• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بشیر بلور شہید کا سپوت والد کے نقش قدم پر جاں کی بازی ہار گیا

بشیر بلور شہید کا سپوت والد کے نقش قدم پر جاں کی بازی ہار گیا

پشاور کے علاقہ یکہ توت میں انتخابی مہم کےدوران خودکش حملے میں شہید ہونے والے ہارون بلور اے این پی کے پشاور میں بااثر بلور خاندان کے چشم و چراغ تھے،ان کے والد بشیر احمد بلور بھی 2012ء میں اسی قسم کے ایک خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔

بلور خاندان خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے،ہارون بلور شہید بشیر احمد بلور کے بڑے صاحبزادے تھے، انہوں نے لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی،وہ ٹاؤن ون کے ناظم بھی رہ چکے ہیں، 2013ء کے عام انتخابات انہوں نے پی کے تین سے لڑے لیکن ناکام رہے ۔

2018ء کے عام انتخابات میں ہارون بلور صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 78سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار تھے، ہارون بلور کے والد بشیر بلور پر کئی بار حملے ہوئے، جس سے ایک بار وہ زخمی بھی ہوئے لیکن 22 دسمبر 2012ء کو ان پر ہونے والا خود کش حملہ جان لیوا ثابت ہوا، اس حملے میں بشیر بلور سمیت 9 افراد شہید ہوئے تھے ،اس حملے کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔

ہارون بلور کے چھوٹے بھائی عثمان بلور حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث چار سال قبل انتقال کرگئے تھے۔

ہارون بلور کے دو چچاؤں کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے، ان کے ایک چچا غلام احمد بلور سابق وفاقی وزیر ریلوے بھی رہے جبکہ دوسرے چچا الیاس بلور سینیٹر ہیں۔

ان کے تیسرے چچا عزیز احمد بلور سول سروسز میں رہ چکے ہیں، شہید ہارون بلور کے دو بیٹے ہیں، ایک کانام دانیال بلور اور دوسرے کا نام داسم بلور ہے۔

تازہ ترین