• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر کوئی اُردو دان زبان شناس اس بات پر مُصر ہو کہ ’’جمالیات‘‘ کا لفظ کسی شخص کے نام سے مستعار ہے تو یقین کیجے، وہ نام ’’جمال شاہ‘‘ کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ ڈیڑھ ایک صدی قبل کی بات ہے کہ ہر فن مولا یعنی آل راؤنڈر ہونا فنونِ لطیفہ میں کسی بھی شخص کے لیے فن کی معراج سمجھی جاتی تھی بلکہ نادرِروزگار شخصیات فنونِ لطیفہ کےنیم دائروں اور قوسوں کو پھلانگ کر بقیہ علوم میں بھی مہارت کی قائل ہوا کرتی تھیں۔

طبیب شاعر بھی ہوتے تھے، شاعر ستارہ شناس، ستارہ شناس موسیقار اور موسیقار مجسمہ ساز بھی ہوا کرتے تھے۔ آج کل کے دَور میں ان سب خوبیوں، خوابوں، خاصیتوں اور خوشبوؤں کو یک جا کیا جائے، تو اکلوتا نام جو سامنے آئے گا، وہ ہے، جمال شاہ۔ مارچ کے مہینے میں عدم سے وجود میں آنے والے یعنی کوئٹہ، بلوچستان میں ایک پشتو بولنے والے سادات گھرانے میں پیدا ہونے والےجمال شاہ کی شخصیت شاید اسی لیے باغ و بہار ہے۔ موصوف پاکستان کی تہذیبی رُوح کی مجسّم تصویر ہیں۔

ان کی ذات فنونِ لطیفہ کے آسمان پرستاروں کی مانند جگمگاتی ہے۔ وہ محض ایک مصور ہی نہیں، ایک اداکار، ہدایت کار، موسیقار، ادیب، مجسمہ سازاورسماجی کارکن بھی ہیں۔ گویا اُن کی شخصیت رنگوں، نغموں اور خوابوں سے بُنی ہوئی ایک دل کش ترین داستان ہے۔ اس میں ہلکا پُھلکا سا نمکین تڑکا سیاست کا بھی لگا لیجے کہ وہ نگران کابینہ میں وفاقی وزیرِثقافت کے منصب پر بھی فائز رہے۔

ہم نے اُن کی زندگی کی کچھ دل چسپ کہانیاں جمع کی ہیں، جو آپ کو بھی سُنانے والے ہیں، تو دل تھام کر بیٹھیے۔ من موہنی شخصیت آمنہ شاہ، جو کہ ’’ہُنرکدہ‘‘ کے انتظامات سنبھالنے میں جمال شاہ کی مُعاون ہیں، معاملاتِ زندگی میں بھی اُن کی معاونِ خصوصی یعنی زوجہ محترمہ ہیں۔ ہمارا ایک سرکاری سیمینار کے حوالے سے اُن سے رابطہ ہوا۔ سیمینار کے دن ہم پہنچے تو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے بچپن کی پسندیدہ ترین شخصیت جمال شاہ سے رُوبرُو، آمنے سامنے، بالمُشافہ ملاقات ہونے کو ہے۔

اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ شاہ جی اپنی مخصوص شاہانہ نیم مسکراہٹ کے ساتھ چلے آرہے ہیں۔ چال میں وہی دبدبہ جو ہمیں ’’بارش کے بعد‘‘ ڈرامے کے دِنوں میں نظر آتا تھا۔ بیٹھتے ہی ہم نے پوچھا کہ ’’سر! کیا آپ کو یاد ہے، اُس ڈرامے میں آپ نے لیفٹ ہاتھ پر پٹی باندھ رکھی تھی اور ایک ناہنجار ولن کو گونج دار تھپڑ رسید کیا تھا۔‘‘

مُسکرائے اور بولے۔’’حیرت ہے، آپ کو یاد ہے۔‘‘ ہم نے کہا۔ ’’کیسے نہ یاد ہوتا، ہم بھی لیفٹی ہیں اور آپ ہی کے نقشِ قدم بلکہ نقشِ دست پرچلتے ہوئے کافی عرصہ لیفٹ ہاتھ سے ناہنجاروں کو تھپڑ رسید کرنے کی مشق میں محو و مصروف رہے۔ بقول فیض، ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے۔‘‘ فیض کا ذکر آیا تو شاہ جی کے حُکم پر ہم نےاپنا ایک شعر سنایا کہ ؎

