آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کشمیر کی گھمبیر صورتحال پر خصوصی توجہ دی جائے، علی رضا سید

چیئرمین کشمیرکونسل یورپ (کے سی ای یو) علی رضا سید نے یورپی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورتحال پر خصوصی توجہ دیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے یورپی کونسل کے صدر چارلس مشل، یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا گرترود وون در لیئن اور یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتی نمائندے جوزف بوررل فونتلیس کو گذشتہ روز خطوط لکھے ہیں۔

خطوط میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال پر ہمیں بہت دکھ ہے لیکن ساتھ ساتھ ہم آپ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورتحال کی طرف دلانا چاہتے ہیں۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے یورپی حکام کو لکھے گئے خطوط میں مزید کہاگیا ہے کہ دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی کرونا وائرس نے لوگوں کے مصائب کو بڑھایا ہے جہاں مظلوم کشمیری پہلے ہی گذشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے نافذ کردہ کرفیو کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

خطوط میں بتایا گیا ہے کہ جب سے پچھلے سال اگست میں بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے، اس وقت سے مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ جاری ہے اور ہزاروں کشمیری سیاسی ورکرز بھارتی جیلوں میں ہیں۔

خطوط میں مطلع کیا گیا ہے کہ اب بھارت کرونا وائرس کی وبا کی آڑ میں سخت پابندیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں خبروں کو کنٹرول کررہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے مصائب کے بارے میں صحیح اطلاعات دنیا تک نہ پہنچ سکیں جبکہ آزاد ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کے باعث ادویات کی پہلے ہی قلت ہے اور اب کورونا کا مقابلہ کرنے والے میڈیکل سٹاف کو ضروری آلات میسر نہیں۔ 

اسی وجہ سے وہاں کورونا مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے اطلاعات تک رسائی محدود ہیں اور عام میڈیا پر بھی سخت پابندیاں ہیں جس سے درست خبروں تک دسترس ممکن نہیں۔

اب بھارت نے کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل قانون کو تبدیل کردیا ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں غیرکشمیری باشندوں کے اس متنازعہ خطے میں مستقل قیام کو قانونی شکل دینا ہے، یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے جن میں جموں و کشمیر میں رائے شماری کے ذریعے خطے کے سیاسی مستقبل کے فیصلے پر زور دیا گیا ہے۔ 

ان قراردادوں میں بھارت اور پاکستان کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اس رائے شماری سے قبل خطے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل نہیں کریں گے۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے اپنے خطوط میں یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ یونین حکام مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے اقدام کریں اور بھارت کو جموں و کشمیر کے متنازعہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سے روکیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید