دودھ کا عالمی دن (World Milk Day) ہر سال یکم جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کی جانب سے 2001ء میں کیا گیا۔اور اس کا مقصد صرف دودھ کی تشہیر نہیں، بلکہ ڈیری انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں کسانوں، مویشی پال افراد، ڈیری فارمز اور غذائی تحفّظ کے نظام کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔
امسالا یعنی 2026ء کے ’’عالمی یومِ دودھ‘‘ کا مرکزی موضوع ’’خواتین کسانوں کا جشن‘‘ (Celebrating Women Farmers) مقرر کیا گیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر ڈیری فارمنگ کے شعبے میں کروڑوں خواتین محنت کشوں کا اہم کردار اجاگر کرنے کے ساتھ اس انڈسٹری سے وابستہ خواتین کی معاشی بہتری، غذائی تحفّظ اور دیہی ترقی میں ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور آگاہی مہمات وغیرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے اور عوام النّاس میں دودھ کی اہمیت، غذائی فوائد اور صحت مند زندگی میں اس کے بنیادی کردار کے ضمن میں شعور بے دار کیا جاسکے۔
دودھ کو صحت کے لیے انتہائی مفید بلکہ ایک مکمل غذامانا جاتا ہےکہ اس میں وافر مقدار میں موجود کیلشیم، پروٹین، وٹامنز اور دیگر اہم غذائی اجزاء بچّوں کی نشوونما، ہڈیوں کی مضبوطی اور مجموعی جسمانی صحت کے ضامن ہیں۔جب کہ اس میں غذائی اجزاء کے ساتھ ادویاتی عنصر بھی موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دودھ ایک طرف جسم کو غذائیت فراہم کر کے انسانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تو دوسری جانب شفا کی تاثیر لیے مختلف اقسام کے امراض سے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو، جہاں دودھ کسی نہ کسی شکل میں استعمال نہ ہوتا ہو۔ یہ چائے، کافی، دہی، مکھن، پنیر اور دیگر پکوان میں بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ واضح رہے، پاکستان کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک و زراعت اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان دودھ پیدا کرنے والے ممالک کی عالمی فہرست میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر آتا ہے۔
مختلف عالمی اداروں کی تازہ ترین درجہ بندیوں میں پاکستان عموماً پانچواں اور بعض اوقات چوتھا سب سے بڑا ملک مانا جاتا ہے، جہاں دودھ کی سالانہ پیداوار تقریباً65 ملین ٹن ہے، اس پیداوار کا بڑا حصّہ (تقریباً 60فی صد) بھینس کے دودھ پر مشتمل ہے اور یہ بنیادی طور پر چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے ایک کروڑ50لاکھ سے زائد دیہی فارمز سے حاصل کیا جاتا ہے، مگر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ پیداواری اعتبار سے اتنا بڑا ملک ہونے کے باوجود ایک عام پاکستانی شہری خالص دودھ سے محروم ہے، بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں خالص دودھ کا حصول جوئے شِیر لانے کے مترادف ہے۔
شہری علاقوں میں دودھ کی کئی ’’اقسام‘‘ دست یاب ہیں۔ کہیں زیادہ پانی مِلا دودھ کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، کہیں درمیانی درجے کی ملاوٹ کے ساتھ الگ نرخ مقرر ہیں، جب کہ نسبتاً کم ملاوٹ والے دودھ کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔صورتِ حال یہ ہے کہ بعض صارفین گوالوں سے برملا کہتے ہیں۔ ’’جناب! بھلے، پانی ملا دودھ دے دیں، مگر کیمیکل والا نہ دیں۔‘‘ یہ جملہ ہمارے معاشرتی المیے کی کتنی تلخ تصویر پیش کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں کولڈ اسٹوریج، پراسیسنگ اور حفظانِ صحت کے عالمی معیار کے مطابق دودھ کی فراہمی کے شعبوں میں بہتری کی اشد ضرورت ہے، تاکہ دودھ کی پیداواری صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔
اگرچہ ٹیٹرا پیک دودھ نسبتاً محفوظ اور معیاری سمجھا جاتا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی منہگائی کے دَور میں یہ عام آدمی کے لیے ایک اضافی معاشی بوجھ کے مترادف ہے۔ غریب، متوسّط طبقے کے بہت سے افراد خالص، معیاری دودھ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، نتیجتاً شہری یا تو ملاوٹ شدہ دودھ استعمال کرنے پر مجبور ہیں یا دودھ کی مقدار کم کرنے پر، جس کے براہِ راست اثرات بچّوں کی صحت، نشوونما اور خاندان کی مجموعی غذائی ضروریات پر مرتّب ہورہے ہیں۔
قرآن و حدیث میں ملاوٹ، دھوکا دہی اور ناپ تول میں کمی سے متعلق واضح ہدایات، سخت تعلیمات موجود ہیں۔ قرآنِ مجید میں حضرت شعیبؑ کی قوم کا ذکر آتا ہے، جو تجارت میں بددیانتی، ناپ تول میں کمی اور دھوکا دہی کرتی تھی۔ بارہا تنبیہ کے باوجود جب وہ باز نہ آئی، تو عذابِ الٰہی کا سامنا کرنا پڑا۔یہ واقعات محض قصّے نہیں، ہمارے لیے سخت تنبیہ اور سبق ہیں۔اسی طرح ایک مشہور حدیثِ مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔‘‘جس نے دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
یہ مختصر مگر نہایت سخت تنبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام میں ملاوٹ اور فریب صرف کاروباری نہیں، بلکہ اخلاقی، قانونی، ملّی اور دینی جرم بھی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی گئی۔ ہمارا مذہب ہمیں دیانت داری، سچّائی، انصاف کے ساتھ حلال رزق کے حصول کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں تجارت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس میں دھوکا، جھوٹ، فریب، خیانت اور ملاوٹ شامل نہ ہو، مگر افسوس کہ آج معاشرے میں جعل سازی اور ملاوٹ معمول بنتی جا رہی ہے۔
دودھ میں پانی، کیمیکل اور مضرِصحت اجزاء کی آمیزش سے لے کر روزمرّہ اشیائے خورونوش میں دھوکا دہی عام ہوتی جارہی ہے، نتیجتاً اعتماد کی بنیادیں کم زور پڑ رہی ہیں۔ دودھ کے عالمی دن کے موقعے پر صرف دودھ کی غذائی افادیت پر گفتگو نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہمیں اپنے اجتماعی رویّوں کا محاسبہ بھی کرنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دودھ فروش دیانت داری کی روش اپنائیں، حکومت معیاری ٹیسٹنگ اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے اورصارفین معیار پر ہرگز سمجھوتا نہ کریں۔
یہ دن ہمیں یہ اہم پیغام دیتا ہےکہ دودھ صرف غذا نہیں، اعتماد کی علامت بھی ہونا چاہیے۔ جس قوم کے پاس دودھ کی فراوانی ہو، مگر اس کے شہری خالص دودھ سے محروم ہوں، وہاں مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں، بلکہ نیّت، نظام اور اجتماعی رویّوں کی خرابی کا ہے۔
آئیے، اس عالمی دن کے موقعے پر عہد کریں کہ ہم ملاوٹ کے خلاف آواز بلند کریں گے، دیانت داری کو فروغ دیں گے، خالص اشیاء کی ترویج کریں گے، اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے، جہاں دودھ سمیت ہر چیز خالص ہو۔