کراچی کی وہ سڑک، جو کبھی شہر کی سانس سمجھی جاتی تھی، آج گرد وغبار اور بےترتیبی کا منبع بن چُکی تھی۔ یونی ورسٹی روڈ، جو کراچی کے دل کو مشرق و مغرب سے جوڑتی ہے، کبھی درختوں کی سبز قطاروں، صُبح کی نرم دھوپ اور شام کی خنک ہوا کے باعث پہچانی جاتی تھی۔ مزارِ قائد سے پہلوان گوٹھ تک پھیلا رستہ، ہزاروں خاندانوں کی روزمرّہ زندگی کا حصّہ تھا اور جب Red Line Bus Rapid Transit کے تحت کھدائی کا آغاز ہوا، تو کسی نے سوچابھی نہیں تھا کہ یہ تعمیر، ایک طویل آزمائش میں بدل جائے گی۔
احمد کا گھر پہلوان گوٹھ کے قریب ہی تھا۔ ایک سادہ سا مکان، جس کی بالکونی سے سڑک کا منظر واضح دکھائی دیتا تھا۔ احمد صُبح سات بجے موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتا تو اس کی بیوی نادیہ دروازے تک آتی اور کہتی۔ ’’ذرا احتیاط سے جانا، کل والا گڑھا ابھی تک نہیں بھرا گیا۔‘‘احمد مُسکرا کر جواب دیتا۔ ’’اب تو گڑھے بھی اپنے اپنے لگنے لگے ہیں۔‘‘
مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے تھکن چُھپی ہوتی۔ علی اور مریم اسکول یونی فارم میں تیار کھڑے پوچھتے۔’’ابو! آج دیر تو نہیں ہوگی؟‘‘ احمد کہتا۔’’دیر تو ہوگی بیٹا، مگر ہم نکلیں گے تو پہنچ ہی جائیں گے۔‘‘وہ سب جانتے تھے کہ ٹریفک جام اب روز کا معمول ہے۔ کئی بار علی گھر آکر شکایت کرتا۔ ’’آج پھر ٹیچر نےکہا ہے، وقت پر آیا کرو۔
مَیں نے بتایا سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، توکہتی ہیں،بہانے مت بنایا کرو۔‘‘ نادیہ اُسے گلے لگا کر کہتی۔ ’’بیٹا! یہ وقت بھی گزرجائے گا۔‘‘احمد کو سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی، جب وہ دیکھتا کہ سٹی گورنمنٹ کی جانب سے پیوندکاری کے باوجود گڑھے چند دنوں میں دوبارہ گہرے ہو جاتے۔ ایک شام اس نے نادیہ سےکہا۔ ’’سال میں تین بار مرمت ہوئی، مگر معیار ایسا کہ اگلے ہفتے پھر وہی حال۔ کوئی پوچھنے والاہی نہیں؟‘‘ نادیہ بولی۔ ’’مسئلہ یہ ہے، نگرانی نہیں۔ اگر روزانہ معائنہ ہوتو شاید فرق پڑے۔‘‘ احمد بولا۔ ’’منصوبہ تو بڑا ہے، کہتے ہیں، تین لاکھ لوگ روزسفرکریں گے، مگر ابھی تو لاکھوں لوگ روز پریشان ہو رہے ہیں۔‘‘
اسلامیہ کالج سے جیل روڈ کی طرف ایک جگہ پی ایس او پمپ کے بعد گڑھوں کی مرمت ہوئی تھی۔ اگلے ہی دن زمین بیٹھ گئی۔ احمد موٹر سائیکل آہستہ کرتے ہوئے بڑبڑایا۔’’یہ مرمت نہیں، مذاق ہے۔‘‘ اُسی لمحے ایک رکشہ اچھل کرایک طرف جُھکا اور اُس میں بیٹھی خاتون چیخ اٹھیں۔ احمد نےرُک کر مدد کی۔ شام کو گھر آکر بچّوں کو بتایا تو علی نے کہا۔ ’’ابّو، اگر مَیں بڑا ہوکر انجینئر بنا تو ایسی سڑک نہیں بناؤں گا۔‘‘
احمد نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ’’بس یہی ارادہ قائم رکھنا۔‘‘ گلشنِ اقبال، بلاک تیرہ میں رشید صاحب کا گھر تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اکثر صُبح کی چائے بالکونی میں بیٹھ کر پیتے اور سڑک کی حالت دیکھتے۔ ایک دن پانی کی لائن پھٹی اور چار دن سپلائی بند رہی۔ عائشہ دفتر سے آکربولی۔ ’’ابّو! بالٹیاں بھرنے ہی میں آدھا وقت نکل جاتا ہے، اوپر سے ٹریفک میں دو گھنٹے ضائع ہوتے ہیں۔‘‘
