ایک دیرینہ مہربان کا فون آیا۔ ان کی بات سن کر میں سوچنے لگا کہ بلاشبہ ہر شے من جانب اللہ ہے، وہی دیتا، وہی محروم کرتا، وہی بیماری، رزق، عزت، عروج، بزرگی وغیرہ دیتا ہے اور وہی شفاء، تنگ دستی، ذلت، زوال اور کمزوری دیتا ہے۔ اسی طرح کسی نیک کام کے کرنے بلکہ نیکی یا بھلائی کا سوچنے کی توفیق بھی من جانب اللہ ہی ہوتی ہے لیکن اس حوالے سے میری ذاتی رائے قدرے مختلف ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے رزق کی ذمہ داری خود لے رکھی ہے۔ وہ رزاق ہے اور سات پتھروں میں بھی چھپی چیونٹی کو رزق عطا کرتا ہے لیکن میرے مطالعے کے مطابق توفیق کا معاملہ تھوڑا سا مختلف ہے۔ میرے خیال میں توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی نہ ہی یہ ہر مقدر کا حصہ ہوتی ہے۔ رزق مقدر کا حصہ ہوتا ہے اور پیدائش کے ساتھ ہی مختص کردیا جاتا ہے لیکن توفیق مقد ر کا حصہ نہیں ہوتی۔ یہ صرف مانگنے والوں کو نصیب ہوتی ہے، بلا مانگے نہیں۔ مانگنے والا کون ہے؟ اسکی نیت کیا ہے؟ اسکے ہاتھ پھیلانے میںکتنا خلوص، خدا کی ذات پر کتنا اعتماد، کتنا ایمان اور یقین ہے یہ ساری باتیں دراصل دعاکے اجزائے ترکیبی ہوتے ہیں اور دعا کی قبولیت میں اہم کردار سرانجام دیتے ہیں۔ توفیق دراصل دعا ہی کا حصہ ہوتی ہے اس لئے اس کی عطا یا قبولیت میں مانگنے والے کے یقین اور خلوص کا بڑا رول ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ نیک اعمال، خدمت یا رضائے الٰہی کے حصول کی توفیق ہر شخص کو نہیں ملتی، نہ ہر مانگنے والے کو ملتی ہے یہ صرف انہیں ملتی ہے جنہیں رب چاہتا اور عطا کرتا ہے اور جو پورے یقین اور خلوص نیت اور حد درجہ عاجزی سے مانگتے ہیں۔ کب، کیسے وقت کا تعین دینے والے کی مرضی کا مرہون منت ہے۔ رزق تو تھوڑا یا زیادہ مقدر کے مطابق ہر کسی جاندار کو بن مانگے نصیب ہوتا ہے لیکن میں نے بے شمار لوگ دیکھے ہیں جنہیں نیکی یا رضائے الٰہی کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوتی، بعض ایسے حضرات بھی دیکھے جو نیکی کے قریب آکر محروم ہو گئے اور بے شمار ایسے بھی دیکھے جنہیں رب تعالیٰ نے توفیق دی تو انہوں نے چھوٹا سا آغاز کیا جو وقت کیساتھ بہت بڑا، بہت بابرکت اور عظیم یا عظیم الشان بن گیا۔ آپ نے بھی ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جنہیں کبھی مسجد جانےیا نماز ادا کرنے، روزہ رکھنے یا زکوۃ و خیرات دینے یا محض رضائے الٰہی کی خاطر کوئی نیک کام کرنے کی کبھی توفیق نہیں ملی اور بعض ایسے بھی ہونگے جو گھر سے مسجد جانے کیلئے نکلے لیکن راستے میں کسی اور کام میں الجھ کر گھر واپس لوٹ آئے، کسی نیک، روحانی یا بزرگ ہستی سے ملنے کے ارادے سے نکلے اور منزل پر پہنچ کر بغیر ملے واپس لوٹ آئے، زندگی بھر عمرے یا حج کی نیت کرتے رہے، اور آرزو پالتے رہے لیکن ان کی خواہش پوری نہ ہوسکی کیونکہ میرا رب جسے چاہے توفیق دیتا ہے اور جسے نہ چاہے اسے توفیق سے محروم رکھتا ہے۔ قبولیت یا غیر قبولیت کا کیا راز ہے یا کیا معیار ہے یہ ایک ایسا راز ہے جس سے ہم آگاہ نہیں۔ ہم دنیاداری کے معیار کے مطابق خلوص نیت کو قبولیت کا معیار قرار دیتے ہیں کیونکہ نیتوں کا حال صرف اللہ پاک ہی جانتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ ایسا راز ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں، باقی سب اندازے، تجربے اور تخیلات ہیں۔
