• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’کشمیر آپ کا حصہ ہے نہ ہی داخلی معاملہ ،بلکہ یہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور عالمی سطح پر متنازع علاقہ ہے ۔بھارت سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق جموں اور کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا پابند ہے ،یہی کشمیر کا حل ہے ‘‘۔ اس لیے بھارت پاکستان پر الزام تراشی کرتا چلا آرہا ہے اور پاکستان فوبیا کا شکارہے ۔اگر بھارت سچ بول رہا ہے تو وہ عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کو قبول کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کروائے ۔ 

یہ الفاظ ہیں پاکستان کی نابیناخاتون مندوب ،صائمہ سلیم کے ،جو انہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں حق ِجواب دہی استعمال کرتے ہوئے بھارت کو پاکستان فوبیا کاشکار گردانتے ہوئے کہے ۔ان کے الفاظ اور لہجے کی مضبوطی جنرل اسمبلی سے پوری دنیا میں گونج رہی ہے ۔ صائمہ سلیم نے بھارت کی تو آنکھیں کھول ہی دیں لیکن عالمی اداروں کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا ۔انہوں نے بڑے موثر اور مدلل انداز میں بھارتی مندوب کے الزامات کا جواب دینے کے علاوہ بھارت میں مسلمان اقلیت اور مسلمان دور کی تاریخی تعمیرات اور ورثہ کو تباہ کرنے کے حوالے سے بھی بتایا ۔

صائمہ سلیم کے بھائی یوسف سلیم،پاکستان کے پہلے نابینا جج
صائمہ سلیم کے بھائی یوسف سلیم،
پاکستان کے پہلے نابینا جج

 پاکستان کی نابینا خاتون ڈپلومیٹ صائمہ سلیم اقوام متحدہ میں اپنی انفرادیت اور سفارتی صلاحیتوں کے حوالے سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں ۔ صائمہ سلیم 1984ء میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔زندگی کے تیرہ سال رنگ بہ رنگی دنیا کو دیکھا ۔پیدائش کے چند سال بعد ہی ان کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی ۔ڈاکٹر سے چیک اپ کرایا تو ’’ آر پی ریٹینائٹس پگمنٹوسا‘‘ بیماری کی تشخیص ہوئی۔ یہ بیماری رفتہ رفتہ بصارت کو متاثر کرتی ہے اور یہ لاعلاج مرض ہے ۔ آہستہ آہستہ، صائمہ کی نظر کمزور ہونے لگی ۔زندگی کے تیرہویں سال میں قدم رکھا تو بصارت سے مکمل محروم ہو گئیں۔ صائمہ کے چار بہن بھائی ہیں، ان میں سے دو نابینا ہیں۔ 

ان کے بڑے بھائی، یوسف سلیم پاکستان کےپہلے نابینا جج بنے۔ بڑی بہن، جو نابینا ہیں ، لاہور یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں۔صائمہ نے ابتدائی تعلیم، لاہور میں واقع نابینا بچوں کے اسکول عزیز جہاں بیگم ٹرسٹ سے حاصل کی۔ کنیئرڈ کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں بی اے اور ایم فل کیا۔ فرسٹ ڈویژن کے ساتھ دونوں ڈگریاں مکمل کیں ۔ اپنی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے کئی طلائی تمغے جیتے۔300 نابینا طلبا میں ٹاپ 10 طلبا میں شامل تھیں۔2007 میں، انہوں نے سینٹرل سپیریئر سروس (سی ایس ایس) کا امتحان پاس کیا ،جس میں مجموعی طور پر چھٹی پوزیشن اور خواتین میں پہلی پوزیشن لی۔ 

