آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ مشروط طلاق سے کیا مراد ہے؟یہ کن صورتوں میں دی جاسکتی ہے؟ یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں، مشروط طلاق دینے کی مثال بھی بیان فرمادیں۔ (یونس علی،کراچی)

جواب:۔ شوہر طلاق کاوقوع کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر منحصر کردے تو اسےمشروط طلاق کہتے ہیں مثلاًیوں کہے کہ : ”اگر تونے فلاں کام کیا تو تجھے طلاق ہے“چناںچہ اگر بیوی نے وہ کام کرلیا تو طلاق ہوجائے گی ۔شرط جائز ہوتو اس پر طلاق کو معلّق کرنا بھی جائز ہے اورشرط ناجائز ہوتو اس پر طلاق کومعلّق کرنا بھی ناجائز ہے۔نفس طلاق کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جن صورتوں میں طلاق دینا جائز ہو، ان میں مشروط طلاق دینا بھی جائز ہے، مثلاًمیاں بیوی میں ناچاقی اور کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ حقوق اللہ اورایک دوسرے کے حقوق کی پامالی ہورہی ہے اور مصالحت کی کوئی صورت نہیں بن رہی توطلاق دینا جائز ہے اوراس جیسی صورت حال میں مشروط طلاق دینا بھی جائز ہے۔(عالمگیری(1/420، الفصل الثانی فی تعلیق الطلاق۔رد المحتار3/ 227)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

اقراء سے مزید