• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک عدم اعتماد کامیاب، عمران خان وزیراعظم نہیں رہے

وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوگئی۔ عمران خان اب وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں رہے۔ 

پینل آف چیئر ایاز صادق نے اعلان کیا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ آئے اور یہ کثرت رائے کے ساتھ منظور ہوئی۔

اس قوم کے دکھوں اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں، شہباز شریف

قرارداد منظور ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے، آج نئی صبح طلوع ہونے والی ہے، آج کروڑوں عوام کی، ماؤں، بہنوں، بیٹوں، بیٹوں بزرگوں کی دعائیں قبول اللہ نے قبول کی ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اس کی مثال کم ملتی ہے۔

شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام اپوزیشن رہنماؤں کا نام لے کر ان کا اور پوری قوم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج پاکستان کے عوام کی قربانیاں رنگ لائی ہیں۔ آج یہ اتحاد ملک کو تعمیر کرے گا۔

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے جیلیں کاٹیں، تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ہماری بہنوں نے بھی جیلیں کاٹیں۔ ہم ماضی کی تلخیوں میں نہیں جانا چاہتے، انہیں بھلا کر آگے جانا چاہتے ہیں اور پاکستان کو عظیم بنانا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس قوم کے دکھوں اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے، کسی کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی نہیں کریں گے، انہیں جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے۔ لیکن قانون و انصاف اپنا راستہ لے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انصاف کا بول بالا ہوگا، عدلیہ کا احترام مل کر تسلیم کریں گے۔ میں، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان اس معاملے کے بیچ میں نہیں آئیں گے۔ 

آخر میں انہوں نے یہ شعر پڑھا:

جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

ویلکم ٹو پرانا پاکستان، بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زراری نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد خطاب کرتے ہوئے الفاظ کہے کہ "ویلکم ٹو نیا پاکستان۔"

اپنے خطاب کے آغاز میں بلاول بھٹو زرداری نے ایوانِ زیریں اور پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے اور ہم نے آج تاریخ رقم کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 اپریل 1973 میں اس ایوان نے آئین کو منظور کیا تھا۔ 10 اپریل 1986 کو بینظیر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کرکے ضیا الحق کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے لاہور تشریف لائیں تھیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج 10 اپریل 2022 ہے کو "ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان"۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں 3، 4 سال اس ایوان کا رکن رہا ہوں، جتنا ان برسوں کے دوران جو سیکھا ہے، زندگی بھر نہیں سیکھا ہوں۔

انہوں نے نے کہا کہ میں نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے خوابوں کے حصول کی خواہش کو ترک نہ کریں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو پھر مٹ جاتا ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے، پاکستان زندہ باد۔ 

جو جدوجہد کی وہ رائیگاں نہیں جانے دیں گے، مولانا اسعد

مولانا اسعد نے اپنے خطاب میں کہا میں پوری قوم، سیاسی و جمہوری طاقتوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں حقیقی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی اور بلآخر اپنی منزل پر پہنچ کر یہ پیغام دے رہی ہے کہ 2018 میں پاکستان پر قائم غیرآئینی حکمرانی کا خاتمہ کرکے آئینی حکمرانی کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔ 

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ انہوں نے جو جدوجہد کی ہے وہ رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ 

مولانا اسعد نے عدلیہ اور میڈیا کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے مظلوم طبقے کے لیے مجاہد کا کردار ادا کیا۔

عوام کو اعتماد دیں، خالد مقبول صدیقی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ تبدیلی صرف چہروں کی تبدیلی نہ ہو بلکہ اس سے عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی آئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اعتماد دیں، ایک ایسا ایوان دیکھیں جہاں 98 فیصد عوام کے اصل نمائندے یہاں موجود ہوں۔ 

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں نیا یا پرانا پاکستان نہیں بلکہ ایسا پاکستان چاہیے جہاں ہمارے بچے محفوظ ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، آپ اپنا وعدہ پورا کریں۔ 

ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اس جمہوریت کو سلام پیش کرتا ہوں جسے بچانے کی ہم نے کوشش کی۔ 

آج باپ پارٹی نے باپ ہونے کا حق ادا کردیا، خالد مگسی

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے سربراہ خالد مگسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم ایک جمہوری عمل کا حصہ بنے اور بہترین طریقے سے بنے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 12 سے 13 گھنٹے کی جدوجہد کی، یہ بھی تاریخ کا ایک حصہ بنے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ آج باپ پارٹی نے اپنے باپ ہونے کا حق ادا کردیا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے، کیونکہ اب بڑا ذمہ آیا ہے۔

خالد مگسی نے پینل آف چیئر سے متعلق کہا کہ آپ یہاں بیٹھے بہت اچھے لگتے ہیں، میرا دل کہتا ہے آپ یہیں بیٹھے رہیں۔ اس کے جواب میں ایاز صادق نے کہا کہ یہاں کوئی نہیں جانتا کہ میں خالد مگسی کو تب سے جانتا ہوں جب وہ تین برس کے تھے۔ 

کامیابی کا سہرا ان کے سر جنہوں نے ہمیں کامیاب کر کے یہاں بھیجا، اختر مینگل

بلوچستان عوامی پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا آج کی کامیابی اس کامیابی کا سہرا ان کے سر جاتا ہے جنہوں نے ہمیں کامیاب کرکے یہاں بھیجا۔ 

 ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے تابع یہاں کی عدالت، فوج اور عوام بھی ہیں۔ تمام اکائیوں کو جوڑنے والا آئین ہی ہے۔ اس کی جو پامالی کی گئی ہے اسے تاریخ میں سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا۔ 

سردار اختر مینگل نے کہا کہ آئین کی ذمہ داری ہم سب کی ہے، اگر ہم اسے ردی کی ٹوکری میں ڈالیں گے تو پھر کون اس آئین کو مانے گا؟

آج اس ہائبرڈ حکمرانی سے چھٹکارا ملا ہے جو ہم پر مسلط کی گئی، محسن داوڑ

محسن داوڑ نے اپنے خطاب میں ایوان میں موجود تمام اراکین اسمبلی کو مبارکباد دی۔ آج اس ہائبرڈ حکمرانی سے چھٹکارا ملا ہے جو 2018 میں ہم پر مسلط کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ یہ بات کہہ رہا تھا کہ یہ والا مرحلہ اتنا مشکل نہیں تھا، جو اب آنے والا لمحہ ہوگا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں موجود لوگ اس وقت عوام کی امیدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئیں تو اس سے زیادہ برا ہوگا۔ 

محسن داوڑ نے کہا کہ بیساکھیوں پر آنے والے لوگوں کے لیے یہ سبق ہے کہ جو اس طرح ایوان میں آتے ہیں ان کا یہی حال ہوتا ہے۔ 

انہوں نے کہا جو سب سے بڑے مسئلے کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا وہ دہشتگردی کا ہے، دہشتگردی کی روک تھام کے لیے ریاست کو پالیسی مرتب کرنی ہوگی۔ 

روس تو صرف بہانہ ہے، عمران خان نشانہ ہے، علی محمد خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے خطاب میں قائد اعظم کے قول کا حوالہ دیا اور کہا کہ مجھے فخر ہے، خوشی ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ ہوں، جس نے حکومت قربان کردی لیکن غلامی قبول نہیں کی۔  

ان کا کہنا تھا کہ آج آپ کے چہروں پر خوشی ہے، اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔ آج میری پارلیمانی امور کے وزیر کی ڈیوٹی تمام ہوئی۔  

ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن جو بہت سے لوگوں کے چہروں پر خوشی دے کر جارہا ہے، لیکن وہیں کئی سوالات بھی چھوڑے جارہا ہے۔ 

علی محمد خان نے کہا کہ تاریخ ایک سوال مولانا فضل الرحمان کے لیے چھوڑے جارہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان عمران خان کو امریکی ایجنٹ کہا کرتے تھے لیکن یہ کیسا ایجنٹ تھا جسے امریکا نے ہٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ 

علی محمد خان نے کہا کہ میرا لیڈر عمران خان ایک مرتبہ پھر دوبارہ آئے گا، اسی کرسی پر دوبارہ آئے گا، عوام کے ووٹوں سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عارضی ناکامی شکست کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ 

