آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سندھ کے وزیر خوراک مچھر کے وار سے نہ بچ سکے

سندھ کے وزیر خوراک مچھر کے وار سے نہ بچ سکے
سندھ کے وزیر خوراک ہری رام کشوری لال ڈینگی بخار میں مبتلا ہوگئے

سندھ کے وزیر خوراک ہری رام کشوری لال بھی مچھر کے وار سے نہ بچ سکے، ڈینگی بخار میں مبتلا ہوگئے۔

ہری رام کشوری لال کے خون کے نمونے ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیے: جاپانی کمپنی پاکستان میں ڈینگی اسپرے کرے گی

کراچی سمیت ملک بھر میں ڈینگی کے شکار مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

قومی ادارہ برائے صحت کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہے جبکہ اس مرض میں مبتلا 250 سے زائد افراد کی موت واقع ہو چکی ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 27 ہزار ہے، جبکہ 44 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں ڈینگی کے وار جاری

دوسری جانب کراچی میں ڈینگی کے وائرس سے متاثرہ نارتھ کراچی کی رہائشی 20 سالہ لڑکی گذشتہ روزانتقال کر گئی۔ جس کے بعد کراچی میں رواں سال ڈینگی سے ہلاک افراد کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

محکمۂ صحت کے ذرائع کے مطابق انتقال کر جانے والی لڑکی کو گزشتہ ہفتے نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں رواں سال ڈینگی سے متاثرین کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات

ڈینگی کا مچھر خاص طور پر صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔ صبح اور شام میں اپنا جسم ڈھانپنے، پانی کا صحیح نکاس اس مچھر کو بیماری پھیلانے اور افزائش نسل سے روکنے میں خاصا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ حفاظتی اقدامات ہی اس وائرس سے بچاؤکا ذریعہ ہے۔

  • گھروں میں مکمل طور پر صفائی کا اہتمام کیا جائے، بالخصوص پودوں اور بیلوں کی کیاریوں میں مچھر مار ادویات سے اسپرے کرایا جائے۔
  • گھروں کے آس پاس پانی بالکل نہ کھڑا ہونے دیں۔
  • ڈینگی وائرس کا حامل مچھر گندے جوہڑوں اور تالابوں کی بجائے صاف پانی میں پرورش پاتا ہے، لہٰذا گھروں میں استعمال ہونے والی ٹینکیوں کو اچھی طرح صاف کیا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی اسٹور کرنے والے برتنوں کو صبح و شام صاف کیا جائے۔
  • بطور احتیاط پانی ابال کر استعمال کریں تو اچھا ہے۔
  • گھروں کی سجاوٹ کیلئے رکھے گئے پودوں کے گملوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور ان پودوں پر مچھر مار ادویات کا اسپرے تواتر سے کرتے رہیں۔
  • طبی ماہرین کے مطابق یہ مچھر رات کی بجائے طلوع و غروب آفتاب اور دن کے اجالے میں حملہ آور ہوتا ہے، لہٰذا مذکورہ اوقات میں مچھر کے حملوں سے بچاؤ کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
  • جسم کے کھلے حصوں پر مچھر بھگاؤ لوشن وغیرہ لگا ئیں، بچوں کے جسم پر لوشن ضرور لگائیں کیونکہ بچوں میں بڑوں کی نسبت قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے، یوں بچے ڈینگی وائرس کی زد میں جلد آجاتے ہیں۔
  • کمروں میں مچھر مار کوائلز اور میٹ استعمال کریں، رات کو دیگر حفاظتی تدابیر کے ساتھ ساتھ مچھر دانی لگا کر سوئیں۔
  • چھتوں کے اوپر رکھے گئے سازو سامان میں بھی مچھروں کی پرورش ہوتی ہے، لہٰذا ایسی تمام جگہوں کی صفائی کی جائے۔
  • اسٹور رومز میں پڑے سامان کو خصوصی طور پر نکال کر اس پر اسپرے کیا جائے اور کمرے کی چھت و دیگر الماریوں کو بھی صاف کرکے اسپرے کیا جائے۔

ڈینگی بخار ایک موذی مرض ہے تاہم کہاوت ’’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘‘ کے مصداق احتیاط کرکے اس سے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔

صحت سے مزید