• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ…مریم فیصل
کوویڈکے ساتھ یہ دوسرا رمضان ہے اور یقینا اس ماہ مبارک میں بھی یہی دعا سر فہرست ہے کہ کورونا سے نجات مل جائے ۔ اب تک تین ملین سے زائد لوگ اس وبا سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں اور انفیکشن کیسز بھی کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں ۔ ایک بہت مشکل دور ہے جس سے تمام دنیا نبرد آزما ہے ویکسنز بھی دستیاب ہیں لیکن ابھی بھی اس سے مکمل نجات کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ ابھی بھی کئی ممالک میں اس کی تیسری لہر شدت سے جاری ہے خاص کر زیادہ آبادی والے ممالک کو اس کی تیز لہروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ جس ملک میں زیادہ آبادی ہوگی اتنا ہی تیزی سے اس وائرس کو پھیلنے کا موقع ملے گا کیونکہ زیادہ آبادی کا مطلب زیادہ بھیڑاور زیادہ ہجوم ہے۔پھر ہر ملک کے لئے یہ ممکن بھی نہیں کہ وہ اپنے عوام کو مکمل لاک ڈاؤن میں بند کرکے گھروں میں بیٹھا کر کھانے کمانے کی سہولتیں مہیا کرے ۔ اسی لئے ایشیائی زیادہ آبادی والے ممالک میں اس وائرس سے لڑنے کی جدوجہد زیادہ طویل اور سخت ثابت ہورہی ہے ۔ انڈیا کو ہی لیجیے ایک دن میں دو، دو لاکھ سے زائدکیسز اوپر سے کمبھ کا میلہ، انتخابات اور عوام کا ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ۔ان اسباب سے صورتحال بہت خراب ہو چکی ہے ۔ اسی طرح پاکستان میں بھی جہاں اب تک کورونا کو گورے کی بیماری کہہ کر نظر انداز کیا جارہا تھا آبادی کے تناسب سے کم ٹیسٹنگ کے باوجود بھی کیسز اور اموات کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہاں بھی ایس او پیز پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا جارہا ۔ اگرچہ ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں اضافہ سننے میں آرہا ہے لیکن صرف اکیلے ویکسین کام نہیں کرے گی سماجی فاصلوں کا خیال بھی لازمی ہے ۔ لیکن مسئلہ وہاں بھی یہی ہے کہ عمران خان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ گرتی پڑھتی معیشت کے ساتھ عوام کو گھروں میں بند کر کے تمام سہولتیں مہیا کردیں اگرچہ ان کی پاکستانی نظام کو سدھارنے کی جدوجہد میں کسی قدر کامیابی ڈالر کی قدر میں کمی سے نظر تو آرہی ہے اور ماہ مبارک میں اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں کمی کرکے بھی وہ عوام کی شکایات کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن خان صاحب کو کرپشن زدہ معاشرے کے ساتھ کورونا جیسے وائرس کا سامنا ہے جو شکلیں تبدیل کرکر کے وار کئے جارہا ہے ۔ ایسے میں لوگوں کی بے احتیاطی کا بھی کیا خوب کہنا کہ جس عوام کوتعلیمی اداروں کے بند ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ بازار وں کے بند ہونے یا اوقات میں کمی پر خوب شکایت کرنے لگتے ہیں۔ بچے بھلے اسکول نہیں جائیں لیکن مال نہیں بند ہونے چا ہئیں۔ لیکن ہاں جہاں تعریف کی بات ہے وہاں عوام نے ماہ مبارک میں بڑی قربانی دی ہے اور مساجد جاکر عبادات کرنے کے بجائے گھروں میں ہی تراویح وغیرہ کا اہتمام کیا ہے جو کہ یقینا قابل ستائش عمل ہے اور اسی صبر کا انعام جلد ہیاس وبا سے نجات کی صورت ملے گا ۔ بس باقی معاملات میں بھی ایسے ہی صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔
یورپ سے سے مزید