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نانا نے پوری مسلم امہ کو ایک مرتبہ جمع کیا لیکن عمران خان نے دو مرتبہ جمع کیا۔ 

بلاول بھٹو زرداری جب ان کی بات پر مسکرانے لگے تو علی محمد خان نے کہا کہ آپ ہنستے جائیں، آپ کے ہنسنے سے میرے حوصلے پست نہیں ہوں گے، میرے اور میرے لیڈر کے پیچھے بھی کروڑوں لوگ ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ اصلی شیر کون ہے۔  

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مسلم امہ کا بلاک بنانے کی بات کی وہ ان کا گناہ ہے، ان کا گناہ ہے کہ انہوں نے وزیراعظم ہونے کے ناطے مسلمہ امہ کی بات کی، ریاست مدینہ کی بات کی۔ سامراج کے سامنے ابیسلوٹلی ناٹ کہا۔ روس تو صرف بہانہ ہے، عمران خان نشانہ ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایک یہ بھی وقت تھا کہ یہاں ایبٹ آباد میں بوٹ آئے، لیکن ایک وقت تھا جب وہ وہاں منصوبے بناتے رہے کہ اگر عمران خان کی حکومت نہیں گری تو پاکستان کے لیے وقت سخت ہوجائے گا، اگر حکومت گرگئی تو پاکستان کو معاف کردیں گے۔  

علی محمد خان نے شعر پڑھا:

چلتے ہیں دبے پاؤں کہ کوئی جاگ نہ جائے
غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا
اس قوم کا حکم ہی فقط اس کی سزا ہے

ان کا کہنا تھا مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرا لیڈر کھڑا رہا، جھکا نہیں، گرا نہیں، ڈرا نہیں، بکا نہیں۔ آپ عمران خان کا کیا مقابلہ کرو گے اس کا ایک سپاہی یہاں آپ کے درمیان کھڑا ہے۔ 

امیر حیدر خان ہوتی کی سیاسی قیادت کو مبارکباد

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیر حیدر ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں یہاں بیٹھی تمام سیاسی قیادت اور اراکین اسمبلی کو مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا۔ 

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے اینٹی امریکا جذبات سنے، کاش ٹرمپ کی بغل بیٹھنے پر اور ٹرمپ کے فون کا انتظار کرنے، آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے دوران بھی امریکا مردہ باد کا خیال آتا یہی جذبہ ہوتا۔

امید ہے شہباز شریف بلوچستان کو نہیں بھولیں گے، اسلم بھوتانی

اسلم بھوتانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا امید ہے شہباز شریف صاحب بلوچستان کو نہیں بھولیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ میں جس علاقے سے ہوں وہاں گوادر ہے، اگر گوادر نہیں ہوتا تو سی پیک بھی نہیں ہوتا۔  

تحریک عدم اعتماد کی کارروائی

تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کے لیے منعقدہ قومی اسمبلی کا اجلاس نمازِ عشاء کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا جو 9 اپریل کی ڈیڈ لائن سے کچھ دیر قبل دوبارہ شروع ہوا تھا۔ 

اجلاس شروع ہوتے ہی اسد قیصر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایوان کی کارروائی پینل آف چیئر کے ممبر ایاز صادق کے سپرد کردی۔

ایاز صادق نے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ پر عمل شروع کروایا۔ 

اسپیکر قومی اسمبلی مستعفی

وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے استعفیٰ دیدیا جبکہ ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے استفعیٰ سے متعلق بھی متضاد اطلاعات تھیں۔  

ایوان میں ووٹنگ شروع ہوتے ہی اجلاس ملتوی

پینل آف چیئر کے ممبر ایاز صادق نے ایوان کی کارروائی شروع کی تو انہوں نے تحریک عدم اعتماد پڑھ کر سنائی۔ 

انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایاز صادق نے 9 اپریل کو ہی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع کرواتے ہی اجلاس کو 10 اپریل رات 12 بجکر 2 منٹ تک یعنی چار منٹ کے لیے ملتوی کیا۔ 

اس قلیل مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر شروع ہوا تو اس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبولﷺ کا تحفہ پیش کیا گیا۔

اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل قومی ترانہ پڑھا گیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے تحریک کو پڑھا اور کے بعد پینل آف چیئر نے ووٹنگ کروانے کی رولنگ دی۔

عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے روانہ

ووٹنگ کے دوران عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالا کے لیے روانہ ہوگئے۔ 

 قیدیوں کی گاڑیاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پہنچادی گئیں

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر قیدیوں کو لے جانے والی گاڑیاں پہنچادی گئی ہیں۔  

وزیراعظم عمران خان کا کسی صورت استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ  

وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ 

دھمکی آمیز خط اہم شخصیات سے شیئر کرنے کی منظوری

وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران غیر ملکی خط کو اہم شخصیات کو دکھانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ 

کابینہ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سے خط شیئر کیا جائے گا۔ 

وزیراعظم کی پارلیمنٹ آمد کا امکان

وزیراعظم کے چیمبر کو کھول دیا گیا ہے، وزیراعظم عمران خان کی اسمبلی آمد متوقع ہے۔

وزیراعظم کا سیکیورٹی عملہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گیا، وزیراعظم کچھ دیر میں پارلیمنٹ پہنچ رہے ہیں۔ 

عمران خان کا کوئی بھی اقدام قانون قبول نہیں کرے گا، اپوزیشن

متحدہ اپوزیشن نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں رہے، وہ آئینی، قانونی اور اخلاقی سب اختیار کھو چکے ہیں۔

متحدہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ عمران خان کا کوئی بھی اقدام قانون قبول کرے گا نہ اپوزیشن اور نہ ہی عوام۔ جب عمران خان وزیراعظم نہیں رہے تو ریاستی یا حکومتی اختیار سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ 

اسپیکر قومی اسمبلی کو ووٹنگ کروانے کا مشورہ

وقفے کے دوران اسپیکر اسر قیصر نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعلیٰ سطح افسران کو طلب کیا۔ 

ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح افسران کے اجلاس میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے پر مشاورت ہوئی۔ 

ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر، سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری قانون سازی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ 

ذرائع نے بتایا کہ سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری نے اسپیکر قومی اسمبلی کو آج ووٹنگ کا مشورہ دے دیا۔ 

بعدازاں ذرائع نے بتایا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ حکام نے اسپیکر قومی اسمبلی کو ووٹنگ کروانے کے لیے قائل کرلیا۔ 

اس سے قبل دوبارہ شروع ہونے والے پر قومی اسمبلی کے پینل آف چیئر امجد نیازی نے کہا کہ ہم اس آئین کے لیے کھڑے ہوں جو ہمیں خود مختار بنائے۔

اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں "ووٹنگ کروالیں" کے نعرے لگائے۔

خواجہ آصف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بحث کا وقت گزر چکا ہے، یہ اجلاس صرف ووٹنگ کے لیے بلایا گیا ہے، عمران خان اپنے لیے اور حواریوں کے لیے این ار او مانگ رہا ہے۔

قومی اسمبلی کے پینل آف چیئر امجد نیازی اجلاس کی صدارات کر رہے ہیں۔

شاہ محمود کی دوبارہ تقریر

اس سے قبل اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی شاہ محمود قریشی نے اپنی بقایا تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آپ غلامی کا طوق پہننا چاہتے ہیں، ہم کسی جارحیت کے حق میں نہیں، ہم بین لااقوامی قوانین پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پالیسی کا جنرل اسمبلی میں مظاہرہ کیا، ہم نے کہا کہ ہم امن میں کردار ادا کریں گے، تنازعات میں نہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکا سے بہتر کون جانتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی وجہ سے کتنی قربانی دی، ہمارے یوکرین کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے یوکرین کے وزیرِ خارجہ سے بات کی، کسی سے بگاڑنا ہمارا مفاد نہیں ہے، امریکا چاہتا ہے کہ ہم انہیں ہرمعاملے پر سپورٹ کریں جو امریکا کے لیے اہم ہے، کیا مسئلہ کشمیر مسئلہ نہیں؟

