• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

انداز مومنانہ ہونا چاہیے، نہ کہ کافرانہ

سنڈے میگزین میں کچھ بھی قرآن و حدیث کے برعکس شایع ہوگا، تو اس کی نشان دہی میرا فرض ہے اور یہ اِس لیے بھی ضروری ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے پتا نہیں تھا۔ میرا تبصرہ پڑھ کر آپ کو غصّہ تو بہت آتا ہوگا، لیکن میرا مقصد صرف آپ کو آگاہ کرنا ہے۔ ’’انٹرویو‘‘ میں مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کی سچّی، کھری باتیں پڑھیں، لیکن سوال یہ ہے کہ وفاق کی طرف سے تو صوبےکو فنڈ دیا جاتا ہے، اب اگر صوبائی حکومت ہی خرچ نہ کرے، تو وفاق کیا کرے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ماڈل کے ’’اندازِ کافرانہ‘‘ کا تذکرہ کیا گیا، جو بالکل اچھا نہیں لگا، کیوں کہ ایک مسلمان خاتون کا انداز مومنانہ ہونا چاہیے، نہ کہ کافرانہ۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ناقابلِ اشاعت نگارشات کی فہرست میں ضیاء الحق کی تحریر کا عنوان ’’لکھنے لکھانے کےآداب‘‘ پڑھا، توحیرت ہوئی، جو بے چارہ دوسروں کو آداب سِکھا رہا تھا، اُس کی اپنی تحریر ری جیکٹ ہوگئی۔ ایک بات اور، اگرکوئی کتاب آپ کے معیار کے مطابق نہیں، تو اس پر تبصرہ نہیں کیا کریں، مصنّف کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے تو بہتر ہےحوصلہ شکنی بھی نہ کی جائے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں بزرگ نامہ نگار، شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی کو جو جواب دیا گیا، وہ بھی تضحیک آمیز تھا۔ اگرانہوں نے یہ کہہ ہی دیا کہ ’’مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے‘‘ تو آپ جواباً کہہ دیتیں کہ، ’’عورت اور گھوڑی کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں۔‘‘ اگلے شمارے کے ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں منور راجپوت صدارتی اور پارلیمانی نظام پر بحث کرتے نظر آئے، جو کافی معلوماتی تھی۔ محمّد ارسلان فیاض نے بلوچستان کے تاریخی قبرستانوں کا تذکرہ کیا، تو افسوس ہوا، کیوں کہ شریعت میں تو پچاس سال بعد قبر مسمار کرکے نئی قبر بنانے کی اجازت ہے، تو پھر ہم کیوں قبروں کی پرورش کرہے ہیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں مختلف ڈشز کی تراکیب نظر سے گزریں تو یہ صفحے کا زیاں محسوس ہوا، آج کل تو یوٹیوب پر ہر ڈش کی ویڈیو موجود ہے۔ (مامے کا پُتر، نارتھ کراچی، کراچی)

ج: ہمارا خیال ہے، آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اب ساری دنیا کو سُدھارنے کی ذمّے داری ہمارے ہی ناتواں کاندھوں پر تو نہیں، ایک خادم ملک تھوڑے تھے کہ مامے کے پُتر بھی قطار میں آکھڑے ہوئے۔ یوں بھی مرد و عورت اور گھوڑے، گھوڑی سے متعلق آپ کے ’’مومنانہ‘‘ خیالات ہی سے قارئین آپ کی ذہنی حالت کا اندازہ لگالیں گے، ہمیں کچھ زیادہ کہنے سُننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