عشق وہ ساتویں حِس ہے کہ عطا ہو جس کو

رنگ سُن جاویں اُسے، خوشبو دکھائی دیوے

شعر سُن کرمُسکرائے اور کہنے لگے کہ ’’اِس شعر پر تو پینٹنگ بننی چاہیے۔‘‘ ہمارے لیے اُن کا یہ کہنا سند ہے۔ خیر، سیمینار بخیر و خوبی نمٹ گیا تو ایک دن ہم نے آمنہ سے موصوف کے بارے میں کچھ جاننا چاہا۔ اُنہی کی زبانی مختلف قصّے سُنائے دیتے ہیں۔ بولیں کہ ’’سادگی، بھولپن اور معصومیت کی اگر کوئی انتہا ہوتی ہے، تو جمال شاہ اُسی پر فائز ہیں۔ وہ بھی اپنی دھیمی دل آویز مسکراہٹ سمیت۔

اس حوالے سے ایک پُرلُطف مثال یہ ہے کہ کبھی ڈرائیونگ سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور ایک آدھ بار بُھولے سے کسی یار بیلی نے زبردستی سکھانے کی ضد کربھی دی تو موصوف سیکھ کرنہیں دیے۔ ایک بار کہیں جانا تھا تو کسی دوست نے ڈراپ کیا۔ واپسی پر مجھے فون کیا کہ آمنہ! مجھے پِک کرلو۔ مَیں نے پوچھا کہ کہاں سے؟ تو کہنے لگے کہ ’’ارے بھئی! مَیں یہ شیشے والی عمارت کے سامنے کھڑا ہوں۔ اونچی سی ہے۔‘‘ اب مَیں تھوڑا سٹپٹائی کہ ’’اللہ کے بندے! کوئی سیکٹر کی خیرخبر، کوئی سڑک وغیرہ کا پتا، کوئی سمت کا سُراغ ؟‘‘

معصومانہ لہجے میں بولے۔’’بس یہ شیشے والی بلڈنگ ہے۔ اس کےآگے ڈبل روڈ ہے تو آپ آجاؤ۔‘‘ لوکیشن بھیجنے کو کہا تو وہ بھی موصوف کو بھیجنی نہیں آتی۔ بالآخر مَیں پوچھ پاچھ کر، دیکھ ریکھ کر، اِدھر مُڑ اُدھر مُڑ، آخرکار پہنچ ہی گئی۔ صاحب اُسی شیشے سے بنی عمارت کے سامنے ٹہل رہے تھے یا اپنے مداحین میں گھرے آٹوگراف دے رہے تھے۔‘‘ دوستو! یہ من موہنا حال ہے، ہم سب کے محبوب جمال شاہ کا۔

مصور ہو یا موسیقار یا مجسمہ ساز، عوامی رائے یہی ہے کہ فنونِ لطیفہ کے لوگ سُست الوجود ہوتے ہیں، کبھی کسی جگہ وقت پر نہیں پہنچتے اور مُنیر نیازی کی طرح اس مصرعے کی چلتی پِھرتی مثال ہوتے ہیں کہ ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہُوں مَیں۔‘‘ لیکن ہمارے جمال شاہ کے ہاں معاملہ الگ، نرالا اور انوکھا ہے۔ وقت کے اتنے پابند ہیں کہ جس محفل یا ایونٹ میں جانا ہو، اکثر اُس مقام پر اوّلین پہنچنے والےشخص یہی ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک دل چسپ واقعہ سُن لیجے۔ (دروغ برگردنِ راوی کہ نام جن کا آمنہ ہے) رمضان المبارک کے دن تھے۔ امریکن ایمبیسی نے افطار پر بُلوایا۔ تب ان کی سب سے بڑی بیٹی تین ماہ کی تھیں اورآمنہ کو افطارپرجانے سےقبل اُسے اپنی والدہ کے گھر چھوڑنا تھا۔ سواس کارِ لازم سے فراغت پا کر آمنہ گھر واپس پہنچیں، تیار ہوئیں۔ گھر پر افطار اس لیے تیار نہیں کی، کیوں کہ امریکن ایمبیسی افطار پرجانا تھا۔

یہی کرتے کراتے تھوڑی دیر ہوگئی تو جمال شاہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم اب نہیں جا رہے۔‘‘ ’’ارے…‘‘ آمنہ بولیں۔ ’’مَیں نے گھر پہ افطار نہیں بنائی۔‘‘ موصوف بولے۔ ’’نمک سے روزہ کھولوں گا مگر کسی جگہ لیٹ نہیں جاؤں گا۔‘‘ اور صاحبو! اُس دن اس دل پذیر شخصیت نے نمک اور پانی ہی سے روزہ کھولا۔ بعد میں آمنہ نے کچھ آرڈر کیا اور اشیائے خورونوش منگوائیں۔ سو، یہ ہے، جمال شاہ کی پابندئ وقت کی عادت کا احوال۔ ذرا سوچیے کہ آج کل کتنے لوگوں کو اس ذمّےداری کا احساس ہوگا۔