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم امریکا کو کہتے ہیں مسئلہ کشمیر میں کردار ادا کریں تو کہتے ہیں ’’نو‘‘، امریکا کہتا ہے یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، آپ اس سے غفلت نہیں کر سکتے، اگر عدم اعتماد نہیں آتی اور اسمبلی تحلیل ہو جاتی تو کیا الیکشن کمیشن 90 روز میں الیکشن نہ کراتا، آئینی ذمے داری ہے، قوم تقاضہ کرتی ہے کہ آپ آئینی ذمے داری سے غفلت نہیں برتیں گے، عوامی لیڈر عوام سے رجوع کرتا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے، 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں لاکھوں کا مجمع آیا۔

شاہ محمود نے کہا کہ دفترِ خارجہ نے اسلام آباد میں اور واشنگٹن میں ڈی مارش کیا، پارلیمنٹ کی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، اپوزیشن کو پارلیمانی سلامتی کمیٹی میں مدعو کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے ووٹنگ سے انکار نہیں کیا تھا، ہارس ٹریڈنگ کا ماحول پیدا کیا گیا، وفاداریاں بدلنے کی کوشش کی گئی، ضمیر فروشی کا بازار لگا سب نے دیکھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم اٹھانے والی قوتیں نہیں دیکھ رہی ہیں کہ وفاداریاں تبدیل کی جا رہی ہیں، سینیٹ میں ارکان خریدنے کی ویڈیو الیکشن کمیشن میں پیش کی، ایک سال ہو گیا، فیصلہ محفوظ ہے، انصاف نہیں ملا، حکومت کی درپردہ تبدیلی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ایک وقت آئے گا کہ تاریخ یہ ناٹک رچانے والوں کو بے نقاب کرے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے کہا کہ فیصلہ کرنا ہے کہ بحیثیت قوم کیسے چلنا ہے، غلامی سے یا خود داری سے، آج شاید ایوان میں میرا آخری دن ہے، وزیرِ اعظم نے روس کے دورے کا فیصلہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا، پاکستان چھوٹا صحیح، مگر خود مختار ملک ہے، حنا بی بی آپ غلامی کا طوق چاہتی ہیں ہم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں ہمارے مندوب نے پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا، یوکرین سے پاکستان کے اچھے تعلقات تھے اور ہیں، یوکرین سے تمام پاکستانیوں کو ہم واپس لے کر آئے، بلاول نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کو یوکرین سے کون واپس لائے گا میں نے کہا ہم لائیں گے، سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کے ثبوتوں کے باوجود ایک سال سے فیصلہ نہیں آیا۔

بلاول سے مشاورت، شہباز شریف باہر چلے گئے

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹوزرداری کی نشست پر آئے جس کے بعد دونوں ممبران کے درمیان مشاورت ہوئی۔

بلاول بھٹو زرداری سے مشاورت کے بعد شہباز شریف ایوان سے باہر چلے گئے۔

بلاول بھٹو کا اظہارِ خیال

شاہ محمود قریشی کے بعد قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جنابِ اسپیکر آپ ناصرف توہینِ عدالت کر رہے ہیں بلکہ آئین شکنی بھی کر رہے ہیں، اسپیکر صاحب! آپ ان کے جرائم میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ توہینِ عدالت کرتے ہوئے نا اہل ہو جائیں گے، عدالت کا حکم ہے کہ آپ کو آج ووٹنگ کرانا ہے، مگر آپ کا کپتان بھاگتے بھاگتے آئین شکنی کر رہا ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے نام لیے بغیر شاہ محمود قریشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ یہ جو شخص ابھی تقریر کر رہا تھا یہ آپ کو پھنسائے گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے شروع ہوا

آج ساڑھے 10 بجے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر نے ساڑھے 12 بجے تک وقفہ کیا تھا، مقررہ وقت گزرنے کے بعد نمازِ ظہر کے بعد اجلاس شروع کرنے کا کہا گیا تاہم اجلاس نماز کے بعد بھی شروع نہیں ہو سکا تھا۔

