متحدہ کے گلے شکوے ختم نہ ہوسکے

August 11, 2022

یوم عاشور کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی اور شدت بڑھ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے گیارہ ارکان کے استعفیٰ منظور کرکے ان حلقوں میں ضمنی الیکشن کرانے کاشیڈول جاری کردیا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی نے ایک جانب ان تمام حلقوں میں عمران خان کے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے تودوسری جانب الیکشن کمیشن کے شیڈول کو بھی عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفیٰ مرحلہ وار منظور کرنے سے متعلق درخواست زیرالتواء ہے ایک جانب اگست میں سندھ کے دوسرے مرحلے کے موخربلدیاتی اداروں کے انتخابات ہونے ہیں اور اسی ماہ کراچی کے حلقہ این اے 245 کا ضمنی الیکشن بھی ہونا ہے جہاں ایم کیو ایم،تحریک لبیک اور پی ٹی آئی میں زبردست جوڑ پڑنے کا امکان ہے۔

ادھر پی ٹی آئی نے 13 اگست کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف جارحانہ سیاسی اقدامات متوقع ہے۔ جس سے سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ ادھر پی ٹی آئی کے جن گیارہ ارکان کے استعفیٰ منظور کئے گئے ہیں ان میں سے تین کا تعلق کراچی سے ہے جن میں این اے 237 ملیر سے جمیل احمدخان، این اے239 کورنگی سے محمد اکرم چیمہ او راین اے 246 لیاری سے مشکور شاد شامل ہیں۔

مشکور شاد نے عام انتخابات میں این اے 246 سے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کوشکست دے کرتہلکہ مچادیاتھا اب کے بار اس حلقے میں ضمنی انتخاب پی ٹی آئی کے لیے جتینامشکل نظرآتا ہے جبکہ این اے 237 ملیر پر ایم کیو ایم اور پی پی پی میں جوڑ پڑنے اور این اے 239کورنگی پرایم کیو ایم ، پی ٹی آئی اور تحریک لبیک میں مقابلے کی توقع ہے این اے 239 کورنگی سے پی ٹی آئی کے رکن اکرم چیمہ کے استعفیٰ کے بعد ہی کراچی کی اکثریت کو معلوم ہوا کہ اس حلقے سے اکرم چیمہ جیتے ہیں وگرنہ ان کے نام سے اکثریت ناواقف تھی۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی انتخابات کے جلدانعقاد اور بیلٹ پیپرز کی طباعت کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔ درخواست میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، صوبائی الیکشن کمیشن، صوبائی حکومت اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ سندھ حکومت جان بوجھ کر حلقہ بندیوں سے متعلق معاملات تاخیر کی نذر کررہی ہے۔ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن میں بلدیاتی انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اس بات کی کچھ پروا نہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان او رتحریک انصاف نے بلدیاتی انتخابات کاانعقاد روکنے کی درخواستیں دائر کی تھیں جو مستردکی جاچکی ہیں۔

درخواست میں سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سیاسی ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کی جگہ غیرجانبدار ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جائے۔ ادھر بارش کی وجہ سے این اے 245 کے ضمنی الیکشن اور بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے انتخابی مہم پورے زور سے شروع نہیں ہو پائی ہے تاہم امیدوار ڈورٹودوڑ رابطہ کررہے ہیں این اے 245 کے علاقہ جمشیدروڈ پر انتخابی دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے خطاب میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نےکہا کہ کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ ایم کیوایم کے نمائندوں کو فتح سے ہمکنار کیا، دوبارہ مردم شماری میں ہمیں صحیح نہ گناگیا تو سڑکوں پر آکرخودکو گنوائیں گے، 2018 کے عام انتخابات میں حق پرستوں کا مینڈیٹ چوری کرنے والے اس مرتبہ عبرتناک شکست سے دوچار ہوں گے۔

دوسری جانب کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ، دورانیہ 14 گھنٹے تک پہنچ گیا، مستثنیٰ علاقوں میں بھی بجلی بند کی جارہی ہے،کے الیکٹرک کی جانب سے 24 گھنٹوں میں ہر لمحے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں موسم میں بہتری اور بجلی کی طلب میں واضح کمی کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، مختلف علاقوں میں ہر ایک گھنٹے بعد2 گھنٹوں کی بجلی بند کی جارہی ہے، مضافاتی علاقوں میں صورتحال انتہائی خراب ہے لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جاہی ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب سے رات 12 بجے سے صبح6 بجے کے دوران بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے شہری رات جاگ کر گزارنے پر مجبور ہوگئے۔

کراچی میں کے الیکٹرک کی اندھادھند لوڈشیڈنگ نے شہریوں کادن کا سکون اور رات کا چین چھین لیا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف کراچی کے متعدد علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے جمعہ کو بجلی کے بلوں اور لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے جبکہ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ محمد نعیم نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ اور فوری طور پر قومی تحویل میں لیا جائے، اسٹیک ہولڈرزپر مشتمل کمیٹی بناکر فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ طویل اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے بلوں میں کمی نہیں ہورہی۔

ادھر سندھ اسمبلی کے اجلاس میں یوم استحصال کشمیر پہ پیش کردہ مذمتی قراردادمتفقہ رائے سے منظور کرلی گئی قراردادپی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی سعیدآفریدی نے پیش کی تھی ۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ اپنی اتحادیوں سے کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت ناراض دکھائی دیتی ہے۔ ایم کیو ایم کے سپورٹراب ان سے کھلے بندوں سوال کرنے لگے ہیں کہ وزارت بحری امور کے علاوہ چار سال میں ایم کیوایم نے کراچی کے لیے کیاحاصل کیا؟

یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے عارضی مرکز بہادرآباد میں سابق میئروسیم اختر نے متنبہ کیا کہ اگر ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے معاہدے پرجلد عمل نہ کیا تو ہم اپنا لائحہ عمل طے کریں گے تحریری معاہدے پر اب تک کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا اس خام خالی میں کوئی نہ رہے کہ غلط حلقہ بندیاں کرواکر ہماری سیٹیاں چھین لے گا جوآزادی دوسری جماعتوں کو ہے وہ ایم کیو ایم کو میسر نہیں واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے معاہدے میں یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ انہیں سیاسی دفاتر کھولنے کی اجازت دی جائے ،سندھ کی گورنرشپ ہونے دی جائے، ان کے کارکنوں پر سے مبینہ جھوٹے مقدمات ختم کئے جائیں جبکہ انہیں صوبائی حکومت میں بھی پانچ وزارتیں دینے کا معاہدہ ہوا تھا تاہم ان میں سے کسی بھی مطالبے پر عملدرآمد نہیں ہوا ایم کیو ایم اپنے ووٹرسپورٹر اور کارکنوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