ایک بار ائیرپورٹ جانے کے لیے موصوف نے بیگم سے کہا کہ مجھے ڈراپ کردیں۔ پابندئ وقت کی عادت کے باعث دو ڈھائی گھنٹے قبل ہی گھر سے نکل آئے۔ گاڑی سڑک پر آئی اور اندازہ ہوا کہ ائیرپورٹ بہت جلد ہی پہنچ جائیں گے، تو کہنے لگے کہ “ آہستہ آہستہ گاڑی چلاؤ۔‘‘ ہرگاڑی چلانے والا جانتا ہے کہ دس یا بیس کلومیٹر کی رفتار سے گاڑی چلانا اور وہ بھی بڑی شاہ راہ پر مسلسل گاڑی چلانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ لگتا ہے، کسی ضعیف کچھوے پر بیٹھے ہیں۔

مقصد موصوف کا یہ تھا کہ گھر سے تو نکل آئے ہیں تاکہ دیر نہ ہو، مگر اب بہت آہستہ آہستہ جائیں گے تاکہ بہت جلدی بھی نہ پہنچ جائیں۔ اسی لیے آمنہ کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ڈرائیور رکھا جائے، ورنہ جمال کے ساتھ ڈرائیو کمال کی چیز بن جاتی ہے۔ یہ تو ہوا، ائیرپورٹ تک پہنچنے کا کھٹ مِٹھا احوال۔ ائیرپورٹ سے پِک کرنے کی کہانی دیوانی بھی سُن لیجے۔ جمال عموماً اس بات سے کتراتے ہیں کہ زیادہ لوگ انہیں پہچان کر اُن کے ارد گرد اکٹھے ہوجائیں۔

لاکھوں کے محبوب شہرۂ آفاق اداکار اور عالمی سطح پر پہچانے جانے والے مصور و مجسمہ ساز ہونے کے باوجود وہ تنہائی پسند ہیں اور شہرت سے دُور بھاگتے ہیں۔ سو، ائیرپورٹ پرلینڈ کرتے ہی اُن کی کوشش ہوتی ہےکہ جلدازجلد کوئی اُنہیں لینے آجائے تاکہ ائیرپورٹ جیسے ہجوم بَھرے مقام سے فوری نکلا جاسکے۔ ایک مرتبہ یُوں ہُوا کہ اسی بھاگم دوڑ میں ٹریفک اشارے پر آمنہ کا چالان ہوگیا۔ اُنہوں نے وارڈن سے گزارش کی کہ ابھی مجھے جانے دیں، واپسی پر چالان کرلیجےگا، کیوں کہ میرے شوہر ائیرپورٹ پر کھڑے ہیں اور اُن کی دوسری کال آچُکی ہے۔ وارڈن کوئی بھلا مانس تھا۔

اُس نے اِس وعدے پر جانے دیا کہ آپ واپسی پرچالان لازمی کروائیں گی۔ خیر، محترمہ ائیرپورٹ پہنچیں، جمال کو پِک کیا۔ واپسی پر وارڈن نے وعدے کےعین مُطابق پھر سے روک لیا، لیکن اس بار جمال شاہ بھی گاڑی میں تشریف فرما تھے۔ وارڈن صاحب کا ’’فین مومنٹ‘‘ آگیا۔ ایک عدد سیلفی اور آٹوگراف دے کر جان بخشی ہوئی۔ وارڈن نے جمال سے یہ بھی کہا۔ ’’آپ کو پتا ہے کہ میڈم نے آپ کے لیے اشارہ توڑا تھا، کیوں کہ اُنہیں جلدی جانا تھا۔‘‘ اس کہانی سے جمال شاہ کی شخصیت کی سادگی بھی عیاں ہے اور معصومیت بھی۔

ایک اور دل چسپ واقعہ یہ ہے کہ ایک بار جمال شاہ کو سی ڈی اے میں کہیں پریزینٹیشن دینا تھی۔ زوجہ محترمہ یعنی آمنہ شاہ بھی ساتھ تھیں۔ ایک اندر کی بات بتاتے ہیں آپ کو۔ موصوف کی پُرلطف خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ محفل بور لگے تو بیٹھے بیٹھے، چُپکے چُپکے سوجاتے ہیں۔ ہاں کہیں کہیں مروّتاً بےدار ہو کے دیکھ بھی لیتے ہیں کہ محفل میں کچھ جان آئی کہ ابھی بھی نری سوختنی ہے۔ شاید غزالی مشہدی نے انہی کے لیے کہا تھا ؎

