• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کا بیان، رمزی یوسف کے مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ نہیں

نیویارک (عظیم ایم میاں) وزیراعظم عمران خان نے 27مارچ کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران امریکا میں دہشت گردی کے الزام میں عراقی نژاد پاکستانی قومیت کے حامل رمزی یوسف کے خلاف مقدمہ کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے مقدمہ کے ریکارڈ میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں ملتا۔ وزیراعظم عمران خان کی زمینی حقائق اور مقدمہ ریکارڈ کے برعکس غلط بیانی اور لاعلمی امریکا میں حیرت اور افسوس کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران نے جلسہ عام میں اپنی طویل تقریر کے دوران کہا تھا کہ دہشت گردی کے الزام میں پاکستان سے گرفتار کرے امریکہ لے جاکر ملزم رمزی یوسف کے خلاف امریکا میں مقدمہ کی سماعت کے دوران امریکی وکیل نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے پاکستانیوں کی توہین کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈالرز کے بدلے پاکستانی اپنی ماں کو بھی ہمارے حوالے کردیں گے۔ وزیراعظم عمران کے اس بیان کا کوئی ثبوت رمزی یوسف کے مقدمہ کے ریکارڈ میں کیس بھی نہیں ملتا اور کسی امریکی وکیل بلکہ جج، گواہان یا دیگر دستاویزات میں بھی ایسے کسی بیان کا قطعاً کوئی حوالہ یا ذکر نہیں اور نہ ہی زمینی حقائق وزیراعظم عمران کے بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔ کویت میں پیدا ہونے والے عراقی نژاد اور پاکستانی قومیت کے حامل 53سالہ یوسف رمزی کو 7فروری 1995کو پاکستان سے گرفتار کرکے امریکا لے جاکر دہشت گردی کے مختلف الزامات کے تحت مقدمات کی نیو یارک کی وفاقی عدالت میں سماعت ہوئی۔ متعدد سماعتوں میں یہ نمائندہ جنگ گروپ بھی موجود رہا اور اب ان مقدمات کا پبلک ریکارڈ بھی موجود ہے جس میں وزیراعظم عمران کے بیان کردہ واقعہ اور الفاظ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ 5ستمبر 1996کو رمزی یوسف کے خلاف ایک مقدمہ کی سماعت مکمل ہوئی اور نومبر 1997میں دہشت گردی کے ایک دوسرے مقدمے کی سماعت بھی نیو یارک کی وفاقی عدالت میں مکمل ہوئی۔ چونکہ نیو یارک اسٹیٹ میں موت کی سزا نہیں ہے۔ رمزی یوسف کو کسی پیرول کی رعایت کے بغیر عمر قید کی سزا دی گئی اور رمزی یوسف کیس کے زمینی اور دستاویزی حقائق وزیراعظم عمران کی پرجوش عوامی تقریر کے اس بیان کی کھلی تردید کرتے ہیں جو انہوں نے رمزی یوسف کے مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے بیان دیا ہے۔ البتہ امریکی ریاست ورجینیا میں ایک اور پاکستانی کے خلاف ایک تاریخی مقدمہ کے آغاز سے بھی قبل ایک امریکی ٹی وی انٹریو میں ایک امریکی وکیل کے بیان اور اس پر امریکا کے پاکستانیوں کے احتجاج اور امریکی محکمہ خارجہ کی معذرت اور اظہار افسوس بھی ریکارڈ پر ہے۔ لیکن عدالت اور مقدمہ کی سماعت کے ریکارڈ میں بھی ایسا کوئی بیان یا واقعہ ریکارڈ پر نہیں ملتا۔ 15جون 1997میں ڈیرہ غازی خان کی حدود میں مخبروں کی اطلاع پر گرفتار کرکے خصوصی طیارہ سے امریکا لائے جانے والے ایمل کانسی نامی پاکستانی کے معاملات سے موجود وزیر داخلہ شیخ رشید بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ انتقام کیلئے ریاست ورجینیا میں امریکی سی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے باہر سی آئی اے کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور تین کو زخمی کرکے پاکستان فرار ہونے والے ایمل کانسی کو جب امریکا لایا گیا تو اس کی گرفتار پر20لاکھ امریکی ڈالرز کے انعام کا امریکی اعلان تھا۔23جون1997کو ریاست ورجینیا کی فیر فیکس کائونٹی کے پراسیکیوٹر رابرٹ ہوران جونیئر نامی وکیل نے ایک مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایمل کانسی کی گرفتاری کے لئے 20لاکھ ڈالرز کے انعام پر اعتراض کرتے ہوئے پاکستانیوں کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بعض پاکستان تو 20ہزار ڈالرز کے لئے اپنی ماں بھی ہمارے حوالے کردیں گے۔ وکیل رابرٹ ہوران جونیئر کے ٹی وی پر ان ریمارکس کے باعث پاکستان اور امریکا میں پاکستانیوں کے پرزور احتجاج کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی معذرت اور اظہار افسوس اور مذکورہ وکیل نے بھی معافی کا بیان جاری کیا تھا۔
اہم خبریں سے مزید