کراچی (اسٹاف رپورٹر )سندھ اسمبلی کے سامنے جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ کے نئے بلدیاتی قانون کے خلاف جاری دھرنے کو 20؍ دن مکمل ہوگئے جبکہ آج (جمعرات کو) حسن اسکوائر پر خواتین کا مارچ و دھرنا ہوگا۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کہتے ہیں کہ کراچی کو پرویز مشرف دور کے اختیارات نہیں دیتے نہ سہی ذوالفقار علی بھٹو دور کے بلدیاتی اختیارات دے دو، ہمارے تمام مطالبات آئینی اور قانونی ہیں،ان مطالبات کوکسی آمر کے نظام کا نام دے کر رد نہیں کیا جاسکتا، وزیر اعلیٰ ، صوبائی ترجمان اور وزیر اطلاعات عوام کو دھوکہ دینے کے بجائے شہری ادارے بلدیہ کے حوالے کریں،ان کے اختیارات اور وسائل واپس کریں۔ اپنی پارٹی کے بانی چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس1972کا ہی مطالعہ کرلیں،1972کے اس بلدیاتی نظام میں کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوجواختیارات اور محکمے اس کے پاس تھے وہی دے دیں،ہم سعید غنی خاصخیلی کو بتانا چاہتے ہیں کہ 1972ء کے بلدیاتی قانون میں بھی فنکشن آف پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ٹاؤن ایمپرو ومنٹ، ماسٹر پلان ٹاؤن پلاننگ کنٹرول، ڈیولپمنٹ کنٹرول، بلڈنگ ریگولیشن، لائسنس آف آرکیٹیکٹ اینڈ ٹاؤ ن پلانرز، لینڈ ڈیولپمنٹ تمام تر قیاتی اسکیمیں اور پبلک ہاؤسنگ کے محکمے سب کے ایم سی کے پاس تھے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے جعلی مردم شماری جس میں کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کردیا گیا کی حتمی منظوری دے کر اور کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کر کے نہ صرف اہل کراچی کے مستقبل پر شب خون مارابلکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی من مانی اور بد عنوانیوں کے لیے راہ ہموار کردی، پیپلز پارٹی خو ش ہے کہ جو کام و ہ نہ کر سکی وہ پی ٹی آئی او ر ایم کیو ایم نے کردیا اور حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے ساتھ ظم و زیادتی اور حق تلفی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم برابر کی شریک ہیں، کراچی کے عوام کے لیے ان پارٹیوں اور ان کی حکومتوں نے عملاً کچھ نہیں کیا اور کراچی کے عوام مسلسل مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں، شہر قائد کی حالت دن بدن بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