‎شورے شُد و از خوابِ عدم چشم کشودیم

دیدیم کہ باقیست شبِ فتنہ، غنودیم

(ایک شور اُٹھا اور ہم نے خوابِ عدم سے آنکھ کھولی لیکن دیکھا کہ فتنےکی رات ابھی باقی ہے، سو ہم پھر سوگئے) بہرحال، محترم بےدار ہونے کے بعد محفل کے سب سے زیادہ متوجّہ اور ہمہ تن گوش شخص ہوتے ہیں۔ نپی تُلی گفتگو اور پُراعتماد لہجہ۔ گہرا پُرسکون کھرج اور ٹھہری ہوکر بھی متحرک آواز۔ لیکن سی ڈی اے والی میٹنگ میں کچھ الگ ہوا۔ آمنہ بتاتی ہیں کہ جمال اپنی جیبوں میں کچھ ٹٹول رہے تھے۔

پوچھا کہ کیا ہوا تو کہنے لگے کہ ’’مَیں اپنی عینک بھول آیا ہُوں تو پریزینٹیشن تم دو۔‘‘ آمنہ حیران بھی ہوئیں اور بتایا کہ اُن کی تو تیاری نہیں ہے۔ جمال اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے انداز میں کہنے لگے۔ ’’کچھ زیادہ نہیں کرنا، بس سلائیڈز دیکھ کر پڑھنا ہے اور میرے پاس چوں کہ عینک نہیں ہے، سو مجھے نظر نہیں آئے گا۔‘‘ بقول آمنہ یہ بھی جمال ہی کی ایک انوکھی خاصیت ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی کام کرنے یا نہ کرنے کا ارادہ کر سکتے ہیں۔

چوں کہ پیدائشی آرٹسٹ اور فطری تخلیق کار ہیں، لہٰذا اُن کے فیصلوں میں ایسی بےساختگی ہے، جوساختہ نہیں، ایسی سچائی ہے، جو خاموش ہے، چیختی نہیں۔ ہمارے اس ہمہ صفت تخلیق کار کو اگر کبھی گھر بدلنا ہو تو زوجہ محترمہ نیا گھر دیکھنے بھالنے یا مول تول کرنے کے لیے اُنہیں ہم راہ نہیں لے جاتیں۔ سبب اُس کا یہ کہ کوئی نہ کوئی فین نکل ہی آتا ہے اور جمال ٹھہرے اپنی تنہائی میں مست۔

سو، ایک بار یونہی ہوا کہ آمنہ ایک گھر ٹھیک سے دیکھ بھال کر اپنی قوتِ فیصلہ کے تحت کرائے کی ایک رقم کی پیش کش کر کے پلٹ آئیں۔ اب پہلے توجمال کو یہ فکر ہوئی کہ آپ نے اتنی کم آفر کیوں کی؟ بہرحال، اُنہیں بتایا گیا کہ بھئی زور زبردستی تھوڑی ہے، اگر اُن صاحب کو آفر پسند ہوگی تو قبول کرلیں گے، ورنہ معذرت کر لیں گے۔ خیر، مالک مکان کو آفر پسند آگئی، قبول کرلی گئی اور پھر جمال گھر دیکھنے گئے تو وہی ہوا کہ حضرتِ مالک مکان اُن کے جاننے والے بھی نکل آئے، فین بھی۔ اور اُلٹا اِس بات پر مُصر ہوئے کہ’’پہلے خبر ہوتی تو مزید کم قیمت پرگھر دے دیتا۔

ابھی بھی حُکم کیجے؟‘‘ مگر جمال شاہ نے کہا کہ اب مَیں جس قیمت کا عہد کرچُکا ہوں، وہی ہرحال میں دوں گا۔ اسی گھر سے جب شفٹ ہونا تھا تو جمال مروت میں چار دن میں گھرچھوڑنےکا وعدہ کرکےآگئے۔ آمنہ جزبز ہوئیں۔ ’’ارے بھئی! چاردن کا وعدہ کا ہے کو کر آئے۔ سب سازوسامان باندھنا، بوریا بستر لپیٹنا کیسے ممکن ہوگا؟‘‘ مگرجمال نےاپنےمخصوص محبّتی انداز میں فرمایا۔ ’’سب ہوجائے گا۔‘‘ اور حیرت آمیز خوشی کی بات یہ ہے کہ سب ہو بھی گیا۔

