• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیّامُ الپاک ظفر محمّدخان ظفرؔ

خلا میں مُعلَّق، جہاں اَور بھی ہیں

تری معرفت کے نشاں اَور بھی ہیں

خلا میں نہیں بس! یہی ایک عالَم

سخی رَب کی پُھل واریاں اَور بھی ہیں

خلا میں ہے یہ کائناتِ مجسَّم

خُدا کے کرم، ضوفِشاں اَور بھی ہیں

ہے یہ سیّارۂ اَرض کیوں اِتنا نازاں!

زمیں اَور بھی آسماں اَور بھی ہیں

یہ مہتاب و اَنجُم، یہ تاروں کا جھمکا

خلاؤں میں رعنائیاں اَور بھی ہیں

یہ اَنجُم کا جھمکا، یہ دُم دار تارا

خلاؤں میں حیرانیاں اَور بھی ہیں

خلاؤں میں جڑواں ستاروں کے منظر

حسیں اَور بھی دل سِتاں اَور بھی ہیں

نہیں دُودھیا کہکشاں پر ہی موقوف

یہاں اَن گنت کہکشاں اَور بھی ہیں

ہر اِک کہکشاں میں ہیں اَربوں ستارے

ستاروں میں سرِّ نہاں اَور بھی ہیں

فلک پر یہ چاندی سے پُر نور تارے

خلا زار میں زرفِشاں اَور بھی ہیں

خلا میں رواں سونے چاندی کے لشکر

یہاں حُسن کے کارواں اَور بھی ہیں

خلا میں دَمکتے ہیں ہیروں کے بادل

یہاں خُوب صُورت سماں اَور بھی ہیں

یہاں تیرتی ہیں جواہر کی کانیں

خلا میں دل آویزیاں اَور بھی ہیں

ہڑپ کر نہ جائے یہ سُورج زَمیں کو

خطر اَور بھی ہیں، زِیاں اَور بھی ہیں

یہاں شمسی شُعلے بھڑکتے ہیں گاہے

خلا میں بلاخیزیاں اَور بھی ہیں

شِگافِ سِیہ کہکشاؤں کا دُشمن

خلا میں تبہ کاریاں اَور بھی ہیں

خلا میں ہَوا ہے، نہ بارش کی رِم جھم

خلاؤں میں محرومیاں اَور بھی ہیں

نہ بارِش کا پانی، نہ کاغذ کی کشتی

خلاؤں میں سنگینیاں اَور بھی ہیں

سمندر نہ سَلمیٰ، نہ ہیں سیپیاں، دوست!

خلاؤں میں سفّاکیاں اَور بھی ہیں

خلاؤں سے اے دوست! آتے ہیں پیغام

خلا میں خزانے نہاں اَور بھی ہیں

خلا میں ہیں خورشید کے نورتن بھی

یہاں بزمِ سیّارگاں اَور بھی ہیں

زمیں کے قَمر پر ہی موقوف ہے کیا

خلا میں قمر ضوفِشاں اَور بھی ہیں

خلا کی ظفرؔ تم نے منظر کشی کی

خلاؤں میں نیرنگیاں اَور بھی ہیں