عدم اعتماد پر ووٹنگ رات 8 بجے ہو گی: حامد میر

’جیو نیوز‘ کے سینئر تجزیہ کار حامد میر نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے سلسلے میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں جن میں شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن رہنماؤں کو اسپیکر اسد قیصر کے حوالے سے گارنٹی دیتے ہوئے تقاریر کے دوران ہنگامہ آرائی نہ کرنے اور افطاری کے بعد رات 8 بجے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے چیمبر میں ہوئے ہیں۔

اپوزیشن کا اجلاس، زرداری کی شہباز سے ملاقات

اجلاس دوبارہ شروع ہونے میں تاخیر پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے اپوزیشن پارلیمانی رہنماؤں نے مشاورت کی ہے۔

مشاورتی اجلاس اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہوا جس میں اسعد محمود، اختر مینگل، خالد مگسی، شاہ زین بگٹی، محسن داوڑ، شاہدہ اختر علی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور ایوان میں حکومتی حکمتِ عملی سے متعلق بھی بات چیت کی گئی۔

اس دوران سابق صدر، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر پہنچ گئے ۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ووٹنگ کے لیے حکومت کے تاخیری ہتھکنڈوں پر بات چیت ہوئی۔

اجلاس صبح وقت پر شروع ہوا

آج صبح قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید و ترجمے سے کیا گیا، جس کے بعد نعتِ رسول ﷺ اور قومی ترانہ پڑھا گیا۔

اجلاس کی ابتداء میں رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی گئی۔

تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد قومی اسمبلی کے آج کے 6 نکاتی ایجنڈے کے اجلاس میں چوتھے نمبر پر ہے۔

پارلیمنٹ میں حکومت مخالف 195 ارکان موجود

پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کے 176 اور 19 پی ٹی آئی منحرف ارکان سمیت کُل 195 حکومت مخالف ارکان موجود ہیں۔

51 حکومتی ارکان اسمبلی میں موجود

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کے 51 ارکان موجود ہیں۔

عدالتی حکم کے تابع کارروائی چلائی جائے: شہباز شریف

فاتحہ خوانی کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا، اس حکم کے تابع اسپیکر کارروائی چلائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایوان آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ کو آج شکستِ فاش دینے جا رہا ہے، عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔

شہباز شریف کے اظہارِ خیال کے دوران حکومتی ارکان نے شور شرابہ کیا۔

اسپیکر کی بات پر شور

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ جو عدالت کا فیصلہ ہے اس پر من و عن عمل کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ایوان چلائیں گا، عدالتی حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوگا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت ہٹانے سے متعلق غیرملکی سازش پر بھی بحث ہوگی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے بین الاقوامی سازش کے ذکر پر بھی شور شرابہ ہوا۔

اسپیکر نے شاہ محمود قریشی کو شہباز شریف کی بات کا جواب دینے کی ہدایت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کیا کہا؟

جس کے بعد شاہ محمود قریشی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا، تسلیم کرتا ہوں کہ عدم اعتماد کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے، اس کا دفاع کرنا میرا فرض ہے، ہم آئینی جمہوری انداز سے عدم اعتماد کی تحریک کا دفاع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 12 اکتوبر کو ایک آئین شکنی ہوئی، عدلیہ کے سامنے کیس گیا تو ناصرف وضاحت تلاش کی گئی، بلکہ آئین میں ترمیم کی اجازت بھی دی گئی، مولانا فضل الرحمٰن نے بیان دیا کہ نظریۂ ضرورت کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ آج ہم سب نظریۂ ضرورت کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ مایوس ہوں لیکن اعلیٰ عدلیہ کا احترام کروں گا، عدلیہ نے کہا کہ ساڑھے 10 بجے اجلاس بلایا جائے گا، عدلیہ نے کہا کہ اجلاس جاری رہے گا اور ملتوی نہیں ہو گا جب تک عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔

’’ووٹنگ کراؤ‘‘ کے نعرے

اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے ’’ووٹنگ کراؤ، ووٹنگ کراؤ‘‘ کے نعرے لگائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے کی نظر میں آج 3 اپریل ہے، اتوار کو دفاتر کھولے گئے، اجلاس منعقد ہوا، کارروائی کا آغاز ہوا، عدالت نے فیصلے میں متفقہ طور پر رولنگ کو مسترد کیا،اپوزیشن 4 سال سے نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے عوام کے پاس چلتے ہیں، عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کر لیا، عدلیہ کے پاس ہمارے دوست کیوں گئے، از خود نوٹس کیوں لیا گیا، اس کا ایک پس منظر ہے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ قاسم سوری نے آئینی عمل سے انکار نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ایک نئی صورتِ حال آئی ہے، بیرونی سازش کی بات ہو رہی ہے اس لیے اجلاس کا غیر معینہ مدت تک ملتوی ہونا ضروری ہے، نیشل سیکیورٹی کا اعلیٰ ترین فورم ہے۔

شاہ محمود قریشی کے خطاب کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے ساڑھے 12 بجے تک قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا۔

اجلاس ملتوی، اپوزیشن کا ووٹنگ کا مطالبہ

اجلاس ملتوی کیے جانے پر اپوزیشن ارکان شہباز شریف کی سربراہی میں اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جنہوں نے اسپیکر سے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا، حکومتی ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔

اجلاس شروع ہونے میں تاخیر

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ساڑھے 12 بجے تک وقفہ کیا تھا، مقررہ وقت سے آدھے گھنٹے کی تاخیر کے باوجود اجلاس شروع نہ ہو سکا۔

اپوزیشن ارکان بینچوں پر موجود ہیں، اپوزیشن ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کورم پورا رکھنے کے لیے اپنی نشستوں پر رہیں۔

بلاول اسپیکر سے ملنے پہنچ گئے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کرنے اسپیکر چیمبر پہنچ گئے۔

بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

اس موقع پر چیئرمین پی پی پی نے اسپیکر اسد قیصر سے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر نہ کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹنگ نہ کرانا سپریم کورٹ کی حکم عدولی ہو گی، عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اسپیکر کی ذمے داری ہے۔

بلاول بھٹوزرداری نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق ووٹنگ آج ہی ہونا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر نے چیئرمین پیپلز پارٹی سے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اجلاس بلایا گیا ہے، جو بھی کروں گا قواعد و ضوابط اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں کروں گا۔

اپوزیشن ارکان کی اسپیکر سے ملاقات

اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر پہنچ گئے جہاں انہوں نے اسپیکر اسد قیصر سے ملاقات کی۔

اسپیکر سے مذاکرات کے لیےآنے والے اپوزیشن ارکان کے وفد میں مولانا اسعد محمود، سعد رفیق، ایازصادق، رانا ثناء اللّٰہ، محسن داوڑ، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ ، نوید قمر اور دیگر شامل ہیں۔

اپوزیشن ارکان نے ملاقات کے دوران اسپیکر اسد قیصر سے سپریم کورٹ کے آرڈر اور اسمبلی کے قواعد پر بات کی۔

اپوزیشن کے وفد نے واضح کیا کہ عدالتی حکم اور اسمبلی قواعد کی رو سے کوئی ایجنڈا لیا نہیں جا سکتا، تحریکِ عدم اعتماد پارلیمانی، جمہوری اور آئینی اقدام ہے۔

اپوزیشن وفد نے یہ بھی کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد سے روگردانی کر کے بچا نہیں جا سکتا، کوئی اور چیز زیرِ بحث لائی گئی تو یہ توہینِ عدالت اور آئین کے منافی ہو گا۔

اپوزیشن کا اجلاس: شہباز، بلاول، خالد مقبول شریک

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا اسعد، ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی اور دیگر نے شرکت کی۔

اپوزیشن پارٹیوں کے پارلیمانی اجلاس میں 176 ارکانِ قومی اسمبلی شریک ہوئے۔

اجلاس میں آج تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بارے میں حکمتِ عملی طے کی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریکِ عدم اعتماد آئینی و جمہوری حق ہے، اس کے لیے آج ہونے والی ووٹنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

حکومتی حکمتِ عملی بھی تیار

عدم اعتماد کی قرار داد سے نمٹنے کے لیے حکومت نے بھی حکمتِ عملی تیار کر لی۔

زرداری، بلاول، منحرف ارکان کی آمد

اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ پہنچ گئے۔

بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملنے ان کے چیمبر میں پہنچ گئے۔