عرش سے چندبالشت دُور

زندگی کی ایک اور حسیں صبح روشن ہوئی اور سنڈے میگزین، آفتابِ جہاں تاب کی پہلی کرن بن کر آنگن میں جلوہ گر ہوا۔ بہت دنوں بعد بذریعہ خط آپ سے ہم کلام ہونے کا موقع مل رہا ہے، تو سوچتی ہوں، وہ سب کہہ ڈالوں، جو آپ کی مختلف تحریروں پر اب تک نہ کہہ سکی۔ میگزین کا مطالعہ تسلسل سے جاری ہے، جب آج تبصرے کا موقع ملاہے، تو سمجھ نہیں آرہا کہ تہنیت کے الفاظ کہاں سے لائوں۔ سالِ نو ایڈیشن میں آپ کا ’’حرفِ آغاز‘‘ پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا تھا۔ اور 2021ءکی بہترین چِٹھیوں میں اپنا نام دیکھ کر تو مارے خوشی کے بس عرش سے چند بالشت ہی دُور رہ گئی۔ تازہ شمارے میں تیکھی نظروں سے دیکھتی دوشیزہ کے سرِورق نے تو جریدے کو کچھ اور بھی جاذبِ نظر بنا ڈالا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ’’تذکرہ اللہ والوں کا‘‘ اپنی مثال آپ سلسلہ ہے۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ پڑھ کر بھی دل خُوش ہوگیا، ’’عجائباتِ لاہور‘‘ کی کیا بات ہے۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم کی منفرد تحریر، دل نشیں اندازِ بیاں سےجی بھر محظوظ ہوئی اور نصیحتوں کو تو پلّو سے باندھ لیا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘میں ماڈل کےبہترین پہناوے اور عالیہ کاشف کا رائٹ اَپ پسند آیا۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں منیب بٹ کی باتیں مزے کی تھیں۔ عرفان جاوید کی عُمدہ تحریر کی تو کیا ہی بات ہے، صحفح معنوں میں مستفید ہوئے۔ ’’حالات وواقعات‘‘ میں منورمرزا نے اچھا تجزیہ کیا۔ ویسے منور صاحب بہت مشکل سبجیکٹ ڈھونڈ کرلاتےہیں اور پھر حالات مُلکی ہوں یا بین الاقوامی، بہترین انداز سےروشنی ڈالتے ہیں۔ بے شک بہت ہی منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ سے ڈاکٹر صاحب نے معلومات میں مفید اضافہ فرمایا۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ کی شاہ کار منظر نگاری کی داد نہ دینا بھی یقیناً زیادتی ہوگی۔ ’’نئی کتابیں‘‘ ہوں اور تبصرہ منوّر راجپوت کا، تو خاصّے کی چیز تو آپ ہی آپ بن جاتی ہے۔ اب چلتے ہیں، محبّتوں کے طلسم کدے (آپ کا صفحہ) کی جانب، جو بہترین تبصروں اور شان دار جوابات سے خُوب جگمگا رہا ہے۔ ارے ہاں،ایک مزے کی بات تو بتانا بھول ہی گئی۔ ہماری میڈ بھی سنڈے میگزین بہت شوق سے پڑھتی ہے اور اسے ڈائجسٹ اور ناقابلِ فراموش کے صفحات بہت پسند ہیں۔ میری دُعا ہےکہ ہمارا یہ جریدہ قریہ قریہ، بستی بستی عوام النّاس کو یوں ہی لال گلال کرتا رہے۔ (شاہدہ ناصر، گلشنِ اقبال، کراچی)

ج:باقی سب تو ٹھیک ہے، بس جریدہ پڑھ کر لال گلال ہونا سمجھ نہیں آیا۔

اصل قدر دان

سچ کہوں تو آپ کا ہفتہ وار سنڈے میگزین ایک ایسی دستاویز ہے، جس کی اصل قدر صرف محمّد سلیم راجہ ہی جانتے ہیں اور اب تو آپ نے بھی اِس بات پہ مہرِتصدیق ثبت کردی ہے۔مستقل لکھاریوں، صفحات کو چارچاند لگانے والوں میں منور مرزا، رئوف ظفر، منور راجپوت، شفق رفیع، عرفان جاوید، عالیہ کاشف، محمّد ہمایوں ظفر، محمّد ارسلان فیاض وغیرہ شامل ہیں اور ہم ان سب کی خدمت میں تہہ دل سے سلام پیش کرتے ہیں۔ ( شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، مظفرگڑھ)