صائمہ سلیم، خوش گوارموڈ میں
صائمہ سلیم، خوش گوارموڈ میں

جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے اعلٰی تعلیم کے لیے فل برائٹ اسکالرشپ حاصل کی۔ صائمہ سلیم نے عملی زندگی کا آغاز 2007ء میں کنیئرڈ کالج فار ویمن میں بطور لیکچرر کیا ۔لیکن صرف ایک سال یعنی 2008 تک کالج سے وابستہ رہیں ۔بعدازاں انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان دینے کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے کمپیوٹر پر امتحان کا انتظام کروائے، لیکن ایف پی ایس سی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔لیکن صائمہ نے قدم پیچھے نہیں ہٹائے اور 2005 میں صدرِ پاکستان کی جانب سے منظور شدہ آرڈی ننس کے حوالے سے اپنا کیس فائل کیا۔  

اس آرڈی ننس میں کہا گیا تھاکہ ،حکومت بصارت سے محروم اُمیدواروں کو مدد فراہم کرے گی ۔ انہیں کمپیوٹر پر امتحان دینے کی اجازت ہوگی۔ صائمہ کے اسکول ڈائریکٹر نے اس معاملے میں ان کی مدد کی اور ان کی درخواست صدرپاکستان کو ارسال کردی ،جو جلد ہی منظور ہو گئی اور صائمہ کو کمپیوٹر پر امتحان دینے کی اجازت مل گئی۔ 

امتحان پاس کرنے کے بعد صائمہ کو ایک اور رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا،وہ یہ کہ ایف پی ایس سی نے نابینا افراد کو غیر ملکی سروس کے لیے درخواست دینے کی اجازت نہیں دی۔ صائمہ بچپن سے سفارتکار بننا چاہتی تھیں ،سو انہوں نے پینل کو راضی کیا کہ وہ اسے اپنی پسند کے گروپس لینے کی اجازت دے۔انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ ،کیا آپ ان گروپس سے مطمئن نہیں ہیں جو آپ کو مختص کیے گئے ہیں؟‘‘جس پر صائمہ نے جواب دیا کہ: ’’میں بالکل مطمئن نہیں ہوں ،کیوں کہ مسابقتی امتحان کا مطلب ہے کہ آپ کو جو بھی پوزیشن ملتی ہے اس کے مطابق گروپ بنانا چاہیے،بعدازاں پینل نے صائمہ کی سفارش وزیر اعظم کو ارسال کی جو ،منظوری ہوگئی۔

سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد 2009 ء میں پاکستان کی غیر ملکی خدمات میں شمولیت اختیار کی جہاں وزارت خارجہ امور میں مئی 2012 سے جولائی 2012 تک چین میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں ،جب کہ چند ماہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کونسل اور انسانی حقوق کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دئیے۔ 

صائمہ 2013ء سے جنیوا سوئزر لینڈمیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب میں کام کررہی ہیں ۔وہ انسانی حقوق سے متعلق سیکنڈ سیکرٹری کے عہدہ پر فائز ہیں۔ انہوں نے اپنی محرومی کو کبھی بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے دیا۔ تعلیم کے دوران صائمہ کو متعدد ایوارڈ زملے ہیں۔ بہترین تعلیمی کارکردگی پر قائد اعظم گولڈ میڈل حاصل کیا ۔علاوہ ازیں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔انہوں نے خواتین کی کام یابی کا ایوارڈ سمیت مادرملت فاطمہ جناح تمغہ بھی اپنے نام کیا۔

صائمہ مصنفہ بھی ہیں جموں وکشمیر کے تنازع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ وہ دنیا کی نظروں میں نابینا ضرور ہیں لیکن دل کی آنکھ سے مظلوموں کے دکھ ناصرف دیکھ اور سمجھ سکتی ہیں، بلکہ اُن کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔ اس کاثبوت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ان کاموثر کن خطاب ہے ،جس میں انہوں نے کشمیر پر پاکستان کا نکتہ نظر دوٹوک انداز میں پیش کیا ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے ،جس ٹھوس انداز میں انہوں نے کشمیر کا کیس عالمی فورم پر پیش کیا، اس نے عالمی دیدہ وروں کی آنکھیں کھول دیں۔