• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭… ایک اسکول میں زیر تعلیم بچے کو جب اس کے استاد نے کلاس میں ریپر پھینکتے دیکھا تو فوراً کہا ’’بیٹا اس کو اٹھائیں‘‘۔ بچے نے پلٹ کر جواب دیا کہ ’’سر! میں کوئی سویپر تھوڑی ہوں، تھوڑی دیر میں سوئیپر انکل آ کر اٹھا لیں گے۔‘‘

یہ اس بچے کا جواب نہیں تھا، یہ اس اسکول کا جواب تھا، جہاں وہ تعلیم حاصل کررہا ہے۔

٭… میں نے کئی نوجوانوں کو بغیر ہیلمٹ اور بغیر سیٹ بیلٹ باندھے سگنل توڑتے ہوئے پاکستان کے ٹریفک کے نظام کو گالیاں دیتے دیکھا ہے۔

٭… میں نے کئی نوجوانوں کو فٹ پاتھ پر پان کی پیک مارتے، اپنی گلی کے سامنے والی گلی میں کچرا ڈالتے، سگریٹ پی کر زمین پر پھینکتے اور پھر دبئی اور لندن کی صفائی ستھرائی کا ذکر کرتے دیکھا ہے۔

٭… اپنے مکان کی تعمیر کے دوران اچھے خاصے درخت کو کاٹتے اور اور پھر سنگاپور کی ہریالی کا ذکر کرتے سنا ہے۔

٭… میں نے کئی ماؤں کو چیختے ہوئے دیکھا ہے، جو اپنے بچوں کو چیخ کر کہتی ہیں کہ، چیخا مت کرو، میں کوئی بہری نہیں ہوں۔

٭… کئی باپوں کو مارتے ہوئے دیکھا ہے کہ جو بچوں سے کہتے ہیں، آئندہ بھائی کو ہاتھ مت لگانا ورنہ ہاتھ توڑ دوں گا۔

٭… اپنے گھر کی گیلری کو مخصوص جگہ سے زیادہ بڑھاتے اور گلی گھیرتے دیکھا ہے اور ان ہی کی زبان سے امریکا اور یورپ کی چوڑی چوڑی گلیوں اور سڑکوں کا ذکر سنا ہے۔

٭…میں نے مسجد کے باہر بیچ روڈ پر لوگوں کو گاڑی پارک کرتے دیکھا ہے کہ جن کو نماز کو دیر ہو رہی ہوتی ہے اور پھر ان ہی لوگوں سے کئی کئی گھنٹوں حقوق العباد پر لیکچر سنا ہے۔

٭… نہ جانے کتنے لوگوں کو شادی میں وقت کی پابندی اور سادگی اپنانے کی تائید کرتے دیکھا ہے اور پھر ان ہی کے گھر کی شادیوں میں وقت کو برباد ہوتے اور سادگی کی دھجیاں اڑتے دیکھا ہے۔

کچھ کام ہمارے کرنے کی بھی ہوتے ہیں ۔ ہم کو خود اپنے حصے کا کام پورا کرنا ہے، کیوں کہ تبدیلی راتوں رات نہیں آتی، معاشرہ فرد واحد سے تبدیل ہوتا ہے، جو اچھی چیز معاشرے کا حصہ بنا دیکھنا چاہتے ہیں وہ پہلے اپنے اندر لانی ہوگی۔

تازہ ترین