ج: جی ہاں۔ وہ کیا ہے کہ ؎ لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں…چلتے پھرتے مزار ہوتے ہیں… جن کے دامن میں خار ہوتے ہیں… قدر دانِ بہار ہوتے ہیں۔

شوبز کے شوبازوں کے پیچھے

کیا بات ہے جی، فروری کا آخری شمارہ تو بہت ہی خُوب تھا۔ سب سے اہم ماہرِ معاشیات، منیر احمد کا انٹرویو تھا۔ واللہ! وطنِ عزیز میں کیسے کیسے گوہرِ نایاب موجود ہیں۔ اُن کی باتیں دل چُھو رہی تھیں، کوئی ہے، جو اُن کے تصوّرات، خیالات، باتوں سے فائدہ اٹھائے۔ براہِ مہربانی ایسی ہی علمی و ادبی شخصیات کے انٹرویوز کو ترجیح دیا کریں، بجائے اس کےکہ شوبز کےشوبازوں کےپیچھے بھاگتے رہیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں ’’عجائباتِ لاہور‘‘ بھی اُجلی تحریر تھی۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم ہمیشہ نت نئے، اچھوتے موضوعات ہی کے ساتھ آتی ہیں اور تحریر خاصی پُراثر بھی ہوتی ہے۔ منور مرزا نے روس، یوکرین کے حوالے سے کئی جگہ ڈپلومیسی سے کام لیا۔ بہرحال، حالاتِ حاضرہ پر اُن کی خُوب گرفت ہے۔ ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے ہمیں کانوں کی حفاظت سے متعلق بڑی اچھی طرح آگاہ کیا۔ یہ الگ بات کہ مَیں کئی باتوں سے پہلے ہی واقف تھا، کیوں کہ میرے اپنے ماموں ای این ٹی اسپیلشٹ ہیں۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ میں روبینہ قریشی نے عمّان کی بھی خُوب سیرکروائی۔ منور راجپوت کا نئی کتابوں پر تبصرہ بہت جان دار ہوتا ہے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں تو حسبِ معمول، حسبِ روایت، جھڈو والوں ہی کا راج تھا۔ (سمیع عادلوف، جھڈو، ضلع میرپور خاص)

ج: صحیح کہہ رہے ہیں۔ شوبز کے شوبازوں کے نخرے دیکھ دیکھ کے تو ہمارا بھی دماغ خراب ہونے لگا ہے۔ کبھی کبھی تو جی کرتا ہے، اُن کا سِرے سے بائیکاٹ کردیاجائے۔ دو دو ڈراموں میں کام کرنے والوں نے چھے چھے سیکریٹری رکھے ہوئے ہیں۔ اور جو لوگ انہیں زمین سے اٹھا کے آسمان تک پہنچاتے ہیں، پھر اُن ہی سے یہ بات کرنا پسند نہیں کرتے۔

خُوب صُورت رشتوں کی قدر

سنڈے میگزین کے ذریعے رئوف ظفر نے ایک اچھا ’’فیچر‘‘ عنایت کیا، واقعی ویڈیو گیمز سے نوجوان خطرناک نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ’’انٹرویو‘‘ میں گلگت بلتستان کی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت، کلثوم فرمان سے بات چیت بہت پسند آئی۔ اس سے قبل بلوچستان کی بشریٰ رند کاانٹرویو بھی اچھا لگا تھا۔ ’’حالات وواقعات‘‘ میں منور مرزا نے اقتصادی پابندیوں پر اچھا مضمون تحریر کیا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ کے ضمن میں عُمدہ نگارش لکھی گئی۔ آپ کا بےحد شکریہ کہ عرفان جاوید کی ’’آدمی‘‘ کےساتھ آمد یقینی بنائی۔’’ اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ سلسلہ پڑھ کر ہمیشہ بہت خوشی ہوتی ہے۔ دل میں اپنے کئی خُوب صُورت رشتوں کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

سراپا علم و ادب ہیں

اس بار ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمد عزالی نے حضرت بہاء الدین نقش بند ؒکی حیات کے گوشے ایسے وَا کیے کہ دل میں ایمان کی حرارت بڑھ گئی۔ ونگ کمانڈر محبوب حیدر سحاب ہمارے فوجی جوانوں، عظمتوں کے نشانوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے۔ ’’عجائبات لاہور‘‘ ایک زبردست قلمی نسخہ معلوم ہوا۔ ’’مدینہ اکنامکس‘‘ پرمعروف ماہرِمعاشیات، محمّدمنیراحمد سے رئوف ظفر کی بات چیت کا جواب نہ تھا۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم کا کہنا صد فی صد درست کہ اگر دل زندہ ہے، تو پھر چمن کا ہر ذرّہ آفتاب ہے۔ ماڈل عمّارہ کے چہرے پر گُھلے قوسِ قزح کے رنگ بھلے لگے۔ صاف گو، منیب بٹ کی دل کی باتیں زبردست تھیں۔ ہندکو زبان سے متعلق تحریر پسند آئی، دیگر زبانوں کے حوالے سے بھی ایسی تحریریں شامل ہونی چاہئیں۔ عرفان جاوید تو سراپا علم و ادب ہیں، ڈاکٹر آصف اسلم فرخی سے متعلق کیا لفظ لفظ موتی پروئے ہیں۔ دنیا کو امن و محبت کا پیغام دینے والے قلم کار، منور مرزا یوکرین جنگ کے تناظر میں عُمدہ تجزیہ لائے۔ ’’صوتی آلودگی‘‘ کو زیر بحث لاتے ہوئے ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے معلومات افزا مضمون تحریر کیا۔ روبینہ قریشی نے بھی عمّان کا کیا خُوب نقشہ کھینچا کہ بےاختیار دل سیرکو مچل اٹھا۔ اپنے قلم میں بجلی، شعلے کی سی حرارت رکھنے والے لکھاری منور راجپوت کا نئی کتابوں پر تبصرہ جریدے کی شان کچھ اور بھی بڑھا گیا۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو پورے ’’سنڈے میگزین‘‘ کی جان ہے۔ میری چِٹھی کو اعزاز کے قابل سمجھنے کا بےحد شکریہ۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص)

ج: آپ کی تحریر میں مسلسل بہتری آرہی ہے اور آپ کی مستقل مزاجی کا بھی جواب نہیں۔

مہکتا گُل دستہ، ہر قسم کا پھول

خرابئ صحت کے باعث کچھ عرصہ خط لکھنے سے معذور رہا۔ لیکن اب دوبارہ خط لکھنے کی تحریک محمّد سلیم راجا کا خط پڑھ کر ہوئی کہ انہوں نے اپنے مکتوب میں میرا نام بھی لیا۔ مَیں محمّد سلیم راجہ کا شُکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھےیاد رکھا۔ تازہ ترین شمارہ میرے ہاتھوں میں ہے اور میں اِس کے چیدہ چیدہ مضامین پڑھ چُکا ہوں۔ مضامین کیا ہیں، ایک ایسا مہکتا ہوا گل دستہ ہے، جس میں ہر قسم کا پھول موجود ہے۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ سلسلہ پڑھنے کے قابل ہے کہ لکھنے والے اپنے جذبات کا اظہار بڑی عُمدگی سے کرتے ہیں۔ ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ کی مناسبت سے خصوصی افسانہ ’’حوّا‘‘ سبق آموز تھا۔ ماڈل اور ماڈلنگ کچھ خاص پسند نہیں آئی۔ مضمون ’’آئرن لیڈیز‘‘ اچھی، قابلِ قدر کاوش تھی۔ ہائے وہ بسنت بھی ایک مزے دار مضمون لگا۔ کلثوم فرمان کا انٹرویو خُوب تھا، بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ (ظہیر الدین غوری، لاہور)

