• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:اکرام حسین القادری…لندن
ساری دنیا ظلمت و کفر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھنسی ہوئی تھی، انسانیت اور اس کے کمالات اپنی آخری سانس لے رہے تھے، تمام مخلوقات میں اشرف و اعلیٰ ’’انسان‘‘ اپنی حقیقت اور اسل کو بھول بیٹھا تھا، سسکتی ہوئی انسانیت کو ایک ایسے رہبر اور قائد، ایسے مصلح و داعی، ایسے مبلغ و رہنما کی ضرورت تھی جو بھٹکے ہوئے بے راہ روی کے شکار معاشرے کو حق تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات سے متعارف کرواتے ہوئے اس افراد معاشرہ کا اپنے خالق سے ٹوتے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑ سکےایسے میں رب ذوالجلال نے اپنے آخری پیغمبر کو اپنی آخری کتاب قرآن مجید عطا کرکے تمام عالمین کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرما دیا، جس ذات کو ساری کائنات نے ’’محمد ﷺ‘‘ کے حسین نام سے پکارا اور اپنے دلوں میں بسایا، اس عطیم غریب پرور ہستی کا ورود مسعود تھا کہ ہر سمت اجالا اور نکھرا ہوا نور مزین ہوگیا، ایسا نور کہ جس نے بھٹکے ہوئے آہوں کو سوئے حرم کا راستہ عطا کیا، جس نے عورت ذات کو اس کی اصل شناخت کی حرمت سے روشناس کیا، جس نے پتھر دلوں کو موم سا نرم کر دیا اور سالہا سال کے جانی دشمنوں کو باہمی شیر و شکر کر دیا۔اللہ عزوجل کے آخری پیغمبر نبی رحمت ﷺ کی ذات جہاں جملہ عالمین کے لئے بالعموم رحمت کا سندیسہ لے کر آئی وہیں بالخصوص انسانیت کو معنی ’’انسان‘‘ سے آگہی عطا فرمائی، یہ تمام انقلابی تبدیلیاں محض چند لمحات یا چند دنوں میں نہیں آئیں بلکہ یہ عزم اور استقامت کی ایک طویل داستان ہے، وہ داستان کہ جسے آج نا صرف مسلمان بلکہ جملہ انسان اپنے لئے مشعل راہ تصور رکتے ہیں اور کیوں نہ کریں کہ رب ذوالجلال نے اس ذات مصطفیٰ کو تمام کمالات کا جامع جو بنا کر بھیجا تھا۔
نبی اکرم ﷺ اپنی ذات میں انجمن ہیں، انسانوں کے لئے رہتی دنیا تک کے لئے ہدایت ہیں، ایک کامل مبلغ، مکمل مصلح، عظیم داعی، بے مثل رہبر، بے مثال قائد، مشفق مبلغ، رحیم منصف، شفیق باپ، محبوب شوہر، لاجواب دوست، انوکھا بھائی اور باکمال و لازوال سلطان ہے، جس نے زندگی کے ہر شعبے کے لئے اپنی کمال سیرت کو بطور اسوئہ چھوڑا ہے، اس عظیم تخلیق خداوندی کی ولادت کے اس مبارک مہینے کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ وہ نور عظیم اور ھادی مبین کی تعلیمات پر عمل کو خود پر لازم کرلیں اور جو دین اسلام کا سنہرا درس جو صاحب شریعت ﷺ نے عام کیا اس کو گھر گھر پہنچانے کے لئے مصروف عمل ہو جائیں کیوں کہ امت مصطفیٰ کے امت خیر ہونے کا فلسفہ اس میں پنہاں ہے۔جسے قرآن میں میرے رب نے ذکر فرمایا ہے۔
ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دہتے ہوئے اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی لاتے تو ان کا بھلا تھا ان میں کچھ مسلمان ہیں اور زیادہ کافر۔
تفسیر خازن میں ہے۔یہودیوں میں سے مالک بن صیف اور وہب بن یہودا نے حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے کہا کہ ’’ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (خازن، آل عمران تحت الایۃ 110، 1/287) اور اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو تمام امتوں سے افضل قرار دیا۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے، حضور پُرنو ﷺ نے ارشاد فرمایا۔’’مجھے وہ کچھ عطا کیا گیا جو کسی اور نبی کو عطا نہیں کیا گیا، ہم نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے ؟ارشاد فرمایا، ’’رُعب کے ساتھ میری مدد کی گئی، مجھے زمین کی کنجیاں عطا کی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، میرے لئے مٹی کو پاکیزہ کرنے والی بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنا دیا گیا۔