• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منیبہ مختار اعوان، لاہور

شہر کے مشہور بیوپاری شہاب خان کا نام مویشی منڈی میں بہت عزت سے لیا جاتا تھا کہ اُس کے باڑے میں پچیس تیس انتہائی خُوب صُورت گائیں تھیں۔ لوگ دُور دُور سے اُس سے جانورخریدنےآتے اور کہتے۔ ’’شہاب خان کےمال کا جواب نہیں۔ سچ تو یہ ہے، وہ اپنےجانوروں کی اولاد کی طرح نگہ داشت کرتا ہے۔‘‘ خصوصاً ہر سال عیدالاضحیٰ پر اُس کا گھر خوشیوں سے بھر جاتا۔ اس کے بچّے بہت شان دار نئے کپڑے پہنتے، صحن میں تنومند جانوروں کی قربانی ہو رہی ہوتی اور قربانی کے گوشت سے آس پاس کے غریبوں کے دسترخوانوں پر بھی خُوب رونق ہوجاتی۔

مگر اس سال کچھ بہت ہی عجیب ہونے لگا۔ ایک صُبح ایک گائے اچانک زمین پر گری اور تڑپنے لگی۔ ویٹرنری ڈاکٹر کا فوراً باڑے میں آنا مشکل تھا تو شہاب خان نے گائے کو ویٹرنری اسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا، مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ دَم توڑ گئی۔ شہاب رنجیدہ تو ہوا مگر اس سے زیادہ وہ حیران تھا، کیوں کہ آج سےپہلےایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ سب گائیں تازہ چارا، بہترین خوراک کھاتیں اوراُن کا خیال بھی بھرپور رکھا جاتا۔

ابھی یہ صدمہ ٹلا نہیں تھا کہ اگلے ہی دن دو اور گائیں مر گئیں۔ پورے باڑے میں سخت خوف پھیل گیا۔ جیسے تیسے ویٹرنری ڈاکٹر کو بلایا گیا اور اُس نے گائیں دیکھ کر پریشانی سے کہا۔ ’’یہ بہت خطرناک وائرس ہے… اِسی تیزی سے پھیلا تو سب جانور مر سکتے ہیں۔‘‘ شہاب خان کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اور پھر… اگلے کئی دن قیامت بن کر ٹوٹے۔ ہر صُبح ایک نئی گائے مُردہ ملتی۔ پورا باڑا جو کبھی زندگی سے بھرپور تھا، اب کسی خاموش قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا۔

شہاب راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنی گائیوں کے پاس جا بیٹھتا۔ کبھی اُن کے سروں پر ہاتھ پھیرتا، کبھی آسمان کی طرف دیکھ کر فریاد کرتا۔ ’’یااللہ… یہ میرا کاروبار ہی نہیں، میرے بچّوں کا رزق بھی ہے…یا رب! مجھ پر رحم فرما۔ کوئی غلطی ہوگئی ہے، تو معاف کر دے…‘‘ مگر جانوروں کی اموات نہیں رُکیں۔ اور پھر وہ دن بھی آ گیا، جب صرف ایک گائے باقی رہ گئی۔

وہ سفید رنگ کی گائے، جسے شہاب نے خاص قربانی کے لیےوقف کر رکھا تھا اور اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ یہ سفید گائے وہ اِس عیدالاضحیٰ پر اُس کی راہ میں قربان کرے گا۔ وہ اب تک وائرس کےحملے سے محفوظ تھی، حالاں کہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اُس کے ساتھ دوسری کئی گائیوں کوبھی دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا، مگر اُن میں سے کوئی بھی نہ بچ سکی۔ یہ سفید گائے، جسے شہاب خان اور سب گھر والے پیار سے ’’ببلی‘‘ کہتے تھے، اِن دنوں پورا گھر اُسی کے دودھ پر گزارہ کر رہا تھا۔ بچّے وہی دودھ پیتے، جب کہ کچھ دودھ فروخت کر کے روز کے آٹے، دال کا بندوبست کیا جاتا۔

عیدِ قرباں میں صرف پانچ دن باقی تھےاور گھر میں فاقوں جیسی حالت ہوگئی تھی۔ ایک رات شہاب کی بیوی نے دھیمی آواز میں کہا۔ ’’یہ آخری گائے ہے… اگر اِسے بھی قربان کر دیا تو ہمارے بچّوں کا کیا ہوگا؟‘‘ شہاب نےجواب دیا۔’’ مگر، یہ وہی گائے ہے، جسے مَیں نے خاص قربانی کے لیے رکھا تھا اور اپنے رب سے وعدہ بھی کیا تھا کہ اِسے اُس کی راہ میں قربان کروں گا۔‘‘ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کونے میں بیٹھا شہاب کا بارہ سالہ بیٹا حامدسب سُن رہا تھا۔ اُسے اچانک مدرسے میں سُنا ہوا حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ یاد آیا۔

وہ آہستہ سے بولا۔ ’’ابّو… اللہ کی راہ میں دی گئی چیز کبھی ضائع نہیں ہوتی۔‘‘ شہاب نےبیٹے کی طرف دیکھا، مگر کوئی جواب نہ دے سکا۔ بیوی فوراً بولی۔ ’’جو گائیں مَری ہیں، وہ بھی اللہ ہی کے پاس گئیں ہیں ناں، تو قربانی تو ہوچُکی۔‘‘ ’’ اللہ کی بندی! وہ ہم سے لی گئی ہیں تاکہ ہماری آزمائش ہوسکے، قربانی تو اُسے کہتے ہیں، جو راضی خوشی اللہ کی راہ میں ہم خُود دیں۔ یوں تو زندگی میں کتنے ہی نقصان ہوتے ہیں، تو کیا ہم ہر آزمائش کو قربانی کا نام دے دیں۔ یہ تونعوذُ باللہ، اللہ پراحسان جتانے والی بات ہوئی۔‘‘ شہاب نے بیوی کو ذرا درشتی سے سمجھایا۔ تو وہ خاموش ہوگئی۔

عید سے ایک رات پہلے پورے گھر میں ایک عجیب سا سناٹا تھا۔ باہر بارش شروع ہورہی تھی، مگر شہاب صحن میں بندھی ببلی کے پاس ہی بیٹھا رہا۔ دل ودماغ عجیب کشمکش کا شکار تھے اب ببلی صرف ایک گائے نہیں، اُس کے بچّوں کی بھوک پیاس مٹانے کا آسرا، گھر بھر کی آخری اُمید، آخری سہارا تھی۔ اور پھر فجر کے وقت اُس نے فیصلہ کرہی لیا۔ یہ اللہ کی امانت تھی، ہے اور آج اُسی کی راہ میں جائے گی۔ عیدالاضحیٰ کی نماز کے بعد جب ببلی قربان ہوئی تو شہاب کے بچّوں کی آنکھوں سے آنسوبہہ رہے تھے۔ شہاب نے گوشت کا بڑاحصّہ غریبوں میں تقسیم کردیا۔

وہ گھر واپس آیا تو دل عجیب خالی خالی ساتھا۔ رات ہوئی۔ بیوی، بچّےدن بھرکے تھکے ہارے تھے، جلد ہی سوگئے۔ مگر شہاب جاگ رہا تھا۔ اُسے بار بار ایک ہی خیال آتا۔ اب کل سے کیا ہوگا…؟ اچانک دروازے پر زوردار دستک ہوئی۔ اتنی رات گئے کون ہو سکتا تھا؟ شہاب گھبرا فوراً کر باہر نکلا۔ دروازے پر چند گاڑیاں دکھائی دیں۔

سامنے شہر کا امیر ترین تاجر کھڑا تھا، جسے برسوں پہلے شہاب نے مشکل وقت میں قرض دیا تھا اور بعد میں واپس لینے سے منع کردیا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر شہاب کو گلے لگالیا۔ ’’مَیں بیرونِ مُلک تھا۔ آج واپس آیا تو تمہارے نقصان کا سُنا۔ لوگ کہہ رہے تھے، تم نے اپنی آخری گائے بھی اللہ کی راہ میں قربان کردی…‘‘

شہاب خاموش کھڑا رہا۔ تاجر نے اشارہ کیا۔ اور پھر پچھلی گاڑیوں سے بیس انتہائی خُوب صُورت، تنومند گائیں اُتاری جانے لگیں۔ ’’شہاب! یہ سب تمہارے لیے ہیں… اور ساتھ یہ رقم بھی۔ تم نےکبھی میرے مشکل وقت میں میری بےلوث مدد کی تھی،آج اللہ نے مجھےتمہارے لیے بھیجا ہے۔‘‘ شہاب کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اُس کی بیوی دروازے پر کھڑی رو رہی تھی۔

بچّے حیرت سے گائیوں کو دیکھ رہے تھے۔ شہاب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بس اتنا ہی کہہ سکا۔’’ یااللہ… ہم نے تیرے لیے ایک دی تھی… تُو نے ہمیں بیس عطا کر دیں…‘‘اور، اُس رات حامد کو سمجھ آیا کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ پر اُس وقت بھی بھروسا کرنے کا نام ہے، جب ہاتھ بالکل خالی ہو جائیں۔