ج:براہِ مہربانی حاشیہ، سطر چھوڑ کر خط لکھنے کی عادت ڈالیں۔

                      فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

سلامِ محبت، نرجس جی!! خدا خدا کرکے ناول بھی ختم ہو ہی گیا۔ پلیز، اب ہم جیسے کم عقلوں کے لیے بھی کوئی ناول شروع کردیں، کیوں کہ ’’دُھندلےعکس‘‘کم ازکم ہمارےلیےتوقطعاً نہیں تھا، ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے یوکرین جنگ کا تذکرہ کیا، یہ بھی عجیب وحشی لوگ ہیں، پُرامن زندگیاں اِنہیں راس ہی نہیں۔ پہلے مسلمانوں کے خلاف محاذ گرم رکھتے تھے، اب آپس ہی میں لڑ مر رہے ہیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری نے ’’عجائباتِ لاہور‘‘ کی تفصیلات پیش کیں، بہت خُوب۔ ’’انٹرویو‘‘میں ماہرِمعاشیات، محمّد منیر احمدجیسے معزز شخص سے مل کر بہت اچھا لگا۔ بےشک، ’’ساتویں صدی کی مدینہ اکنامکس ہی مسائل کا حل ہے‘‘۔ ’’اسٹائل‘‘ میں عروسی پہناوے، دُلہنوں کے ملبوسات تھے، دل تو بہت چاہ رہا ہے، تبصرہ کرنے کو، لیکن ’’ظالم سماج‘‘ پھر مذاق اُڑائے گا، سو، نو کمنٹس۔ ویسے یہ جب جب بھی مَیں نے ظالم سماج کی وجہ سے اپنے دل پر پتھر رکھا ہے ناں، اِن سارے لمحات کا حساب ضرور لیا جائے گا۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں منیب بٹ کہہ رہے تھے کہ ’’تین سال تک صرف آڈیشنز دیئے‘‘ تو یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہےبھیا!اتنی مستقل مزاجی سے کوئی ڈھنگ کاکام ہی کرلیتے۔ اداکاری کے پیچھے خوار ہو کرکون سا تیرمار لیا ۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم نے تو ہمارے دل کی بات کہہ دی کہ کھانوں میں نہیں، لب و لہجے میں مٹھاس بڑھائیں۔ ویسے ڈاکٹر صاحبہ! آپس کی بات ہے، میٹھا کھائیں گے نہیں، تو میٹھا بولیں گے کیسے … ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر عاطف حفیظ کا کہنا تھا کہ ’’مستقل شور اور قریب سے سنی جانے والی تیز آوازیں سماعت کو نقصان پہنچاتی ہیں‘‘۔ آہ!افسوس ڈاکٹر صاحب، آپ اب تک کہاں تھے، آپ نےیہ بات بتانےمیں اتنی دیرکردی کہ اب ہمیں آہستہ اور دُور سے کچھ سُنائی ہی نہیں دیتا(ہاں، امّاں کی للکار کی بات الگ ہےاور اگر اپنے مطلب کی بات ہو، تو وہ بھی سُنائی دے ہی جاتی ہے) اب نرجس جی، اِسے ہمارا کوئی ڈراما نہیں سمجھ لیجیے گا۔ سچ میں، بہت سے لوگوں کو شکوہ ہے کہ ہم اُن کی بات کانوں میں مارجاتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں جو بات نہیں سُننی ہوتی، وہ درحقیقت سُنائی ہی نہیں دیتی۔ ہاہاہا..... اور اب بات، ہمارے صفحے کی۔ اسلم قریشی نے اپنی ماں جی کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کی تھی، ،تو ہم نے بہت خصوصی دُعا کردی ہے۔ اور ’’برقی خطوط‘‘ میں نظر سے گزرا کہ کوئی شان ساقی صاحب نیا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے سلیوٹ پیش ہے، بندےکی پُراعتمادی کو، سیر کو بھی سوا سیر ٹکرہی جاتے ہیں۔ آپ بڑی ذہین و فطین، حاضر جواب ہیں تو کیا، دنیا میں اور بھی بڑے طرّم خان پڑے ہیں۔ (اسماء خان دمڑ، سبّی، بلوچستان)

