• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’شعبان المعظم‘‘ کی پندرہویں شب کے احکام و فضائل

ڈاکٹر اقبال احمد اختر القادری

یوں توپورے ماہِ شعبان المعظم میں ہر روزوشب رحمت خدا وندی کانزول خوب ہوتاہے، مگر ان شب وروز میں اہم ترین شب ، شب برأت ہے جو چودہ شعبان المعظم کا دن گزرنے کے بعد آنے والی پندرہویں شب ہے ۔اس رات کو اللہ تعالیٰ عزوجل کی رحمت کا بندوں پر بے پنا ہ نزول ہوتاہے۔لوگوں پر انعامات خدا وند ی کی بے پنا ہ بارش ہوتی ہے ‘اس رات کا ہر لمحہ اپنے اند ر ہزاروں انو ارو برکات رکھتا ہے ۔

حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا : اس ماہ کا نام شعبان اس لیے رکھا گیا کہ اس ماہ میں رمضان کے لیے بےشمار نیکیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور رمضان نام اس لیے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گنا ہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شیخ عبد القادر جیلانی،الغنیۃ الطالبین ،مترجم، ص: ۳۴۰)

حضرت ابو ہریر ہؓسے مر وی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا: شعبا ن میرا مہینہ ہے ، رجب اللہ کا اور رمضان میری اُمت کا۔شعبان گناہوں کو دورکرنے والا ہے اور رمضان بالکل پاک کردینے ولا۔ (ایضاً، ص: ۳۴۱)

شیخ عبد القا در جیلا نی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: رجب اور رمضان کے درمیان شعبا ن کا مہینہ ہے ، لوگ اس سے غفلت کرتے ہیں، حالانکہ اس ماہ میں بند وں کے اعمال رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ، اس لیے میںپسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے حضور اس طرح پیش ہوں کہ میرا روزہ ہو ۔(ایضاً، ص: ۳۴۱)

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺنے فرمایا: رجب کا شرف اور فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسے دوسرے کلاموں پر قرآن مجید کی فضیلت، اور تمام مہینوںپرشعبان کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام انبیاء پر میری فضیلت ہے، اور رمضان کی فضیلت دوسرے مہینوں پر ایسی ہے جیسے تمام کائنات پر اللہ کی فضیلت۔(ایضاً، ص: ۳۴۱)

ارشا دنبو ی ﷺہے کہ شعبان کی پند رہویں رات کوغنیمت جانوکہ وہ ظاہر ہے اور شب قد ر (۲۷؍ویں شبِ رمضان) اگر چہ بزرگ ترہے، لیکن پنہا ں ہے ، تمہیں چاہیے کہ اس رات میں اچھے کام کر ،و تاکہ کل قیامت کے دن شرمند ہ نہ ہو، اسے خو شخبری ہے جواس شب کو نیکی کرے ۔ (انیس الو اعظین بحو الہ: سبیل الحسنا ت ، ص: ۳۱ )

حضورا کرم ﷺنے فرمایا : نصف شعبان کی شب رب کائنات اپنے بندوں پر خاص نظر رحمت فرماتا ہے ۔ (نز ہۃ المجا لس ) مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ رحمتوں اوربرکتوں کے درواز ے چار راتوں میں کھول دیتاہے، ان میں ایک شب برأت ہے۔(الغنیۃ الطالبین )

نزہۃ المجا لس میں یہی روایت اس طرح ہے کہ جن چار راتوں میں اللہ تعالیٰ خیر کو بہا دیتا ہے، شب برأت ان میں سے ایک ہے۔ فرمایا، بے شک، اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فضل ورحمت فرماتا ہے اور بنو کلب (عرب میں ایک قبیلہ کانا م بنو کلب تھا جن کے ہاں بکر یاں بکثر ت ہوا کرتی تھیں) کی بکر یوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ، تر مذی شریف بحوالہ سبیل الحسنات ، ص: ۳۲)

حضرت علی المر تضیٰؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جب شعبان کی پند رہویں رات ہوتو اس میں قیام کر و (یعنی نوافل پڑھو ) اور دن کو روزہ رکھو‘بے شک اللہ تعالیٰ اس رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتاہے (یعنی رحمت کے لحا ظ سے اپنے بند وں کے قریب ہوتا ہے ) اور غروب آفتا ب سے طلو ع آفتا ب تک فرماتا ہے کہ ہے کوئی طالب بخشش ، جسے بخش دوں !… ہے کوئی طالب رزق ‘جسے روزی دوں !… کیا کوئی آفت رسید ہ ہے ‘جسے عافیت دوں !… ہے کوئی حاجت والا ‘طلب والا !

نز ہۃ المجا لس میں ہے کہ حضوراکرم ﷺنے فرمایا:جو شخص شب برأت کو عبا دت کے لیے بیدار رہتا ہے، اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن کہ دوسروں کے دل مُردہ ہوں گے ۔(سبیل الحسنا ب ، ص: ۴۲ )

حضور اکرم ﷺنے فرمایا : جو شخص دوزخ سے نجات چاہتا ہو،اسے چاہیے کہ وہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی خو ب عبا دت کرے ، اللہ تعالیٰ اس رات میں اپنے بند وں پر تین سودروازے رحمت کے کھول دیتا ہے اوربخش دیتا ہے ،سب کو مگر مشرک ، جا دوگر ، نجو می ، بخیل ، شرابی ، سود خور ، زانی اور فتنہ با ز کو نہیں بخشتا، جب تک کہ وہ سچے دل سے توبہ نہ کرلیں۔

افسوس صد حیف ! کیسی عجب بات ہوگی کہ ہم با وجو د از سرتا پاگنا ہوں میں ڈوبے ہونے کے‘ ایسے مبارک موقع سے فائدہ نہ اُٹھا سکیں! اور بجا ئے نیک اعمال ، توبہ واستغفا ر کے اس مقد س رات کو فضو ل کا موں میں ضائع کردیں!آتش با زی ، ہوٹلو ں اورتفر یحی مقامات میں گز اریں !…

حضرت عطا ء بن یسا رؓ سے مر وی ہے کہ جب ما ہ شعبان کی پند ر ہویں شب آتی ہے تو ملک المو ت کو ہر اس شخص کا نام لکھوادیا جاتا ہے جو اس شعبان سے آئند ہ شعبان تک مرنے والا ہے ، آدمی عورتوں سے نکاح کرتاہے ،پودے لگاتا ہے ،عمارتیں بناتا ہے حالا نکہ اس کانام مُردوں میں ہوتا ہے اور ملک الموت اس انتظار میں ہوتاہے کہ کب اسے حکم ملے اور وہ اس کی روح قبض کرلے …(مکاشفۃالقلوب ، ص: ۶۸۴)

اس شب ’’ صلوٰۃ التسیج ‘‘ پڑھنا بھی بہت افضل ہے ۔حضوراکرم ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓکو اس کی تاکید فرمائی تھی ۔

جب شعبان کی پند رہویں شب ہوتورات کو قیام کریں اور دن کو روزہ رکھیں…’’بہار شریعت‘‘ میں ہے کہ حضوراکرم ﷺ شعبان کے ایام بیض (۱۳۔ ۱۴۔۱۵ شعبا ن ) کے روز ے رکھا کرتے تھے …’’سبیل الحسنات‘‘ میں ہے کہ حضوراکرم ﷺنے فرمایا :جس نے پندرہ شعبان کا روزہ رکھا اسے دو سال کے روز وں کا ثواب ملے گا۔

ہما رے معا شرے میں آتش بازی ایک عام بات ہوگئی ہے‘ اس کا زیا دہ تراستعمال شب برأت میں ہونے لگا ہے۔یہ ایک خطر ناک اور قبیح رسمِ ہند وانہ ہے جو کہ ہما رے معاشرے میں داخل ہوگئی ہے جو سراسر نقصان دہ چیز ہے‘ ہر سال شب برأت کے مبارک موقع پر اس لعنت سے کتنے ہی گھر نذر آتش ہوجاتے ہیں اور کتنی ہی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں ‘آتش با زی سے اللہ ورسول ﷺنا راض ہوتے اور شیطان خوش ہوتاہے ۔یہ ایک فضول خر چی ہے جسے اسلام نے سخت منع فرمایا ہے۔ذراسوچیں توکتنا سرمایہ نذر آتش کرکے ہم خود کو آتش دوزخ کا مستحق بنارہے ہیں ؟

اللہ تعالیٰ عز وجل ہم سب مسلمانوں کو شعبان المعظم اور شب برأت کے فیوض وبر کات سے مستفیض فرمائے ۔(آمین )

تازہ ترین