• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال 1993 تھا او ر موسم گرما کی آمد تھی ۔کراچی میں عبداللہ ہارون روڈٖ پر واقع اولڈ سرکٹ ہائوس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید غضنفر علی شاہ پاکستان آرمی کے فیلڈ انوسٹی گیشن یونٹ سے تعلق رکھنے والے میجر کلیم الدین اور اِن کے ساتھیو ں کے اغوا اور تشدد کے مقدمے کی سماعت کررہے تھے ۔ کمرہ عدالت کے ایک جانب ایم کیو ایم کے رہ نما اشفاق چیف اور چند ساتھی ہتھکڑیاں پہنے خاموش کھڑے تھے ۔ سماعت ختم ہوتے ہی مدعی میجر کلیم اورملزم اشفاق چیف کو پہلی بار ایک دوسرے کے قریب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا!
ہوا یوں کہ کمرہ عدالت سے باہر آتے ہوئے میجر کلیم الدین نے ملزمان کی جانب نظر اٹھا کر دیکھاہی تھا کہ اشفاق چیف نے دھیمی آواز میں اُن سے کچھ کہا۔ میجر کلیم غیر متوقع طور پر رک گئے او ر دونوں چند لمحے ایک دوسر ے کودیکھتے رہے ۔ اَبلا غ کا یہ انداز یقینا غیر مانوس اورخلاف روایت تھا! اِن کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ، تجسس اور کوشش کے باجود معلوم نہ ہوسکا لیکن یہ جاننے کی بھر پور کوشش جاری تھی۔ انہوں نے باری باری اپنے آس پاس نظر دوڑائی گویا اُنہیں فکر ہو کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا! لیکن اَب اِتنا اندازہ ہوگیا تھا کہ پھیکی مسکراہٹوں کے ایک مبہم سے تبادلے کے دوران میجر کلیم اشفاق چیف کو کچھ یاد دلانے کی کوشش کررہے تھے ۔اُدھر اشفا ق چیف کے چہرے پر بھی اداس سی مسکراہٹ تھی جیسے یاد دلائی جانے والی بات سے اُن کا کوئی تعلق ہی نہ ہو!
سال 1962میں ریلیز ہونے والی فلم ’’گھونگھٹ ‘‘ میں خواجہ خورشید انور کے ترتیب کردہ ایک خوبصورت گیت میں نیر سلطانہ روح بن کر سنتوش کمار کو کچھ یاد دلاتی ہیں ۔ اِس پر سنتوش کے چہرے پر ابھرنے والے تاثرات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ! بلاشبہ اَشفاق چیف کے چہرے پر اُبھرنے والے تاثرات کم و بیش ویسے ہی تھے جیسے اِس گیت میں سنتوش کے چہرے پر نظر آتے ہیں۔ گیت کے بول ہیں ، ’’کبھی تم بھی ہم سے تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔‘‘بہرحال یہ اطمینان ہے کہ عدالتی رپورٹنگ کے خاص پیشہ ورانہ تقاضو ں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، فیصلہ آنے تک، ایسا کچھ نہیں لکھا جو مقدمے کی سماعت پر کسی بھی طرح اثر انداز ہوسکتا ہو۔ شاید اُن دنوں یہ ممکن بھی تھا!