منحرف ارکانِ اسمبلی بھی پارلیمنٹ پہنچ گئے۔

آصفہ بھٹو بھی پارلیمنٹ پہنچ گئیں

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئیں۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کیا کہا؟

پارلیمنٹ پہنچنے والے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ آئین اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آج ووٹ ہونا ہے، آج تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹ ہونا آئین کا تقاضہ ہے۔


وزیرِ اعظم کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا طریقہ کار

وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا طریقہ کار سامنے آگیا جس کے مطابق:

  • اسپیکر قومی اسمبلی تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد پڑھ کر سنائیں گے۔
  • قرار داد کے بعد ارکان کی آمد کے لیے 5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔
  • تمام ارکان کی آمد کے بعد لابیز اور داخلی دروازوں کو بند کر دیا جائے گا۔
  • اسپیکر قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ارکان کو ٹیلر کے پاس ووٹ اندراج کرنے کا کہیں گے۔
  • ارکان باری باری آ کر ٹیلر کے پاس اپنا نام لکھوائیں گے۔
  • نام کے اندراج کے بعد ارکان لابی میں چلے جائیں گے اور انتظار کریں گے۔
  • تمام ارکان کے ووٹ دینے کے بعد اسپیکر ووٹنگ ختم ہونے کا اعلان کریں گے۔
  • سیکریٹری ڈویژن لسٹ حاصل کریں گے، گنتی کر کے اسپیکر کو دیں گے۔
  • دوبارہ گھنٹیاں بجائی جائیں گی اور ارکان واپس ایوان میں آ جائیں گے۔
  • اسپیکر تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد پر ووٹنگ کے نتیجے کا اعلان کریں گے۔


ووٹنگ ہر صورت آج ہو گی: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہر صورت آج ہو گی۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ حکام کا کہنا ہے کہ خط کے معاملے پر ایوان میں بحث نہیں کی جا سکتی، اسپیکر قومی اسمبلی کوئی اور ایجنڈا نہیں لے سکتے۔

حکام کے مطابق آج ووٹنگ نہ کرانے پر اسپیکر کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ریڈ زون مکمل سِیل، خصوصی سیکیورٹی انتظامات

تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد کا ریڈ زون مکمل طور پر سِیل کر دیا گیا ہے، پارلیمنٹ جانے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کا راستہ کھلا ہے۔

ریڈ زون کے اطراف کسی ریلی، احتجاج یا جشن کے لیے لوگوں کو اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

جناح ایونیو پر چائنہ چوک، ایمبیسی روڈ سے راستے سِیل کر دیے گئے ہیں۔

جناح ایونیو پر چائنہ چوک، ایمبیسی روڈ سے پیدل جانے والوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس و رینجرز اور پنجاب پولیس و رینجرز کی نفری ریڈ زون کے اندر اور اطراف تعینات کی گئی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس، پی ایم سیکریٹریٹ اور سپریم کورٹ کے اطراف اسپیشل برانچ اور پولیس کے سادہ لباس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا؟

واضح رہے کہ جمعرات 7 اپریل کو سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو بحال کر دیا، تمام وزیر اپنے عہدوں پر بحال ہو گئے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے پانچ صفر سے متفقہ فیصلہ سنا دیا۔

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ آئین کے خلاف قرار دے کر کالعدم کر دی، وزیرِ اعظم عمران خان کی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھی مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم آئین کے پابند تھے، وہ صدر کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں کر سکتے تھے، قومی اسمبلی بحال ہے، تمام وزیر اپنے عہدوں پر بحال ہیں، اسپیکر کا فرض ہے کہ اجلاس بلائے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اسپیکر کو قومی اسمبلی کا اجلاس فوری بلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 9 اپریل کو صبح 10 بجے سے پہلے پہلے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران کسی رکنِ قومی اسمبلی کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا نہیں جائے، تحریکِ عدم اعتماد کا عمل مکمل ہونے تک اجلاس مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔

قومی خبریں سے مزید