٹ (جو تب پشاور روڈ راولپنڈی بیٹھی تھی) محمد خان جونیجو کی برطرفی اور اسمبلی توڑنے کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے جونیجو اور اسمبلی دونوں کو بحال کرنے پر تلی بیٹھی تھی کہ آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے سینیٹر وسیم سجاد کے ذریعے ایک سخت پیغام بھیجا۔ جسٹس افضل ظلہ کو دھمکی دی کہ ”اگر جونیجو اور اسمبلی کو بحال کیا گیا تو یاد رکھیں کہ مجھے صرف سڑک پار کرنا ہوگی“۔ عدالت نے جنرل ضیاء الحق کے اقدام کو تو غیر قانونی قرار دے دیا لیکن اسمبلی بحال کی نہ وزیر اعظم جونیجو کو۔ نئے انتخابات اور بے نظیر بھٹو کے کردار کی بات کہیں طے پا چکی تھی۔ ضیاء الحق کے انتقال کے ایک ماہ بعد ہی آئی جے آئی قائم ہو گئی۔ جونیجو اور نواز شریف کو دور رکھتے ہوئے غلام مصطفی جتوئی کو اسلامی جمہوری اتحاد کا سربراہ بنا دیا گیا۔ تب مقصود اسی قدر تھا کہ بے نظیر اکثریت نہ لے پائیں۔ ایک توانا اپوزیشن، ایک سندھی رہنما کی قیادت میں موجود رہے اور بہ وقت ضرورت کام آئے۔
1988ء میں (آئی جے آئی کے قیام کے باوجود) محترمہ کی وزارت عظمیٰ کے لئے تخت آراستہ تھا۔ جونیجو کی بحالی کا راستہ روک کر مرزا اسلم بیگ نے بڑی مشکل آسان کر دی تھی۔ جنرل بیگ نے، غلام اسحاق خان کے تحفظات دور کرنے میں بھی خاصا کام کیا۔ اسپیکر کا انتخاب پہلے کرانے کے عمل کو روکا۔ گزشتہ روز ہی بریگیڈیئر (ر) حامد سعید نے، جو تب ملٹری انٹیلی جنس کے ایک اہم عہدے پر فائز تھے، اپنے اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ ”محترمہ بے نظیر بھٹو، چیف آف آرمی اسٹاف مرزا اسلم بیگ کی مدد سے وزیراعظم بنی تھیں۔ بیگ نے ہی غلام اسحاق خان کو قائل کیا تھا کہ بی بی کو وزیر اعظم نامزد کر دیا جائے۔
1988 ء میں آئی جے آئی کی تخلیق کا نواز شریف سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں ایک پی پی پی مخالف اتحاد کی تشکیل، نئے موسموں کی صورت گری کی پیش بندی تھی۔ بھٹو کی پھانسی کے آسیب کے زیر اثر، فوجی قیادت کے ذہن پر سندھ کارڈ سوار تھا۔ سو بے نظیر کی بے دخلی کی صورت میں ایک سندھی وزیر اعظم کی مورتی تراشی جا رہی تھی۔ غلام مصطفی جتوئی 1988ء کے انتخابات ہار گئے۔ 1989ء میں انہیں غلام مصطفی کھرکی ایک نشست خالی کرا کے، کوٹ ادو سے قومی اسمبلی میں لایا گیا۔ بے نظیر بھٹو نے بیگ صاحب کے احسان عظیم کا بدلہ ”تمغہ جمہوریت“ کی شکل میں دے دیا لیکن ایک منتخب وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے ایک دو آزادانہ اقدامات کئے تو زور آوروں کی پیشانی پہ بل پڑنے لگے۔ اسمبلی میں ایک متحدہ حزب اختلاف (COP) کی بنیاد ڈالی گئی۔ غلام مصطفی جتوئی اس کے سربراہ بنا دیئے گئے۔ اگلے وزیر اعظم کے طور پر ان کا قد کاٹھ بڑھانے کے لئے انہیں قائد حزب اختلاف بنا دیا گیا۔ اسلم بیگ اور غلام اسحاق خان 1990ء کے آغاز میں ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ بی بی کو فارغ کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں اور غلام مصطفی جتوئی کو وزیر اعظم بنا دیا جائے۔ جتوئی صاحب کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔ یکم اگست 1990 ء کو ان کی صدر غلام اسحاق خان سے ملاقات ہوئی جس میں معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ 4/اگست کو جتوئی صاحب نے ایک پر جوش پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہم قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں بے نظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا رہے ہیں۔ دودن بعد 6/اگست 1990ء کو اسمبلی توڑ دی گئی اور بے نظیر بھٹو کو معزول کر دیا گیا۔ غلام مصطفی جتوئی نگران وزیر اعظم بنا دیئے گئے۔ پھر وہ کھیل شروع ہو گیا جس کی بازگشت اصغر خان کیس کے حوالے سے سنائی دے رہی ہے۔ دو دن قبل، الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری جنرل کنور دلشاد نے جو 1990ء میں سندھ کے چیف الیکشن کمشنر تھے، ایک اخباری انٹرویو میں گواہی دی ہے کہ ”جب 6/اگست 1990ء کو صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلی تحلیل اور الیکشن کرا کے مرضی کے نتائج حاصل کئے تو اس وقت حالات ایسے تھے کہ آئی جے آئی کے صدر غلام مصطفی جتوئی کو وزیر اعظم بنایا جائے گا لیکن پھر اچانک حالات تبدیل ہو گئے اور میاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم بن گئے“۔”اچانک حالات تبدیل ہو جانے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ انتخابی میدان سجا تو سب سے زیادہ رونق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لگی۔ نواز شریف اپنی وزارت اعلیٰ کے دنوں میں پنجاب کو ایک مضبوط پی پی پی مخالف کمین گاہ میں بدل چکے تھے۔ غلام مصطفی جتوئی نگران وزیر اعظم ہونے کے باوجود انتخابی مہم کی قیادت کر رہے تھے۔ فارمولے کے تحت آئی جے آئی کی سربراہی گردش کرتی ہوئی مولانا سمیع الحق تک پہنچی تو انہوں نے یہ پگڑی نواز شریف کے سر پر سجا دی۔ اس رسمی اعزاز کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو سر نہ اٹھانے دیا اور جتوئی صاحب ہی کو بارات کا دولہا بنائے رکھا۔24/اکتوبر کو وزیراعظم جتوئی نے صدر غلا اسحاق خان سے ملاقات کی جہاں طے پایا کہ تمام انتخابی نتائج پہلے ایوان صدر کے خصوصی سیل آئیں گے اور بعد میں اعلان ہوگا۔ ادھر جب یہ کھیل اقتدار کی سازش گاہوں سے نکل کر عوام کی بارگاہوں میں پہنچا تو نقشہ بدلنے لگا۔ نواز شریف کے مقابلے میں جتوئی کا چراغ سنولانے لگا۔ اسٹیبلشمنٹ کے کان کھڑے ہوئے تو آئی ایس آئی کے ایک سینئر افسر کو (جو حیات ہیں) طلب کر کے باز پرس کی گئی اور حکم صادر ہوا کہ بند کرو یہ تماشا۔ طے پایا کہ راولپنڈی سے ملتان تک ایک جلوس نکالا جائے جس کی قیادت غلام مصطفی جتوئی کریں گے۔ نواز شریف بھی اس میں شریک تھے۔ جلوس ٹھوکر نیاز بیگ تک پہنچا تو نواز شریف زندہ باد کے نعروں نے منظر بدل دیا۔ اوکاڑہ تک آتے آتے وزیر اعظم نواز شریف کے نعروں کی گونج کئی گنا بڑھ گئی۔ جتوئی صاحب نے اپنے اے ڈی سی سے پوچھا ”Where is my car“ (میری کار کہاں ہے)۔ وہاں سے وہ واپس آ گئے اور تاریخ ایک نیا موڑ مڑ گئی۔
پھر وہ کچھ ہواجو اسٹیبلشمنٹ کے نقشہ کار میں نہ تھا۔ منتخب ارکان کی غالب اکثریت کا تعلق پنجاب او خیبر پختونخوا سے تھا جو نواز شریف کے گرد جمع ہو گئی کم از کم دو اہم کور کمانڈرز نے مشورہ دیا کہ اگر ایک مقبول عوامی لیڈر (بے نظیر بھٹو) کو فارغ کر دیا گیا ہے تو اب عوام کے جذبات سے نہ کھیلا جائے۔ لوگ نواز شریف کو چاہتے ہیں تو اسے وزیر اعظم بننے دیں۔ سندھ میں بے چینی بونے کے بعد ہم پنجاب میں بھی مایوسی کیوں پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی مہرے کی تخت نشینی سے گریز کیا جائے۔
نواز شریف کی وزارت عظمیٰ، کسی طور آئی جے آئی کی تخلیق کا مقصود نہ تھی۔ وہ وزیراعظم تو بن گئے لیکن جو زخمی سانپ جہاں جہاں تھا، بس گھومتا رہا۔ جنرل بیگ نے جنگ خلیج کے وقت طوفان سا اٹھا دیا تو نواز شریف نے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں کہا ”جنرل صاحب ! میں نوکری کرنے نہیں آیا “ یہی سبب تھا کہ جنرل بیگ کے بال و پر کاٹنے کیلئے نواز شریف نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ پہلے ہی جنرل آصف نواز جنجوعہ کی تقرری کا اعلان کر دیا لیکن غلام اسحاق خان کا الیکشن سیل بدستور دانت پیستا رہا، نئی اسٹیبلشمنٹ پرانے زخم چاٹتی رہی۔ پھر 1993ء میں اسی ایوان صدر کے اندر اسی بوڑھے بازیگر کی قیادت اور محترمہ کے اشتراک سے وہ شرمناک سر کس سجا جس نے 1990ء کے ڈرامے کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا۔