(مسند امام احمد، ومن مسند علی نی ابی طالب، 1،210، الحدیث749:)اس امت کا اتحادی شرعی دلیل ہے، چونکہ یہ بہترین امت ہے، اس لئے اس امت کا اتفاق و اتحاد بہت بڑی دلیل شرعی ہے جو اس سے ہٹ کر چلے وہ گمراہی کے راستے پر ہے چنانچہ قرآن پاک میں ہے۔ترجمہ کنزالعرفان:اور جو اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کے راستے سے جدا راستے کی پیروی کرے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدہر وہ پھر گیا ہے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ کتنی بری لٹنے کی جگہ ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرور کائنات ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے اور جو جماعت سے جدا ہوا وہ دوزخ میں گیا۔ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ، 4 /48، الحدیث2179:) بنی اسرائیل اور امت محمدیہ کی فضلیت میں فرق :اس آیت میں ہمارے آقا ﷺ کی امت کو تمام امتوں سے افضل فرمایا گیا اور بعض آیات میں بنی اسرائیل کو بھی عالمین یعنی تمام جنوں سے افضل فرمایا گیا ہے، لیکن ان کا افضل ہونا ان کے زمانے کے وقت ہی تھا جبکہ حضور سید المرسلین ﷺ کی امت کا افضل ہونا دائمی ہے۔ نیکی کی دعوت دینے کی ترغیب:یاد رہے کہ نیکی کی دعوت دنیا کا وہ عظیم منصب اور عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علہیم الصلوۃ و السلام کو عطا فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو مبعوث فرما کر نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا تو اس نے اپنے حبیب ﷺ کی امت کو اس منصب سے سرفراز فرما دیا اور اس عطیم خوبی کی وجہ سے انہیں سب سے بہترین امت قرار دیا، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بقدر توفیق نیکی کی دعوت دیتا اور برائی سے منع کرتا رہے، احادیث میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے، حضور پُرنو ﷺ سے عرض کی گئی، لوگوں میں بہتر کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : اپنے رب عزوجل سے زیادہ ڈرنے والا، رشتہ داروں سے صلہ رحمی زیادہ کرنےو الا، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا اور سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا (سب سے بہتر)، (شعب الایمان :السادس و الخمسون من شعب الایمان۔ 4/220، الحدیث7950:)ایک اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو نہ انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ہیں نہ شہداء میں سے، لیکن قیامت کے دن انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام اور شہداء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کا مقام دیکھ کر رشک کریں گے، وہ لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی، وہ کون لوگ ہیں ؟ ارشاد فرمایا، ’’یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ بنا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو اس کے بندوں کا محبوب بنا دیتے ہیں اور وہ لووں کو نصیحت کرتے ہوئے زمین پر چلتے ہیں، میں نے عرض کی، وہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں کا محبوب بنا دیتے ہیں (یہ بات تو سمجھ میں آ رہی ہے) لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ کیسے بناتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا، ’’وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ کاموں کا حکم دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ کاموں سے منع کرتے ہیں تو جب لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمانے لگتا ہے۔ (1) کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الفصل الثانی، 2/273، الجزء الثالث، الحدیث، 8455)
تازہ ترین