البتہ کوئی چوتھائی صدی گزرجانے کے بعد گزشتہ ہفتے سلیم شہراد کے اِنتقال کی خبر سنتے ہی بیان کردہ منظر سے جڑے بہتیرے واقعات و معاملات ذہن کے اطراف منڈلانے لگے ۔ یہ خیال بھی آیا کہ ملک میں انتخابات کے شور وغل میں دنیا چھوڑ جانے والے سلیم شہزاد کراچی کے سیاسی خدوخال میں فیصلہ کن تبدیلیوں کا سبب بننے والا اَہم ترین نام ہے ۔
انیس سو نوے ایم کیو ایم کے خلاف بغاوت کا پہلا سال تھا۔ آفاق احمد اور عامر خان کی قیادت میں سر اُٹھانے والی اِس بغاوت کے اِبتدائی دِنوں میں بانی ایم کیو ایم و دیگر عہدیداران، کارکنوں ، ہم درد وں اورشہر بھر میں پھیلے پارٹی دفاتر کا انتہائی کامیاب دفاع سلیم شہزاد کی قیاد ت کی بدولت ہی ممکن ہوا۔یہ مفروضہ بھی عام رہا کہ آفاق احمد اور عامر خان کے مرکز سے اختلافات میں بھی سلیم شہزاد کا کرداربنیادی رہاہے۔اِن رنجشوں سے قبل شہر میں پارٹی کی مقبولیت قائم رکھنے کی ذمہ داری آفاق احمد اور عامر خان کے سر ہوا کرتی تھی ۔ لہذا مذکورہ بغاوت کے بعدمرکز کی جانب سے اِن تما م ذمہ داریوں کا سیلم شہزاد کے سپرد کیا جانا اِس مفروضے کو یقینا تقویت پہنچاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 1992کے وسط تک سلیم شہزاد، عامر خان اور آفاق احمد کے سامنے رکاوٹ بن گئے ۔باغی گروپ کی ایم کیو ایم کے دفاتر پر قبضے کی منظم کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔ بھاری چندے وصول کرنے کا رجحان بڑھتے بڑھتے سلیم شہزاد کی نگرانی میں ہی بھتے کی صورت اختیار کرتاچلاگیا۔لہذا بھتہ خوری اِن دھڑوں کے مسلح حمایتیوں کے درمیان پہلے سے جاری جھڑپوں کااِک نیا سبب بن گئی ۔
چندمہینوں پر یا سال بھر پرمشتمل ایک ایسا دور بھی گزرا ہے کہ شہر میں کسی بھی فرد، گروہ یا ادارے کا سلیم شہزاد کی اجازت کے بغیر کسی بھی تھانے میںپارٹی کے کسی رہ نما ، کارکن یا حمایتی کے خلاف ایف آئی آر درج کرواناکم و بیش نا ممکن تھا۔ یہ صورتحال یقینا سیکورٹی اداروں کی عمل داری کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج تھی۔ اور یہی حالات شہر میں ایم کیو ایم کے خلاف جون 1992میں شروع کئے جانے والے ملٹری آپریشن کا بنیادی سبب قرار دئے جاتے ہیں ْ۔ اِس آپریشن کے ذریعے ایم کیو ایم حقیقی کو شہر میں اپنی مقبولیت ثابت کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا گیا لیکن اِس دھڑے کو انتخابی سیاست کبھی راس نہیں آئی!
آپریشن کے بعد شہرکراچی کا مستقل بدلتے رہنے والا سیاسی منظر نامہ، خاص طور پر ایم کیو ایم میں دھڑے بازیوں کے تناظر میں، موجودہ سیاسی انتشاراور ابہام کا بنیادی سبب قرار دیاجاسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ کہ جب سیکورٹی فورسز کے مسلح جوان اِس آپریشن کا سبب بننے والے سلیم شہزادکو ڈھونڈھنے کے لئے چھاپے مار رہے تھے ، خود سلیم شہزاد ملک سے باہرشاید کسی پر فضا مقام پر برسوں کی تھکن اتارنے میں مشغول تھے ۔
مذکورہ مقدمے میں استغا ثہ کے مطابق 20جون 1991کی شب چند مسلح نوجوانوں نے لانڈھی کے علاقے میں ایک جیپ میں گشت پرمعمور میجر کلیم کو تین ساتھیوں سمیت اغوا کرکے بدترین تشد د کا نشانہ بنایا ۔ اگرچہ ملزمان نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کیالیکن ایم کیو ایم کے سیاسی ذرائع کا غیر رسمی موقف تھا کہ اِن افراد کو سادہ کپڑوں میں حقیقی کے مورچوں سے اٹھاکر لایا گیا ہے۔میجر کلیم کے مطابق سلیم شہزاد ہی کے حکم پر اِن فوجیوں کی جان بخشی کی گئی۔ میجر کلیم نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی تومتعلقہ ایس ایچ او نے صاف کہہ دیا کہ سلیم شہزاد کی اجازت کے بغیر وہ کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرسکتا ۔ بہت تگ و دو کے بعد جب ایف آئی آر درج ہوئی تو اس کا متن میجر کلیم کے بیان کردہ واقعے سے مختلف تھا : میجر کلیم کے موقف اور رپورٹ میں درج تفصیل میں تضادات تھے۔
مذکورہ ملٹری آپریشن میجر کلیم کے اغوا کے ٹھیک ایک سال بعد شروع ہواَ ۔اگرچہ اِس آپریشن کی بدولت انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اشفاق چیف اورساتھیوں کے خلاف سزا ئو ںکا فیصلہ سنادیا لیکن چند برسوں بعد سند ھ ہائی کورٹ نے اِن تمام سزا یافتہ افرادکو بری کردیا ۔خاص بات یہ کہ عدالت عالیہ نے اپنے اِس فیصلے میں میجر کلیم الدین کے بیانات میں مذکورہ تضادات کو ملزمان کی بریت کی بنیاد قرار دیا!
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین