آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عراق امریکا جوائنٹ ملٹری آپریشنز دوبارہ شروع


عراق میں امریکا اور عراق کے جوائنٹ ملٹری آپریشنز تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہو گئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے ماہِ رواں عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کے بعد یہ مشترکہ آپریشنز روک دیے گئے تھے۔

دوسری جانب گزشتہ روز بغداد کے قریب عراقی فوجی اڈے کیمپ تاجی Camp Taji پر راکٹوں سے حملہ ہوا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق بغداد کے قریب واقع عراقی فوجی اڈے کیمپ تاجی Camp Taji پر 2 راکٹ داغے گئے، تاہم راکٹ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: پاکستانی عراق جانے سے خصوصی طور پر احتیاط برتیں

عراقی فوجی اڈے پر امریکی اتحادی افواج بھی موجود ہیں، راکٹ حملے کی ذمے داری تاحال کسی گروپ نے تسلیم نہیں کی ہے۔

ادھر ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے احکامات دینے کا اعتراف کیا ہے جو عدالت میں پیش کیا جانے والا مضبوط ثبوت ہو سکتا ہے۔

ترجمان ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی فوجی ایکشن دہشت گردی کی کارروائی تھی، عالمی عدالت میں کیس طوالت اختیار کر سکتا ہے لیکن ایران اسے اختتام تک پہنچائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے: امریکا نے عراق میں اپنی فوج پر حملوں کی تصدیق کردی

اس سے قبل ترجمان ایرانی عدلیہ نے کہا تھا کہ یوکرین کا طیارہ غیر ارادی طور پر مار گرائے جانے کے الزام میں کچھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کانفرنس میں شرکت کے لیے موجود ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا کو خطے میں کشیدگی ختم کرنے کے بارے میں سوچنا ہو گا، نہیں جانتے کہ برطانوی وزیرِ اعظم کی مجوزہ ٹرمپ ڈیل کب تک چلے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو پسند نہیں کرتا تھا، جنرل سلیمانی کے قتل پر ایران، عراق، بھارت اور روس میں 10 ملین افراد سڑکوں پر نکلے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ سلیمانی کےقتل پر امریکی عوام نہیں بلکہ ٹرمپ، پومپیو اور داعش خوشیاں منا رہے ہیں، امریکا کو خطے کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے، وہ غلطی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: عراق، بغداد کے شمالی میں فوجی اڈے پر راکٹ حملہ

واضح رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کی جانب سے ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے کو ’ٹرمپ ڈیل‘ سے تبدیل کرنے کی تجویز کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی حمایت کا یقین دلا دیا ہے جس پر ایران نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید