• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’لوری‘‘ کا ذکر تو سب نے سنا ہوگا بلکہ بچپن میں لوری بھی سب نے سنی ہوگی لیکن بہت کم لوگ ’’جاگوریــ ‘‘کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمیں بھی اس کا علم نہیں تھا پروفیسر سحر انصاری صاحب سے ایک روز ادبی گپ شپ ہورہی تھی تو انھوں نے بتایا کہ اردو میں ایک عجیب اور منفرد صنف ’’جاگوری ‘‘ بھی ہے اور لوری کے برعکس یہ بچوںکو جگانے کے لیے گائی جاتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ مسلم ضیائی صاحب نے اردو میں جاگوریاں لکھی تھیں اوراپنے رسالے میں شائع بھی کی تھیں جو وہ ’’تارا‘‘ کے نام سے بچوں کے لیے نکالتے تھے۔

لیکن اردو میں جاگوری یاا س طرح کی دیگر منفرد اور دل چسپ اصناف پر تفصیلی تحقیقی کام کم ہوا ہے۔ ایک غور طلب بات یہ ہے کہ اردو کی کئی منفرد اصناف خواتین کی تخلیق ہیں۔ یہاں کوئی تفصیل دینی تو ممکن نہیں ہے اور نہ یہ کوئی تحقیقی مقالہ ہے لیکن اردو کی چند دل چسپ اور مختلف قسم کی اصناف کاسرسری سا ذکر اس خیال سے یہاں کیا جارہا ہے کہ شاید قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہو اور ممکن ہے تحقیق و تنقید کے کسی طالب علم کو اس موضوع پر کام کا خیال بھی آجائے ۔

ہاں البتہ لوری پر کچھ کام ہوچکا ہے اور محمدی بیگم (امتیاز علی تاج کی والدہ) نے اردو کی لوریاں جمع کرکے ایک مختصر سا مجموعہ شائع کروایا تھا۔مالک رام نے لکھاہے کہ حامد اللہ افسر نے بھی کچھ لوریاں لکھی تھیں۔ ڈاکٹر قمر رئیس کے مطابق لوری کا مقصد صرف بچے کو سُلانا یا ممتا کا اظہار نہیں ہے بلکہ لوری کی وجہ سے بچہ اپنی مادری زبان اور اس کے آہنگ سے ابتدائی تعارف بھی حاصل کرلیتا ہے ۔

ہمارے ہاں شادی بیاہ میں جو گیت گائے جاتے ہیں ان کا مطالعہ بھی بہت دل چسپ ہے اور ان سے بہت سے سماجی حالات سے پردہ اٹھتا ہے ، مثلاً شادی بیاہ کے گیتوں میں سمدھن کو جلی کٹی سنانا یا نند کو بُرا بھلا کہنا کچھ نہ کچھ وجوہ اور معنی رکھتا ہے۔ یہ گیت شادی کے مختلف مرحلوں مثلاً منہدی ، مایوں اور رخصتی وغیرہ کی مناسبت سے گائے جاتے ہیں۔’’کاہے کو بیاہی بدیس‘‘ جیسا معروف گیت امیر خسرو سے منسوب ہے۔سید احمد دہلوی، بشیرالدین احمد اور اظہر علی فاروقی نے شادی کے گیتوں پر کام کیا ہے اور انھیں جمع بھی کیا ہے۔

ظاہر ہے کہ شادی کے بعد اگلا مرحلہ بچے کی ولادت کا ہوتا ہے اور اس موقع کے لیے بھی اردو میں گیت موجود ہیں جنھیں زچہ گیریاں کہتے ہیں۔امید سے ہوجانے سے لے کر ولادت تک کے مختلف مراحل کے لیے الگ الگ گیت ہیں ۔ ان گیتوں کو شاہد احمد دہلوی، اظہر علی فاروقی اور بسم اللہ نیاز نے پیش کیا ہے۔ لیکن معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اب ان روایات میں بھی فرق پڑرہا ہے اور زچہ گیریاں اور اس قسم کے دوسرے گیت معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