ج:اسماء !اللہ خیر کرے، پوری چِٹھی میں کہیں ’’ویاہ‘‘ کا تذکرہ ہی نہیں آیا۔ عروسی پہناوے دیکھ کے بھی تم نے ضبط کا دامن تھامے رکھا، اب لگتا ہےکُڑی، بی اے کر ہی لے گی یا کہیں امّاں کی کوئی ڈوئی شوئی، لتّر، جُتّی سخت تو نہیں لگ گئی۔

گوشہ برقی خطوط

* روس نے یوکرین پر حملہ کردیا، جب کہ منور مرزا کا آرٹیکل کچھ اور ہی بیان کررہا تھا، جو موجودہ صورتِ حال سے یک سر مختلف ہے۔ (جاوید علی)

ج: آپ نے بالکل درست نشان دہی کی۔ روس کے یوکرین پر حملےسے متعلق دنیا کے بڑے بڑے کریٹکس کے اندازے بھی غلط ثابت ہوئے۔ منور مرزا کا آرٹیکل پریس جانے تک کی صورتِ حال یک سر مختلف تھی، جو دِنوں میں تبدیل ہوئی اور دنیا بھر کے تھنک ٹینکس کے تجزیات کے بالکل برعکس۔ ایسے میں ہمارے اندازے کا غلط ثابت ہوجانا کچھ زیادہ اچنبھے کی بات نہیں۔ آپ لوگ ہمیں اِس بات کا مارجن بھی دیا کریں کہ ہمارا شمارہ مارکیٹ میں آنے اور کاپی پریس جانے کے بیچ کم از کم 10روز کا فرق ہوتا ہے۔

* مَیں صرف آپ کو، آپ کے رویّے کا احساس دلانے کے لیے یہ ای میل کررہا ہوں۔ آپ اس قدر جلی بُھنی کیوں رہتی ہیں۔ خطوط کا جواب ایسے دیتی ہیں، جیسے ہم پر کوئی احسانِ عظیم فرما رہی ہوں۔ اگر آپ اس ملازمت سے اتنی ہی تنگ ہیں، تو کوئی اور نوکری ڈھونڈ لیں۔ براہِ مہربانی خود کو عقلِ کُل سمجھنا بند کریں۔ (امان رزمی، اسلام آباد)

ج: آپ اسلام آباد میں کوئی نوکری ڈھونڈ دیں ہمارے لیے۔ بخدا، اس ملازمت سے زیادہ ہم کراچی شہر کی بدنظمی و گندگی سے تنگ ہیں۔ آپ کو 4دن یہاں رہنا پڑ جائے اور خوش مزاجی، شائستگی کے معنی بھی یاد رہ جائیں تو ہمیں کہیے گا۔ اور ہاں، ہم عقلِ کُل تو نہیں، مگر عقلِ جزو ضرور ہیں۔ ویسے آپ اس قدر جلے بُھنے ہوئےکیوں ہیں …؟

* میگزین لاجواب، باکمال ہے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ پڑھنے سے تو جیسے رُوح کِھل اٹھتی ہے۔ سچ میں پورے جریدے کا مطالعہ ایک طرف اور آپ کے کھٹ مِٹھے جوابات کا لُطف ایک طرف، خصوصاً خادم ملک سے ہونے والی نوک جھونک کا تو کوئی مول ہی نہیں۔ (سعادت خان منٹو)

ج: کوئی جوابات سے بھرپور لُطف اٹھاتاہے، تو کوئی بدتہذیبی، غیرشائستگی پر محمول کرتا ہے۔ سچ ہے ؎ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔

قارئینِ کرام !

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید