• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور: جوہر ٹاؤن میں دھماکا، 3 جاں بحق، 20 سے زائد زخمی





لاہور میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں جوہر ٹاؤن کے علاقے میں بارودی مواد کا دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے۔

پولیس کے مطابق دھماکا گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں ہوا، جس سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا، کئی راہ گیر بھی زخمی ہوئے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ دھماکا ملک دشمن عناصرکی کارروائی ہے، سی ٹی ڈی تحقیقات کر رہی ہے، فوری طور پر دھماکے کی نوعیت سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

حافظ سعید کا گھر ٹارگٹ ہونے کے سوال پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہائی ویلیو ٹارگٹ گھر کے قریب پولیس پکٹ ہے، اسی لیے گاڑی گھر کے قریب نہیں جا پائی، میرا خیال ہے کہ اسی لیے ٹارگٹ پولیس کو کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ دھماکے کی جگہ پر 4 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے، جس میں وہاں سے گزرنے والے پانی کے پائپ پھٹ گئے، سی ٹی ڈی حکام جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے قریب واقع گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے کچھ راہ گیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پر پہنچ گئیں جنہوں نے امدادی کارروائی کا آغاز کر دیا اور زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا۔

زخمیوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں اسپتال پہنچایا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی موقع پر پہنچ گیا ہے۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے دھماکے کے زخمی افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے جناح اسپتال اور دیگر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔

ایم ایس جناح اسپتال لاہور ڈاکٹر یحییٰ کے مطابق اسپتال کی ایمرجنسی عام مریضوں سے خالی کرا لی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں 1 پولیس اہلکار، 1 حاملہ خاتون اور 2 بچے بھی شامل ہیں، جلنے کے باعث 4 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ایک بچہ جس کے سینے پر زخم آئے ہیں اور حاملہ خاتون کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

زخمی پولیس اہل کار کی حالت بھی تشویش ناک ہے، جس کے لیے خون کا انتظام کیا گیا۔

عینی شاہد خاتون کے مطابق ایک آدمی موٹر سائیکل کھڑی کر کے گیا، جس کے کچھ دیر بعد موٹر سائیکل دھماکے سے پھٹ گئی۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ سے ہی دھماکے کی نوعیت کا تعین ہو گا۔

ڈی سی لاہور مدثر ریاض نے جناح اسپتال میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں داخل 8 زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنرل تھریٹ ملتی رہتی ہیں، اس طرح کی کوئی تھریٹ موجود نہیں تھی، تحقیقات کے بعد صورتِ حال واضح ہونے کا امکان ہے۔

ڈی سی لاہور نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں جائے وقوع پر کسی قسم کے جسمانی اعضا نہیں ملے ہیں، ابھی کچھ نہیں بتا سکتے کہ دھماکا کس نوعیت کا تھا۔

جوہر ٹاؤن رہائشی اور تجارتی علاقہ ہےجہاں زیادہ تر کاروں کے شو روم ہیں، دھماکے سے دو تین عمارتوں اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی کو دھماکے کے مقام کی طرف نہیں جانے دیا جا رہا۔

پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، شواہد اکٹھے کیئے جا رہے ہیں، دھماکے کی نوعیت کا جلد پتہ چل جائے گا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن منصور امان نے بتایا کہ اعلیٰ پولیس حکام، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوع کا جائزہ لیا ہے، دھماکے سے ہر طرف ملبہ بکھرا ہوا ہے۔

پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد جناح اسپتال پہنچ گئیں جہاں انہوں نے بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے اسپتال میں زخمیوں کو دی جانے والی طبی امداد کا جائزہ بھی لیا اور ضروری ہدایات جاری کیں۔

متاثرہ گھر کے مکین کا جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ دھماکے سے ہمارا پورا گھر تباہ ہوگیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید