کراچی (ٹی وی رپورٹ) سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے سیاسی جماعتوں کے خدشات دور ہوجانے چاہئیں، سیاسی جماعتیں خاص طورپر زیرعتاب نظر آنے والی جماعتوں کے خدشات دور نہیں ہوں گے، نواز شریف ، مریم نواز کی سزا اور حسین لوائی کا معاملہ ختم کردیا جائے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی خوش ہوجائیں گے،نواز شریف اور مریم نواز کی واپسی پر ن لیگ کا استقبال مکمل فلاپ شو ہوگا، ن لیگ کی تاریخ دیکھیں تو نواز شریف کی وطن واپسی پر متاثرکن استقبال ہوتا نظر نہیں آتا، نواز شریف اور مریم نواز کا واپسی پر بہت زبردست استقبال ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار امتیاز عالم، حسن نثار، ارشاد بھٹی، شہزاد چوہدری،بابر ستار اور حفیظ اللہ نیازی نے جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان عائشہ بخش سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال پاک فوج کے الیکشن کمیشن کی معاونت کیلئے انتظامات، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس، کیا اب سیاسی جماعتوں کے خدشات دور ہوجانے چاہئیں؟کا جواب دیتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ انتخابات میں جو جماعت ہارے گی اس کے خدشات موجود رہیں گے، ۔امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے سیاسی جماعتوں کے خدشات دور ہوجانے چاہئیں، لیکن سیاسی جماعتیں خاص طورپر زیرعتاب نظر آنے والی جماعتوں کے خدشات دور نہیں ہوسکیں گے۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتیں اور رہنما دائمی بدگمانی کا شکار ہیں، رب کی مخلوق کے ترجمان نے رب کی مخلوق کے وسوسے اور خدشات دور کردیئے ہیں، پاک فوج کے ساتھ ہم جتنا کچھ کرچکے ہیں طاقت ہونے کے باوجود وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کی بات کررہے ہیں۔
شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر دو فوجی اہلکار انتخابی عمل کو شفاف بنائیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج کی پوزیشن کو واضح کردیا ہے اب سننے والوں پر ہے کہ وہ اس پر کس حد تک یقین رکھتے ہیں، پاک فوج اور عدلیہ کو شک کی نظر سے دیکھنے والے دیکھتے رہیں گے کیونکہ اس میں ان کا سیاسی یا ذاتی فائدہ ہوسکتا ہے، نواز شریف ، مریم نواز کی سزا اور حسین لوائی کا معاملہ ختم کردیا جائے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی خوش ہوجائیں گے۔بابر ستار نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی اور انتخابی انجینئرنگ ہماری تاریخ کا حصہ ہے، جن لوگوں نے انتخابات پر اثر ڈالا انہوں نے بعد میں قبول بھی کیا، منگل کو ڈی جی آئی ایس پی آر سے جو سوالات پوچھے گئے انہیں سوچنا چاہئے کہ ملک میں ایک غیرجانبدار ادارے پر کیوں خدشات ہیں۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں قابل تشفی جوابات دیئے۔
دوسرے سوال نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی، کیا مسلم لیگ ن متاثرکن استقبال کرنے میں کامیاب ہوگی؟ کا جواب دیتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی واپسی پر ن لیگ کا استقبال مکمل فلاپ شو ہوگا، اس استقبال کا موازنہ 1986ء میں بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد پر استقبال سے کیا جائے گا، نواز شریف اور مریم نواز دونوں مل کر اس کا ایک تہائی مجمع بھی اکٹھا نہیں کرسکیں گے،اس وقت پرانے ایئرپورٹ سے داتا دربار تک تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، یہ بھی ذہن میں رکھیں1986ء میں لاہور شہر کی آبادی 35لاکھ تھی جو آج ایک کروڑ گیارہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔بابر ستار کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی سڑکوں پر احتجاج کی کوئی اچھی تاریخ نہیں ہے، ن لیگ کے ووٹر سپورٹر کی سڑکوں پر نکلنے کی نفسیات ہی نہیں ہے، 2007ء میں جب نواز شریف پاکستان آئے تو سو دو سولوگ بھی اسلام آباد ایئرپورٹ نہیں پہنچ سکے تھے،اگر ن لیگ کا ووٹر نواز شریف کے استقبال کیلئے باہر نکلا تو یہ سرپرائز ہوگا۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ کی تاریخ دیکھیں تو نواز شریف کی وطن واپسی پر متاثرکن استقبال ہوتا نظر نہیں آتا، ن لیگ کے حلقوں میں یہ خدشات بھی ہیں کہ اگر کارکن نواز شریف کے استقبال کیلئے نکلتے ہیں اور پکڑے جاتے ہیں تو انتخابی مہم پر برے اثرات ہوں گے۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلے کے وقت احتساب عدالت میں صرف دو ن لیگی رہنما موجود تھے جبکہ پورے ملک میں خاموشی تھی، مریم نواز لندن سے برہم ہوئیں کہ کوئی اس فیصلے کیخلاف کیوں نہیں نکلا۔