چلیے آپ بھی کیا یاد کریں گے، ایک قصّہ اور سُن لیجے۔ ایک بارجمال شاہ کے ہاں ’’ہُنر کدہ‘‘ ہی میں کوئی ٹیلی ویژن پروڈکشن ہورہی تھی۔ موصوف نے حُکم دیا کہ سب کے لیے کھانا بنایا جائے تو آمنہ صاحبہ نے لوئر اسٹاف کے لیے الگ سے کھانا بنا دیا اور اداکاروں یا Lead Cast کے لیے الگ، جس کے پیچھے واحد وجہ یہ تھی کہ لوئراسٹاف روٹی سالن زیادہ شوق سے کھاتے ہیں، جب کہ مرکزی کرداروں والے اداکار اپنے وزن کے حوالے سے محتاط ہوتے ہیں۔

شاہ جی نے دسترخوان پر عدم مساوات دیکھی تو آمنہ سے کہا کہ سب کے لیے ایک ہی طرح کا کھانا چُنا جائے۔ کبھی غصّہ نہ کرنے والے جمال شاہ نے اس بات پر اپنے باورچی کو بھی ڈانٹا اور بیگم کو بھی نصیحت کی کہ آئندہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے یہ مساوات کے حامی، نامی گرامی جمال شاہ وہی ہیں کہ جنہیں 2021 ء میں فرانسیسی وزیرِ ثقافت نے اُن کی یادگار فنی خدمات کے واضح اعتراف کے طور پر Ordre des Arts et des Lettres کے موقر اعزاز سے نوازا۔ یہ صرف شاہ جی ہی کے ماتھے پر روشنی کا تاج نہیں تھا بلکہ مملکتِ خداداد کے لیے بھی فخر کا مقام تھا اور ہے۔

ویسے بچپن میں جمال شاہ کے گھر والے چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنیں، سفید کوٹ پہنیں اور نبضوں، دھڑکنوں اور سانسوں کی پُراسرار زبان سمجھیں۔ یہ الگ بات کہ جمال شاہ نے اپنی حسِ جمالیات کے ذریعے نبضوں، دھڑکنوں اور سانسوں کو تیز کرنے والے شعبوں کا انتخاب کیا یعنی فنونِ لطیفہ اور ان تمام شُعبوں میں جو کام یابی حاصل کی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

ویسے یہ بھی ایک ڈھکی چُھپی کہانی ہے کہ گھر والوں کی خواہش کے پیشِ نظر شاہ جی نے بولان میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے درخواست دی اور کام یابی بھی حاصل کر لی، مگر ان کے دل کی دھڑکنیں تو کسی اور ساز پر رقص کر رہی تھیں، سو گھر والوں سے کہا کہ وہ داخلہ حاصل نہ کر سکے، اور یوں خاموشی سے ارضیات میں بی ایس سی کی راہ اختیار کرلی۔

بعدازاں انہوں نے 1978ء میں یونی ورسٹی آف بلوچستان سےانگریزی ادب میں ماسٹرزکیااور1983 ء میں این سی اے سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لندن کے سلیڈ اسکول آف فائن آرٹس سے بھی فنونِ لطیفہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ سب ’’بائیو ڈیٹا‘‘ آپ نہ بھی جانیں تو صرف اتنا جان لیں کہ موسیقی ہو یا مجسمہ سازی، اداکاری ہو یا صداکاری، مصوری ہو یا شاعری، پاکستان بھرمیں فنونِ لطیفہ کے اداروں کا قیام و انتظام ہو یا سیاسیات میں جمالیات کا اہتمام، آپ جہاں جہاں جمال شاہ کا نام دیکھیں گے، آپ کو یہ نام خوشبو میں گُندھا، سُرمیں لپٹا، محبّت میں شرابور، رنگوں سے معمور، سچی تخلیق سے لب ریز اورعشق کی توفیق سے عطر بیز نظر آئے گا۔

آپ اسلام آباد میں ہوں اور آپ کا دل چاہے کہ پاکستانی ثقافت کو انسانی شکل میں مجسم دیکھیں تو ’’ہُنرکدہ کالج آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس‘‘ چلےجائیں، وہیں کہیں مصوری کے شاہ پاروں اور مجسمہ سازی کے شاہ کاروں کےدرمیان آپ کو پاکستانی ثقافت زندہ سلامت چلتی پھرتی نظر آئے گی اور اس کا نام ہوگا، جمال شاہ۔ (خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)