• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرچموں کی بہار، خواتین کیلئے جگہ کم پڑگئی، شہر بھر سے ریلیوں کی آمد، جماعت اسلامی دھرنے کی جھلکیاں

کراچی (اسٹاف رپورٹر )جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف سندھ اسمبلی پر جاری دھرنے کے 24ویں روز دھرنا گاہ میں ایک بڑا اور عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا، دھرنے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی آمد کیساتھ ہی جوش وخروش میں اضافہ ، قومی اور پارٹی پرچموں کی بہار، نعروں اور ترانوں کے دوران سما بندھ گیا ، خواتین کیلئے مختص جگہ کم پڑگئی ، شہر بھر سے لوگو ں کی ریلیوں کی شکل میں آمد کا سلسلہ جاری رہا ، شہربھر سے مرد وخواتین، نواجوان، بچے، بزرگ،ڈاکٹرز،انجینئرز،طلبہ،اساتذہ علماء کرام،وکلا، تاجرو ں اور مزدوروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ترانوں کے دوران شرکاء میں غیر معمولی جوش وخروش دیکھنے میں آیا اور شرکاء کے جھنڈے لہرانے سے قابل دید سما پیدا ہوتا رہا۔ دھرنا گاہ میں جلسہ عام کے لیے ایک اسٹیج بنایا گیاتھا جس پر ایک بہت بڑا اسٹیج بینر آویزاں کیا گیا تھا جس پر تحریر تھا ”بلدیاتی کالا قانون۔نامنظور“ جبکہ اسٹیج کے نچلے حصے میں تحریر تھا ”We Demand Enpower Local Goverment“،دھرنا گاہ میں قومی پرچموں،جماعت اسلامی کے جھنڈوں اور حق دوکراچی کو تحریک کے مطالبات پر مبنی بینرز لگائے گئے تھے۔جلسہ عام میں خواتین کے لیے علیحدہ جگہ مختص کی گئی تھی اور قائدین کی تقاریر اور کاروائی دیکھنے کے لیے ایک بڑی اسکرین (SMD)لگائی گئی تھی۔دھرنے میں بڑے پیمانے پر ساؤنڈ سسٹم اور لائٹنگ کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔جلسہ عام میں تمام اضلاع سے قافلے چھوٹی بڑی ریلیوں اور جلوسوں کی شکل میں سندھ اسمبلی بلڈنگ پہنچے۔دھرنے میں ایک علیحدہ سے پریس گیلری اور سوشل میڈیا کے ذریعے لائیو کوریج کے لیے بڑا کیمپ لگایا گیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید