• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کتب خانہ... علم و فکر، تہذیب و آگہی کا مظہر و مرکز

دنیا کی کوئی بھی مہذّب اور باشعور قوم، کتاب کلچر اور کتب خانوں سے بے نیاز رہ سکتی ہے، نہ اُس کی اہمیت و افادیت سے انکار کرسکتی ہے۔ خاص طور پر تعلیمی و تدریسی زندگی میں تو لائبریریز کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ ان کے بغیر تعلیمی سفر کو منزل سے ہم کنار نہیں کیا جاسکتا۔ کتب خانہ، علم و فکر اور تعلیم و تعلّم کا وہ مظہر و مرکز ہے، جس کی اہمیت و افادیت کو مہذّب قوموں نے ہر دَور میں تسلیم کیا ہے اور اہلِ علم کتب خانوں کو ملک کی ثقافتی، تعلیمی اور تہذیبی ترقی کا نہ صرف پیمانہ، بلکہ قومی ورثہ قرار دیتے ہیں۔ 

کہتے ہیں کہ اگر کسی ملک کی ترقی کا جائزہ لینا ہو، تو وہاں کے تعلیمی اداروں کو دیکھا جائے، اور تعلیمی اداروں کی ترقی کاجائزہ لیناہو، تو وہاں موجود لائبریریز دیکھنی چاہئیں، یعنی جہاں لائبریریز آباد ہوں گی، وہاں تعلیمی ادارے بھی تعلیم و تحقیق میں فعال ہوں گے۔ جس کا لازمی نتیجہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی اور عوام کی خوش حالی ہے۔ نیز، تاریخ بھی اُن ہی قوموں کا احترام کرتی ہے، جو اپنے عِلمی سرمائے کی حِفاظت کرنا جانتی ہیں۔

کتاب، مکتب اور مکتبہ، قوموں کی زندگی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ ہر قسم کی ترقی کے دروازے ان ہی کنجیوں سے کُھلتے ہیں۔ یہ تینوں حصولِ علم و تعلیم کے بنیادی ذرائع بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے علم، نور ہے۔ علم، انسانیت کا زیور ہے۔ علم ہی کی بدولت جائز و ناجائز میں فرق کیا جاتا ہے۔ دین و دنیا کی ساری کام یابیاں اور بھلائیاں اسی علم پر موقوف ہیں۔ علم ہی سے دنیا کو سنوارا جاتا ہے اور علم ہی کی بدولت آخرت کی سعادتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ علم، ترقی کا ذریعہ، کام یابی کی کنجی اور دنیا کی حکم رانی و قیادت کا پہلا زینہ ہے اور اگر ہمارے پاس علم ہے، تو سب کچھ ہے اور اگر علم نہیں، تو کچھ بھی نہیں۔ تو بے شک یہ ساری ہی باتیں، اقوال سو فی صد درست ہیں۔ 

درحقیقت، کتب خانے ذہنی تفریح کا ایک تعمیری ذریعہ ہوتے ہیں۔ انسان کتابوں کی دنیا میں نہ صرف اپنے غم، پریشانیاں اور غم بھول جاتا ہے، بلکہ مطالعہ کتب سے اس کی سوچ میں وسعت، ذوق میں شگفتگی اور احساس میں نکھار بھی آجاتا ہے۔ اس کا دامن علم کے ساتھ فضیلت کے موتیوں سے بھی بھر جاتا ہے کہ کتاب ہی زندگی کی تلخیوں میں حلاوت پیدا کرتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لائبریری یاکتب خانہ ایک ایسا دانش کدہ ہے، جہاں صدیوں کا فکری و علمی اثاثہ، لاکھوں کروڑوں اربابِ علم و دانش کی ذہنی اور قلمی کاوشوں کا ثمر اور حاصل موجود ہوتا ہے۔ 

ایک چھت تلے الہامی کتب، انسانی استعداد اور شعوری وسعت کے مفاہیم کے لفظی مجموعے، محدّثین و مفسّرین کی تفاسیر و شروحات کے مجموعے، محققّین و مفکّرین کی تحقیقات و افکارکا علمی خزانہ، مصنّفین و مترجمین کی کتب و تراجم، انسانی تحریرات کا سرمایہ، علوم و فنون کی دولت، شاعروں، نثرنگاروں، ادیبوں اور خطیبوں کا بے بہا ذخیرہ اکٹھا میسّر آجاتا ہے۔ یعنی کسی لائبریری میں داخل ہونے والا شخص گویا نابغۂ روزگار، شاہ کار لوگوں سے بغل گیر اور ہم کلام ہوتا، ان کی فکری روشنی سے قلب و ذہن جگمگاتا ہے۔

وطنِ عزیز کے دیگر صوبوں اور شہروں کی طرح بلوچستان کے کئی جدید اور متعدد پس ماندہ علاقوں میں بھی جا بجا لائبریریز موجود ہیں کہ یہ صوبہ، خانہ بدوشی کے دَور کی زندگی سے جدید علمی سرگرمیوں تک تہذیب وتمدّن میں یکتا و اعلیٰ روایتوں کا امین ہے۔ شہری ماحول سے ہٹ کر آج بھی دوردراز علاقوں میں بچّے دادا، دادی، نانا، نانی کے ساتھ بیٹھ کر کہانیاں، تاریخی حکایتیں اور دل چسپ داستانیں سنتے ہیں۔ اقوالِ زرّیں اورمحاوروں کاپس منظر پوچھتے، پہیلیاں بوجھتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور مصنوعی خوراک سے دُور رہنے کی وجہ سے اُن کی ذہنی وجسمانی قوت اب بھی مثالی ہے۔ بزرگ اب بھی بڑے بڑے مسائل حکایات، محاوروں اور ذاتی تجربات کی روشنی میں حل کرتے ہیں۔ تعمیراتی، زرعی اورمال داری پرمبنی اپنے تیار کردہ اوزاروں اور علاقائی میٹیریل سے کام لیتے ہیں۔ 

فائن آرٹس کی کسی یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل نہ ہونے کے باوجود فنونِ لطیفہ کے تمام شعبوں پردسترس رکھتے ہیں۔ اکثر لوگ آج بھی جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج خود کرتے ہیں، موسیقی کے آلات بناتے ہیں۔ جرأت و بہادری اوراخلاقی اقدار ان میں کُوٹ کُوٹ کربھری ہیں اور صوبے میں علم وادب سے شغف اوراخلاقی اقدار کے فروغ کی روایت آج کی نہیں، بہت پرانی ہے، جس کے آثار نو ہزار سال پرانی تہذیب مہرگڑھ سے ملتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ یہ خطّہ اہلِ علم اور ذہین و فطین انسانوں کا شان دار علمی مرکز رہا ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے یہاں کی تہذیب اور کتب خانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے ضمن میں وحشیانہ یلغاروں کا تذکرہ بھی باربار ملتاہے۔ اس خطّے میں تاجِ برطانیہ کی وسعت، پھیلائو اور عیسائیت کی تبلیغ روکنے کے لیے 1882ء میں ڈھاڈر کے مقام پر ’’مکتبۂ درخانی‘‘ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ 

اس مکتبے سے وابستہ علماء، علم وادب کے ذریعے ایک عرصے تک برطانوی مِشنری کے منفی عزائم ناکام بناتے رہے۔ ان کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کرنے کے لیے بلوچی، براہوی، اردو، فارسی اورسندھی زبانوں میں بہت سی کتابیں شایع کی گئیں اور پمفلٹس تقسیم کیے گئے، جس کے نتیجے میں آزادی کی تحریک میں تیزی آئی اور اس شعور کے پیچھے دراصل کتاب، علم دوستی، کتب خانوں سے لگائو اور درس و تدریس سے بے پناہ محبت ہی تھی۔

1935ء کے کوئٹہ کے بدترین زلزلے میں جہاں65ہزار افراد لقمۂ اجل بنے، وہیں کوئٹہ سے قلّات تک نہ صرف عمارتوں، گھروں اورآبادیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، بلکہ بہت سے مدارس اور کتب خانے بھی صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ اس تباہ کن زلزلے میں معروف ترقی پسند رہنما، یوسف عزیز مگسی بھی شہید ہوئے، جو بلوچستان میں تعلیم و ترقی کے لیے دامے درمے سخنے، غرض یہ کہ ہر طرح سے کوشاں تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہاں نئے سرے سے کتب خانے اور مدارس قائم کرکے یوسف عزیز مگسی اور ان کے رفقاء امین کھوسہ اور عبدالصمد اچکزئی کی علم دوستی کی روایت آگے بڑھانے کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ 

بعدازاں، 1950ء سے بلوچ دانش وَر سیّد ظہورشاہ ہاشمی، آزاد جمال دینی کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے عبداللہ جان جمال دینی، ڈاکٹر خدائیداد، کامل القادری، بہادر خان رودینی، اسلم اچکزئی، انجم قزلباش، میرغوث بخش بزنجو اوردیگر نے بلوچی، براہوی اور پشتو زبانوں کے ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران مختلف حکمرانوں نے ان دانش وَروں کی راہ میں مختلف حیلے بہانوں سے رکاوٹیں کھڑی کیں۔ کئی سیاست دانوں، دانش وروں، علماء و ادباء کو پابندِ سلاسل کیاگیا۔ ان کے قائم کردہ کتب خانوں پربلاجواز چھاپے مار کر بے دردی سے قیمتی و نایاب کتب تلف کی گئیں، بعض رسائل، اخبارات اورکتابوں پر پابندیاں لگیں، چھاپے خانے سیل کیے گئے۔ تاہم، علم کے متوالوں کی علم دوستی ختم کی جاسکی، نہ ہی علم و آگہی اور ترقی کے اس سفر کو روکا جاسکا۔ 

البتہ ظالم و جابر حکمران تمام حربوں کے باوجود فکری محاذ پر شکست سے دوچار ہوئے۔ انسانی حقوق کے اداروں کی مداخلت، ملک میں جمہوری سیٹ اپ نے ایک مرتبہ پھرسرکاری کتب خانوں کے ساتھ ساتھ ذاتی کتب خانوں کے رجحان میں اضافہ کیا۔ گرچہ اس دوران بھی خوف و ہراس کی فضا بدستور قائم رہی۔ تاہم، سوشل میڈیا کی آمداور دنیا کے گلوبل ویلیج میں تبدیل ہونے کے باعث اب یہ ممکن نہیں کہ بزورِ قوت علم کا راستہ روکا جاسکے۔ ایسے میں موجودہ حکمرانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کریں۔ اس ضمن میں ایک خوش آئند امر یہ ہے کہ بلوچستان کے مختلف شہروں خضدار، لورالائی، پشین، حب، خاران، قلات، آواران، تربت، مستونگ، گوادر اور کوئٹہ سمیت دیگر چھوٹی چھوٹی بستیوں میں کئی کتب خانے قائم ہورہے ہیں۔ گاہے بہ گاہے مختلف علمی نشستوں کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ 

پھر نوجوانوں کے علم وادب اور کتب خانوں سے شغف کے پیشِ نظر بلوچی اکیڈمی، پشتو اکیڈمی، براہوی اکیڈمی، سنگت اکیڈمی، براہوی ادبی سوسائٹی اور قلات کے پبلشرز بھی اکثر و بیش تر اپنی مطبوعات عطیہ کرتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر اس حوالے سے سیاسی رہنما حاجی لشکری رئیسانی خاصے پیش پیش نظر آتے ہیں۔ نیز، علم دوست ادباء وشعراء بھی عوام النّاس کے لیے اپنی لائبریریز کے دروازے ہر دَم وا رکھتے ہیں، جب کہ اس حوالے سے ’’باز محمد شہید فائونڈیشن‘‘ کے زیر اہتمام قائم کی جانے والی ’’شہداء لائبریری‘‘ کا کردار بھی نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کے اس دَور میں بھی طلبا و طالبات اور عام افراد کی کتب بینی اور کتابوں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ برس گوادر، کوئٹہ ودیگر شہروں میں منعقدہ کتب میلوں میں لاکھوں روپے کی کتب خریدی گئیں۔ نیز،گوادر فیسٹیول میں بھی لگ بھگ سات لاکھ روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ علاوہ ازیں، جناح پبلک لائبریری اور کوئٹہ کے قدیم کتاب مرکز ’’گوشۂ ادب‘‘ کے کتب میلوں میں بھی لاکھوں روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ 

کتب میلوں میں ملک بھر سے آنے والے پبلشرز، اشاعتی ادارے اور حکومت اگر کتاب کلچر کا ماحول پھر سے پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو اُنھیں نہ صرف کتب کی ہوش رُبا قیمتوں میں خاطر خواہ کمی لانی چاہیے، بلکہ اہل ِقلم اور کتب پر عاید پابندیوں کا خاتمہ بھی بہت ضروری ہے۔ مزید برآں، علم وادب کے فروغ کے لیے قائم اداروں سے صرفِ نظرکی پالیسی بھی ترک کرکے کتاب کلچر کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں سرکاری سطح پر اضلاع اور ڈویژنز میں 78لائبریریز قائم کی جارہی ہیں، جن میں سے چند ایک کی منظوری ہوچکی ہے اور کچھ عمارتوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ یاد رہے، ’’قائدا عظم پبلک لائبریری، کوئٹہ‘‘ مکمل طورپر فعال ہے، جہاں مختلف موضوعات اور زبانوں پر ایک لاکھ سے زائد کتابیں موجود ہیں اور یہاں سے روزانہ تقریباً 8 سو کے قریب کتابیں ایشو کروائی جاتی ہیں، جب کہ باقاعدگی سے لائبریری آکر مطالعہ کرنے والوں کے لیے جگہ کی تنگی کے باعث مطالعے کے لیے باضابطہ مختلف اوقات مقرر ہیں۔ 

یہاں موجود زیادہ تر طلبا وطالبات اپنے امتحانات اور مقابلے کے امتحان کی تیاریوں میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ قائد اعظم پبلک لائبریری کے سینئر لائبریرین، عمران جتک کے مطابق، یہاں کی ڈیجیٹل لائبریری کو وسعت دینے اورکتابوں کی تعداد میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ ساروان لائبریری مستونگ، میرگل خان نصیر لائبریری نوشکی، میر غوث بخش بزنجو لائبریری خضدار، الحاج میر نبی بخش خان کھوسہ لائبریری، صحبت پور، گوادر، ہرنائی، خانوزئی، چغتائی لائبریریز اور میریوسف عزیز لائبریری ڈیرہ مراد جمالی کے علاوہ قلّات، زیارت ودیگر شہروں میں بھی متعدد لائبریریز موجود ہیں۔ 

سریاب روڈ پر سردار عطاء اللہ مینگل کے نام سے ایک ڈیجٹیل لائبریری کے قیام کے منصوبے پر بھی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ پھر سرکاری لائبریریز کے علاوہ بعض شخصیات اور دانش وَروں کی ذاتی لائبریریز بھی ہیں۔ مثلاً میر غوث بخش بزنجو لائبریری، ڈاکٹر شاہ محمّد مَری لائبریری، ڈاکٹر مالک کاسی لائبریری، بابو عبدالرحمٰن کردلائبریری، ڈاکٹر تاج رئیسانی لائبریری، فاروق سرور، نسیم اچکزئی لائبریری، افضل مراد لائبریری، ایوب بلوچ لائبریری اور عبدالرئوف رفیقی لائبریری۔ گرچہ یہ مختلف افراد کے ناموں پر قائم ذاتی لائبریریز ہیں، لیکن ان سے طلبا و طالبات کے علاوہ عام افراد بھی بڑی تعداد میں استفادہ کرتے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان یونی ورسٹی، بیوٹمز یونی ورسٹی، سردار بہادر خان ویمن یونی ورسٹی کے علاوہ دیگر کالجز اور یونی ورسٹیز کی بھی اپنی اپنی لائبریریز ہیں۔ پہلے 1884ء کی قائم شدہ ایک سنڈیمن لائبریری پورے بلوچستان کے عوام کو خدمات فراہم کرتی تھی، مگر پھر1980ء میں  اُسے ختم کرکے اُس کی جگہ سنڈیمن اسپتال کے مختلف وارڈز بنادئیے گئے، مانا کہ صحتِ عامّہ کے حوالے سے اسپتالوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس طرح اچانک ایک بڑی لائبریری کا یک سر خاتمہ کوئی مستحسن عمل نہیں کہ تعلیم اور کتب خانے ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ جہاں تعلیم کا انتظام ہو، وہاں مختلف علوم و فنون کی کتب پر مشتمل ایک بڑے کتب خانے کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ 

کوئی بھی تعلیمی ادارہ، لائبریری سے بے نیاز نہیں ہوسکتا کہ تعلیمی اداروں کی نصابی ضرورت محض نصابی کتابوں سے پوری نہیں ہوتی، علمی و تحقیقی ضروریات کیے لیے اضافی کتابوں کی موجودگی اشد ضروری ہے، جب کہ معاشرتی ترقی کے لیے بھی بہت ضروری ہے کہ معاشرے میں بسنے والے افراد مروجہ علوم اور زمانے کے تقاضوں سے آگاہ ہوں۔ یہ تو طے ہے کہ حصولِ علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہمارے مدارس، مکاتب، اسکولز، کالجز اور یونی ورسٹیز ہی ہیں، لیکن بلوچستان کے عوام کی رسائی ان تعلیم گاہوں تک بالعموم نہیں ہوپاتی، تو یہ کتب خانے ان کے لیے کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ اہلِ بلوچستان میں علم کی پیاس اور محبّت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، تب ہی یہاں کچھ منفرد روایات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ 

جیسا کہ بلوچستان کی معروف سیاست دان اور رکن قومی اسمبلی، زبیدہ جلال کی ہمشیرہ، رحیمہ جلال نے مند کے علاقے میں بچّوں کے لیے چلتی پِھرتی ’’کیمل لائبریری‘‘ متعارف کروا کر ایک منفرد تعلیمی پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔ اس چلتی پھرتی لائبریری کے ذریعے بچّوں کو مطالعے کے لیے اُن کی عمر کے لحاظ سے کتابیں دی جاتی ہیں۔چھوٹے بچّوں کے لیے زیادہ تر سبق آموز کہانیوں پر مشتمل کتب ہوتی ہیں، جب کہ بڑی عمر کی بچّوں کے لیے دل چسپ کہانیوں کے ساتھ تاریخ اور معلوماتِ عامّہ سے متعلق کتابیں بھی مطالعے کے لیے فراہم کی جاتی ہیں اور اس کیمل لائبریری کے سبب صرف بچّوں ہی کا شوقِ مطالعہ پروان نہیں چڑھ رہا، بلکہ ان کے والدین کی بھی کتابوں میں دل چسپی بہت بڑھ گئی ہے۔

یاد رہے، معدنی دولت سے مالامال ہونے کے باوجودمند کا شمار مُلک کے پس ماندہ علاقوں میں ہوتا ہے۔ تو ایک ایسے علاقے میں ایک انوکھے خیال کے تحت اونٹ پرکتابیں سجاکر مطالعے کے لیے کتب فراہم کرنایقیناً ایک حوصلہ افزا اور مستحسن قدم ہے۔ قصّہ مختصر، کوئی رفیقِ سفر نہیں ہے، کتاب سے بہتر۔‘‘