ساون کے گیت بر عظیم پاک و ہند کی خاص روایت ہے ۔ وہ دور تو اب لَد گیا جب لڑکیاں بالیاں برسات کے موسم میں پیڑوں پر جھولے ڈالتی تھیں ۔ آموں کا موسم ہواور اس میں بارش ہو توپکوان اور آم کے ساتھ ہم جولیوں کے ساون کے گیت سماں باندھتے تھے۔ لیکن اب ساون کے گیت اُس دور کی نشانی کے طور پر ہی باقی رہ گئے ہیں۔یہ گیت بہت زمانے سے چلے آرہے ہیں اور محمد حسین آزاد نے ’’آب ِ حیات ‘‘ میں امیر خسرو کے ذکر میںساون کے اس مشہور گیت کو امیر خسرو سے منسوب کیا ہے :

اماّں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا

لیکن محققین کا خیال ہے کہ امیر خسرو سے منسوب اردو شاعری میں سے خا صا کلام ایسا ہے جس کے امیر خسرو کی تخلیق ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

ایک اور خاصی قدیم صنف جو اردو اور ہندی میں موجود ہے بارہ ماسہ کہلاتی ہے۔ ماسہ یا ماسا مہینے کو کہتے ہیں اور اس صنف میں سال کے بارہ مہینوں کے موسم کے احوال اور خود اپنے دل کا حال بیان ہوتا ہے۔ لیکن بعض شعرا نے تیرہ ماسا بھی لکھا ہے اور محبوب سے جدا رہنے کے عرصے کو سال کا’’ تیرھواں ‘‘اور طویل ترین مہینا کہا ہے۔ ڈاکٹر تنویراحمد علوی نے اردو میں بارہ ماسہ کے موضوع پر ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے۔

دُکھڑا اور زاری اردو کی ایسی دو اصناف ہیں جن میں مصیبتوں اور پریشانیوں کا ذکر ہوتا ہے اور یہ عموما ً خواتین گاتی تھیں(ہمارے معاشرے میں مصیبتیں بھی خواتین ہی پر زیادہ آتی ہیں )۔ خدانخواستہ کسی بچے کی وفات پر بھی خواتین دکھڑے گاتی تھیں۔ بعض اوقات خواتین مل کر زاریاں گاتی تھیں اور اس طرح ایک دوسرے کے دکھوں میں شریک ہوجاتی تھیں۔ ڈاکٹر میمونہ دَلوی نے دکھڑے کے موضوع پر ایک تحقیقی مضمون لکھا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اردو کی کئی منفرد اصناف خواتین کی تخلیق ہیں اور وہی انھیں گاتی بھی تھیں۔ اسی طرح کی ایک صنف چکی نامہ بھی ہے۔ پہلے جب خواتین ہاتھ سے چلنے والی چکی پِیستی تھیں تو ساتھ ہی کوئی گیت بھی گاتی جاتی تھیں۔ ان چکی ناموں میں مذہبی عقائد بھی بیان ہوتے تھے۔ ایک عوامی یا لوک صنف ِ شاعری ’’دَہا ‘‘ ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ، دہے محرم کے دس ابتدائی دنوں کی صنف ہے اور عام لوگ ان دس دنوں میںگلی کوچوں میں دہے پڑھتے ہوئے جاتے تھے۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے ناول گردش ِ رنگ ِ چمن میں اس صنف کا ذکر کیا ہے۔

دوہا اردو اور ہندی کی وہ صنف ہے جو صرف دو مصرعوں پر مبنی ہوتی ہے اور جو آج بھی مقبول اور مروّج ہے لیکن کچھ اصناف ایسی ہیں جنھیں بھلادیا گیا ہے ، مثلاً کہہ مکرنی۔ یہ ایک طرح کی پہیلی ہوتی ہے جس میں دو سکھیاں پہیلی بوجھتی ہے ۔ اس میں بالعموم محبوب یا شوہر کا ذکر واضح اشاروں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ لیکن اس کا دوسرا جواب بھی ممکن ہوتا ہے اور اسی لیے جب دوسری سہیلی پہیلی بُوجھ لیتی ہے تو پہلی سکھی صاف مکرجاتی ہے اور جواب میں دوسری ممکنہ چیز کا نام لیتی ہے ۔ مثلاً امیر خسرو سے منسوب یہ کہہ مکرنی دیکھیے :

’’سگری رَین موہے سنگ جاگا

بھور بھئی تو بچھڑن لاگا

اس کے بچھڑن پھاٹت جِیا ‘‘

’’اے سکھی ساجن؟‘‘، ’’نہ سکھی دِیا‘‘

یعنی وہ ساری رات میرے ساتھ جاگا، سویرا ہوا تو بچھڑنے لگا ، اس کے بچھڑنے سے دل پھٹتا ہے۔ اس پر دوسری کہتی ہے کہ محبوب ؟ لیکن وہ صاف مکر جاتی ہے کہ میں تو چراغ کی بات کررہی ہوں ۔ اور یہ جواب بھی ممکن ہے کیونکہ چراغ یعنی دِ یا ساری رات ساتھ رہتا ہے اور صبح منھ اندھیرے بجھتاہے تو اندھیرے کی وجہ سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔

اَن مِل کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں کچھ ایسی چیزوں کو ملایا جاتا ہے جن کاکوئی جوڑنہیں ہوتا اور یہ بھی امیر خسرو سے منسوب ہے ، گو تحقیق طلب ہے۔ کہتے ہیں کہ امیر خسرو نے ایک بار کنویں پر پانی بھرتی عورتوں سے پانی پلانے کو کہا تو انھوں نے شرط رکھی کہ پہلے ہماری چیزوں کو شعر میں لائیے، انھوں نے پوچھا کہ کیا چیزیں ہیں تو ایک نے کہا کھیر، دوسری نے کہا چرخہ، تیسری نے کہا کتا، چوتھی نے کہاڈھول۔ خسرو نے کہا:

کھیر پکائی جتن سے اور چرخہ دیا جلا

آیا کتا کھاگیا ، تو بیٹھی ڈھول بجا

لا پانی پلا!

دوسخنہ ایک ایسی صنف ہے جس میں دو باتوں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے، جیسے : ڈوم کیوں نہ گایا؟ (ڈوم یعنی گیت) گوشت کیوں نہ کھا یا؟ جواب:گلا نہ تھا۔جوتا کیوں نہ پہنا ؟ سموسہ کیوں نہ کھایا؟ جواب : تلا نہ تھا۔ وزیر کیوں نہ رکھا ؟انار کیوں نہ چکھا ؟جواب : دانا نہ تھا ۔ گدھا اُداسا کیوں؟ مسافر پیاسا کیوں ؟ جواب: لوٹا نہ تھا۔ لیکن محققین کے نزدیک ان کا امیر خسرو سے انتساب مشکوک ہے ۔

ایک اور صنف ڈھکوسلا کہلاتی ہے ۔یہ محض ہنسنے ہنسانے کی چیز ہے اور اس میں ایسے الفاظ لائے جاتے ہیں جو بظاہر تو کانوں کو بھلے لگتے لیکن ان کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ، مثال کے طور پر: پیپل پکی پیپلیاں، یا بھادوں کی پکی پھلی۔

قمر رئیس کی مرتبہ کتاب ’’اردو میں لوک ادب ‘‘، اعظم کُریوی کی کتاب ’’دیہاتی گیت‘‘،اظہر علی فاروقی کی کتاب ’’اتر پردیش کے لوک گیت‘‘،ڈاکٹر قیصر جہاں کی کتاب ’’اردو گیت‘‘اور بسم اللہ نیاز کی کتاب ’’اردو گیت‘‘ میں اردو کی ایسی اصناف کی کچھ مثالیں مل جاتی ہیں۔لطیف فاروقی نے اپنی کتاب ’’لطیف گیت‘‘ میں بچوں کے گیت جمع کیے تھے ۔ یہ کتاب آزادی سے قبل لاہور سے شائع ہوئی تھی۔میمونہ دلوی نے اپنی کتاب میں بمبئی اور کوکن کے اردو گیت جمع کیے ہیں۔گیتوں پر تو کچھ تحقیقی کام بھی ہوگیا ہے مگر دیگر اصناف پر نہیں ہوایا بہت کم ہوا ہے۔

دراصل ان اصناف میں سے بیشتر اردو کی عوامی اصناف یا لوک اصناف میں شامل ہیں ۔لیکن افسوس کہ اردو کے لوک ادب پر کوئی تفصیلی تحقیقی و تنقیدی کام نہیں ہوا ہے اور اس میںبڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اردو کا لوک ادب قدیم اردو بلکہ اردو کی علاقائی تحتی بولیوں (ڈائیلکٹس)مثلاً ہریانوی، گوجری، کوروی( کھڑی بولی)،روہیل کھنڈی، بندیل کھنڈی، برج بھاشا، میواتی،اودھی، میتھلی، بھوج پوری، دکنی، کوکنی وغیرہ میں ہے اور جب تک کوئی ان بولیوں سے کماحقہ واقف نہ ہو اسے اس کام میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