معاف کیجئے گا بات ذرا نکل گئی۔ میں عرض کررہا تھا کہ ایک دیرینہ مہربان کا فون آیا۔ میں ان کی ایک بات سن کر غور و فکر کے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان اکثر روحانی قسم کے کالم لکھتے ہیں۔ ان سے یوں تاثر ملتا ہے جسے آپ حالات سے دل شکن ہو کر روحانیت کے ذریعے، بزرگوں کی ایمان افروز مثالوں اور عظیم روحانی شخصیات کی تعلیمات کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کی سوچ بدلنا چاہتے ہیں ورنہ تو سارے کالم نگار روزمرہ کی سیاست کے بخیے ادھیڑنے اور پوسٹ مارٹم کرنے یا سطحی تبصرے کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ میں ان کی بات سن رہا تھا کہ انہوں نے آخر میںایک سوال داغ دیا۔ کہنے لگے یہ بڑھاپے کی دین ہے یا حالات سے مایوسی کا نتیجہ۔ ان کے سوال سے مجھے جھٹکا سا لگا اور میں نے عرض کیا کہ اول تو مجھے اصلاح معاشرہ کا کوئی زعم یا خوش فہمی نہیں۔ نہ میں اس قابل ہوں۔ میرے اندر سے جو نکلتا یا ابلتا ہے وہ لکھ دیتا ہوں۔ دوم ہوسکتا ہے کہ یہ بڑھاپے کی دین ہو۔ جوں جوں انسان قبر کے قریب پہنچتا ہے، موت کا خوف، یوم حساب۔ مغفرت اور سرخروی کا خیال زیادہ ستانے لگتا ہے۔ چنانچہ یہ سوچ تحریر میں بھی رنگ دکھانے لگتی ہے۔ لیکن اصل بات یہ نہیں کیونکہ یہ معاملات محض بڑھاپے کی دین نہیں ہوتے۔ ان کا تعلق توفیق سے ہوتا ہے۔ انہوں نے میرا جواب سن کر قدرے حیرت سے پوچھا ڈاکٹر صاحب! توفیق کا اس سے کیا تعلق؟ میں نے جواباً عرض کیا کہ آپ روزانہ کتنے اخبارات اورکتنے کالم پڑھتے ہیں۔ جواب ملا تین اخبارات روزانہ پڑھتا ہوں اور جو کالم پسند آئیں انہیں بھی پڑھتا ہوں، سبھی کونہیں۔ میرا سوال سادہ سا تھا۔ آپ ان اخبارات میں تقریباً سبھی بزرگ، بزرگ بحوالہ عمر، کالم نگاروں کو پڑھتے ہوں گے۔ جواب ’’ہاں‘‘ میں ملا تو میںنے پوچھا ان میں سے کتنے حضرات زندگی کی روحانی قدروں، اخلاقی روایات، بزرگان دین کی عظمت، سچائی اور عشق الٰہی کاجذبہ پیدا کرنے والی تحریریں لکھتے ہیں۔ جواب ملا درجن سے زیادہ کالم نگاروں میں سے فقط دو یا تین۔ میں نے پوچھا کہ آپ چونکہ کالم شناس ہیں، کتابوں کا مطالعہ آپ کی عادت ہے۔ بتائیں آپ کے تجزیے کے مطابق بزرگ کالم نگار عام طور پر کیا لکھتے ہیں؟ میں نوجوانوں کا ذکرنہیں کررہا کیونکہ وہ ابھی جوانی کے نشے میں مست ہیں۔ جب یہ نشہ اترے گا تو ان کا اندر باہر آئے گا۔ انہوں نے میرا سوال سن کر فوراً جواب دیا۔ ڈاکٹر صاحب کچھ کالم چلتے پھرتے مہ خانے، کچھ کالم الحاد کی دکانیں، کچھ علم کے نمائش خانے، کچھ لبرل ازم کی آڑ میں رقص و سرود اور قحبہ خانوں کے اجازت نامے، کچھ روحانی اقدار اور بزرگوں کے تمسخر نامے، کچھ حالات حاضرہ کے تجزیے اور روزنامے، کچھ اپنے قلم، ذہن اور اظہار کو حکمرانوں کے پاس گروی رکھنے کے اعلیٰ نمونے، کچھ ایجنسیوں کی دی ہوئی معلومات کے خزانے اور کچھ ذاتی تشہیر، دوست نوازی اور مطلب کے شاخسانے ہوتے ہیں۔ کچھ حضرات علمی و فکری موضوعات پر بھی لکھتے ہیں اور اپنے ہم خیال لکھاریوں کی پبلسٹی بھی کرتے ہیں لیکن عام طور پر یہ ’’بور‘‘ کالم آسانی سے نہیں پڑھے جاسکتے۔ انہوں نے بات ختم کی تو میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو اپنے سوال کا جواب مل گیا کہ روحانی قسم کی تحریریں، روحانی بزرگوں کے سبق آموز واقعات، خوف خدا یا عشق رسولؐ کا ذکر وغیرہ صرف بڑی عمر یا بڑھاپے کی دین نہیں ہوتی۔ ورنہ سبھی بوڑھے لکھاری ایک ہی جیسی تحریریں تخلیق کرتے۔
یہ سارا مسئلہ توفیق کا ہے جسے اللہ پاک توفیق دیں۔ خود خوف الٰہی، بدی سے کنارہ کشی، آخرت کا احساس ، نیکی کا جذبہ وغیرہ اللہ پاک کی دی گئی توفیق ہے جو بڑی عمر کے ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتی نہ ہی ہر شخص بڑھاپے کی حدود میں قدم رکھتے ہی نمازی پرہیزگار بن جاتا ہے۔ ہمارے سامنے کتنے ہی عمر رسیدہ حضرات ہیں جن کی آنکھ کی ہوس ختم ہوتی ہے نہ دل کی ہوس۔ یہ سارا معاملہ توفیق کا ہے جسے مل گئی وہ راہ راست پہ آگیا اور جسے نہ ملی وہ عمر بھر اپنی ڈگر پہ چلتا رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے جسے چاہے دے۔ یارو۔ اپنے رب سے نیکی اور خدمت کی توفیق مانگتے رہو۔