آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان پیپلز پارٹی اپنے سیاسی قلعہ لاڑکانہ سے سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 11سے دوبارہ الیکشن ہار گئی ہے۔ اسی نشست پر اسے 25جولائی 2018کے عام انتخابات میں بھی شکست ہوئی تھی۔

17اکتوبر 2019کو اس نشست پر ضمنی انتخابات ہوئے تو لوگوں کو اس بات کی قوی امید تھی کہ پیپلز پارٹی بہر صورت اس نشست پر کامیابی حاصل کرے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ جس سے نہ صرف پیپلز پارٹی کے حامی حلقوں میں مایوسی پیدا ہوئی بلکہ بعض حلقے پاکستان خصوصاً سندھ کی سیاست میں تبدیلی کی باتیں کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا مستقبل کیا ہے؟

انتخابات میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، اسے پیمانہ بنا کر کسی سیاسی جماعت کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنا مناسب نہیں کیونکہ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات از خود سوالیہ نشان ہیں مگر پی ایس 11لاڑکانہ کی نشست کے لئے پیپلز پارٹی کی شکست سے ’’Myth‘‘ ٹوٹ گئی ہے یعنی لوگوں نے پیپلز پارٹی کے بارے میں جو سوچ رکھا تھا، وہ سوچ نہیں رہے۔

اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ نشست ضلع لاڑکانہ کی ہے۔ لاڑکانہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کا آبائی ضلع ہے۔ بھٹو کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی آصف علی زرداری سے اپنی شادی کے باوجود لاڑکانہ سے اپنی نسبت کو برقرار رکھا اور نوڈیرو میں اپنے دادا سرشاہ نواز خان بھٹو کی رہائش گاہ پر ایک بڑا سا بورڈ نصب کرایا، جس پر ’’محترمہ بے نظیر بھٹو کی رہائش گاہ‘‘ لکھا ہے۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری بھی لاڑکانہ سے اپنی نسبت کا ویسے ہی اظہار کرتے ہیں۔ لاڑکانہ سے کسی انتخابی حلقے پر پیپلز پارٹی کی شکست لوگوں کے لئے کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ضلع لاڑکانہ گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان کی سیاست کا محور رہا ہے۔ گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بےنظیر بھٹو اور دیگر شہداء کے مزارات پاکستان میں سیاسی مزاحمت کا قلعہ اور نظریاتی سیاست کا سرچشمہ ہیں۔

جن عوامل کی بنیاد پر لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی ہے، یہ عوامل پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ سے رہے ہیں۔ مثلاً طاقتور حلقوں کی مداخلت، انتخابی نتائج پر اُن کے اثر انداز ہونے، مخالف سیاسی قوتوں کے ہتھکنڈے، برادری ازم اور دیگر عوامل ہمیشہ رہے ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی مزاحمتی اور نظریاتی سیاست کے آگے یہ تمام عوامل کارگر نہیں رہے مگر لاڑکانہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ناکامی سے اس امر کی نشاندہی ہوئی ہے کہ مذکورہ بالا عوامل پیپلز پارٹی کی سیاست کے آگے کارگر ہو چکے ہیں۔

اس بات پر پارٹی کی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ پہلے لوگ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ امیدوار کون ہے۔ صرف وہ پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان پر مہر لگاتے تھے۔ اب یہ کیفیت کیسے تبدیل ہوئی؟ اس سوال کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

انسانی سماج اور سیاسی عمل ارتقا پذیر ہیں۔ سیاسی جماعتیں بدلتے ہوئے حالات کا درست تجزیہ کرکے عوام سے اپنے رشتے کی تجدید کرتی رہتی ہیں۔ بڑی سیاسی تحریکوں سے بننے اور مقبول ہونے والی دنیا کی بہت سی سیاسی جماعتیں تاریخ میں اتار چڑھائو کا شکار رہی ہیں لیکن صرف وہی سیاسی جماعتیں موثر رہتی ہیں، جو نئی نسلوں کے تقاضوں کو سمجھتی ہیں اور محروم طبقات کو ہر عہد میں حقیقی قیادت فراہم کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو بہت کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت پاکستان کی سیاست تیزی کے ساتھ ہیئت مقتدرہ کے ہاتھوں میں واپس جا رہی ہے، جو 1960اور 1970کے عشروں سے اس کے ہاتھوں سے نکل گئی تھی۔ صرف بڑے سیاسی جلسے کرکے یہ کہنا درست نہیں ہوتا کہ پارٹی مضبوط ہے۔ 17اکتوبر کو لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات میں شکست کے دوسرے دن 18اکتوبر پیپلز پارٹی نے کراچی میں ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا۔ جلسہ کرنا ایک میکانکی عمل بن گیا ہے۔

یہ حقیقی سیاست نہیں ہے۔ حقیقی سیاست یہ ہے کہ پارٹی کا نچلی سطح پر لوگوں سے تعلق ہو اور ابھرتے ہوئے سیاسی تضادات میں کسی مصلحت کے بغیر پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔ سمجھوتے سیاسی کمزوری کا سبب بنتے ہیں۔ لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات میں شکست کو معمولی نہیں لینا چاہئے۔ لاڑکانہ کے عوام کی وابستگی اور ان کے فیصلوں کا اثر پیپلز پارٹی کی ملکی سیاست پر پڑتا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی حالات کا ازسر نو جائزہ لے۔ پہلے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر جانے والے سیاسی طور پر ختم ہو جاتے تھے لیکن عباسی خاندان نے پیپلز پارٹی کو نہ صرف چھوڑا بلکہ لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کے خلاف الیکشن بھی جیتا۔ یہ ایسی بات ہے کہ، جو بہت سی ایسی باتوں کا عندیہ دیتی ہے، جن کے بارے میں کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں فوری طور پر حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ پیپلز پارٹی کو نچلی سطح پر عوام سے اپنا رابطہ بحال کرنا ہوگا اور ان لوگوں کو آگے لانا ہوگا، جو نچلی سطح پر عوام سے رابطے میں ہوتے اور ان کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔

ان لوگوں سے دوری اختیار کرنا ہوگی، جو ہر وقت قیادت کے سامنے رہنے کو اپنی سیاسی کامیابی تصور کرتے ہیں۔ اُن لوگوں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ عوام کے پاس جا سکیں۔

دوسری سیاسی جماعتوں کا بھی اگرچہ یہی حال ہے لیکن وہ عوام کی سیاست نہیں کرتیں۔ پیپلز پارٹی کو چاہئے کہ وہ اب ملک خصوصاً اپنے صوبہ سندھ میں مقامی اور بلدیاتی حکومتوں کا موثر نظام وضع کرے اور نچلی سطح سے نئی قیادت پیدا کرے۔

سیاست اور حکومت میں جب تک اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوں گے، نہ تو عوام کے مسائل کا پتا چلے گا اور نہ ہی حقیقی عوامی قیادت میسر آئے گی، وقت بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بارے میں پھر ایک بار اس حقیقت کی نشاندہی ضروری ہے کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)