آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آئی جی سندھ سمیت کئی اعلیٰ پولیس افسران کا چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ


سندھ کے محکمہ پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) مشتاق مہر سمیت کئی افسران نے ایک ساتھ چھٹی پر جانے کا فیصلہ کرلیا۔

ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں پولیس فورس کے اعلیٰ ترین افسران نے ایک ساتھ چھٹیوں کے لیے درخواست دی ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے واقعے کے بعد پولیس فورس میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چھٹی پر جانے جانے والوں میں آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس اور متعدد ڈی آئی جیز شامل ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ تمام افسران نے چھٹیوں کے لیے درخواستیں تیار کرلیں، درخواستیں حکومت سندھ کو ارسال کی جارہی ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع نے کہا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے اپنی درخواست بھی دے دی۔

ادھر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اعلیٰ پولیس افسران کی بے عزتی کی گئی ہے۔

چھٹی پر جانے والے پولیس افسران کے نام

ذرائع کا کہنا ہے کہ چھٹی پر جانے والوں میں آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن اور ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس کراچی شامل ہیں۔

ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ثاقب میمن، ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض، ڈی آئی جی ویسٹ عاصم قائمخانی اور ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیق بھی درخواست دینے والوں میں شامل ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ قمر الزماں، ڈی آئی جی ایڈمن امین یوسفزئی اور ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف بھی چھٹی کی درخواست دینے والوں میں شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ، ڈی آئی جی سکھر فدا حسین مستوئی، ڈی آئی جی لاڈکانہ ناصر آفتاب اور ڈی آئی جی میرپورخاص ذوالفقار لاڑک، ڈی آئی جی نوابشاہ مظہر نواز شیخ بھی چھٹی کی درخواست دینے والوں میں شامل ہیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سینئر پولیس افسران کی ایک ساتھ چھٹی پر جانے کے بعد محکمے میں خلا پیدا ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی آئی تھیں۔

اس دوران انہوں نے سب سے پہلے مزارِ قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی بھی کی، تاہم فاتحہ کے بعد مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر نے مزار قائد میں سیاسی نعرے بازی کی۔

بعد ازاں شہری وقاص احمد کی جانب سے اس معاملے میں کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا جس میں مزارِ قائد کی بے حرمتی سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں۔

اس حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ واقعے کی ایف آئی آر صبح تقریباً 5 بجے کے قریب کٹوائی گئی جبکہ 6 سے ساڑھے 6 بجے کے درمیان کیپٹن (ر) صفدر کو مقامی ہوٹل سے گرفتار کیا تھا۔

مقدمے کے اندراج سے متعلق متعدد افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ آئی جی سندھ پولیس پر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کروانے  کے لیے دباؤ تھا۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کہا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے اور گرفتاری سے متعلق دباؤ تھا۔

تاہم سینئر پولیس افسران کے چھٹی پر جانے کے فیصلے سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس معاملے کی انکوائری کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید