آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لڑکی زیادتی کانشانہ بنانے والوں کی گنتی بھی بھول گئی

لندن( پی اے ) ایک نوجوان لڑکی سے زیادتی کے ایک مقدمے میں متاثرہ لڑکی نے برمنگھم کرائون کورٹ کو بتایا کہ اسے اس بیدردی سے جنسی زیادتی کانشانہ بنایا گیا کہ اب تو وہ زیادتی کرنے والے مردوں کی گنتی بھی بھول چکی ہے۔لڑکی نے بتایا کہ اسے چرچ کے دالان ، ایک دکان کی اوپری منزل پر ،گندے گدوں پر زیادتی کانشانہ بنایا گیا اور اس کے انکار پر اس کو تشدد کانشانہ بنایاجاتاتھا، جبکہ زیر حراست 5 ملزمان میں سے ایک نے اس کے اوپر پیشاب بھی کر دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق اس جرم کاسلسلہ ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے ٹیل فورڈ میں اس وقت شروع ہوا جب لڑکی جو اب بالغ ہوچکی ہے کی عمر صرف 12سال تھی،پیر کو مقدمے کا آغاز کرتے ہوئے کیوسی میچل ہیلے نے کہا کہ یہ ایک ایسی لڑکی کے جنسی استحصال کا مقدمہ ہے جسے جنسی رشوت کے طورپر ایک گوشت کے ٹکڑے کی طرح مختلف نوجوانوں کو منتقل کیا جاتا رہا جن میں سے کچھ کٹہرے میں ہیں،تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھوں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی جبکہ استغاثہ نے عدالت سے کہا کہ شواہد سننے کے بعد آپ کو یقین آجائے گا کہ ملزمان جرم کے مرتکب ہوئے ہیں،لڑکی نے بتایا کہ کمسنی میں اس کی تنویراحمد نام کے ایک شخص سے دوستی ہوگئی تھی جو شہر میں پرفیکٹ پزا لوگوں کوپہنچاتا تھا۔جیوری کو بتایا گیا کہ جگہ

لڑکی کے اس بیان سے مطابقت رکھتی ہے کہ اسے دکان کے اوپر زیادتی کانشانہ بنایاگیا۔جیوری کوبتایا گیا کہ تنویر احمد گرفتار کئے گئے ملزمان میں شامل نہیں ہے کیونکہ اسے کسی اور جرم پر پاکستان واپس بھیجا جاچکاہے۔عدالت کوبتایا گیا کہ اس کے بعد تنویر نے اسے دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرنا اوراسے سیکس کیلئے اس کی تفصیلات کے ساتھ فروخت کرنا شروع کردیا۔اس طرح لڑکی زیر حراست ملزمان علی سلطان کے رابطے میں آئی جو اسے بالکل اسی طرح دوسرے لوگوں سے ملوانے کیلئے لے گیا جیسے تنویر احمد ،لوگ اسے فون کرتے تھے اور تنویر احمد اورعلی سلطان اس کاجواب دیتے تھے اور اسے مردوں کی خواہش کے مطابق کرناپڑتاتھا، زیادتی کے یہ واقعاات مخلتلف مقامات پر ہوتے تھے جن میں چرچ کادالان،پرفیکٹ پزا اور دوسرے مقامات شامل ہیں،لڑکی ہیلی نے بتایا کہ علی سلطان اسے گالیاں دیتا تھا بعض اوقات اسے تھپڑ بھی مارتا تھا اور بال کھینچتا تھا لڑکی نے الزام عاید کیا کہ علی سلطان اسے ریکن لے گیا اور اسے تشدد کانشانہ بنایا اور میرے انکار کرنے پر مجھے اور میرے گھر والوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیتاتھا،6مردوں اور6 خواتین پر مشتمل جیوری کوبتایا گیا کہ علی سلطان کو اسی طرح کے جرم میں 2012اور2015 بھی سزائیں ہوچکی ہیں اس مقدمے کے دیگر ملزمان میں 38 امجد حسین،35سالہ شفیق یونس، محمد رضوان اور ناظم اختر شامل ہیں۔

یورپ سے سے مزید