حمزہ کہتا۔ ’’آن لائن کلاس کےدوران کیبل کٹ جاتی ہے، پروفیسر سمجھتے ہیں، مَیں بہانہ کررہا ہوں۔‘‘ رشید صاحب آہستگی سے کہتے۔’’منصوبہ بندی ہوتی تو پہلے لائنیں محفوظ کی جاتیں، پھر کھدائی ہوتی۔‘‘عائشہ تلخی سےجواب دیتی۔ ’’ابو، سب کو معلوم تھا،یہ ہوگا، مگرکسی نےنوٹس نہیں لیا۔‘‘ رشید صاحب تسبیح کے دانے گھماتے تسلی دیتے۔ ’’اُمید رکھو بیٹا، شاید اختتام بہتر ہو۔‘‘ نمائش کے قریب زبیر کاکار شوروم تھا۔
کاروبار پہلے ہی مشکل تھا، اب گاہک آنا چھوڑ گئے۔ ایک دن اُس نے فاطمہ سے کہا۔ ’’آج پورا دن ایک بھی کار سیل نہیں ہوئی، لوگ کہتے ہیں، راستہ خراب ہے۔‘‘ فاطمہ نے حساب کی کاپی دکھاتے ہوئے کہا۔ ’’پیٹرول، مرمت، دوائیوں کا خرچ بڑھ رہا، آمدن کم ہورہی ہے۔‘‘ زبیرکی ماں کھانستے ہوئے کہتیں۔ ’’بیٹا! دھول مٹی سے سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔‘‘ زبیر خاموش رہا۔ ایک شام اُس نے احمد سے ملاقات کی، جو اتفاقاً شوروم کے سامنے رُکا تھا۔
دونوں نےایک دوسرے کو پہچانا۔ احمد نے پوچھا۔ ’’کاروبار متاثر ہوا ہوگا؟‘‘ زبیر نے تلخ ہنسی ہنسی۔ ’’کاروبار تو جیسے سانس روک کربیٹھا ہے۔‘‘اِسی دوران سچل گوٹھ سے عیسیٰ بلوچ اپنی موٹرسائیکل پر نکلے۔ دل کی بیماری کے باوجود اُن کا حوصلہ بلند تھا۔ فیضانِ مدینہ بس اسٹاپ پر ان کا دوست انتظار کررہا تھا۔
’’آج پھر دیر ہوگئی؟‘‘دوست نے پوچھا۔ عیسیٰ نے کندھے اچکا دیئے۔ ’’مَیں تو آنا چاہتا تھا، ٹریفک نے جلد آنے ہی نہ دیا۔‘‘ دونوں دفتر جاتے ہوئے سڑک کی حالت پر گفتگو کرتے رہے۔ دوست کا بیٹا زعیم اکثر سوال کرتا۔ ’’بابا! اگر بسز پہلے بھی چلتی تھیں تو گرین بیلٹ کیوں کاٹی گئی، درخت کیوں ختم کیے؟ کیا یہ ضروری تھا؟‘‘ باپ کچھ دیرخاموش رہا، پھر بولا۔’’بیٹا! بڑے منصوبوں میں فیصلے مشکل ہوتے ہیں، مگر ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ سب بہتر ہوگا۔‘‘
چاروں خاندان ایک دن ایک تقریب میں ملے، جہاں پانی کی قلت اورٹریفک کے مسائل پر گفتگو ہونی تھی۔ احمد نے کہا۔ ’’ہمیں اجتماعی طور پر آواز اٹھانی ہوگی کہ کام معیار کے مطابق ہو۔‘‘ رشید صاحب نےحمایت کی۔ ’’ٹھیکےدار کی کارکردگی کی نگرانی ضروری ہے۔‘‘
زبیر بولا۔ ’’اگر سڑک جلد مکمل نہ ہوئی تو کئی کاروبار بند ہوجائیں گے۔‘‘عیسیٰ بلوچ دھیمے لہجے میں بولا۔ ’’ہم صحافی ہیں، ہمیں بھی آواز بلند کرنی چاہیے، مگر ذمّےداری سے۔‘‘ نادیہ کہہ رہی تھی۔ ’’شجرکاری کا مطالبہ بھی کریں، بچّوں کے لیے سایہ چاہیے۔‘‘سب نے اتفاق کیا کہ میئر اور وزیرِاعلیٰ کو براہِ راست نگرانی کرنی چاہیے۔
گرمیوں کی ایک دوپہر مریم اسکول سے واپسی پر بےہوش ہوگئی۔ احمد اُسے اُٹھا کر کلینک لے گیا۔ احمد گھر آکر پریشان بیٹھا تھا کہ عیسیٰ بلوچ کا فون آیا۔’’سُنا مریم کی طبیعت خراب ہوگئی، اللہ خیر کرے، ہم کل ملاقات کے لیےآئیں گے۔‘‘ اگلے دن چاروں خاندان احمد کے گھر جمع ہوئے۔ رشید صاحب بولے۔’’ہم سب ایک دوسرے کا سہارا ہیں، یہی شہر کی طاقت ہے۔‘‘ زبیر نے بچّوں کے لیے ٹھنڈا شربت بنایا۔ عیسیٰ نے مُسکرا کرکہا۔ ’’مشکلات عارضی ہیں، شہر مستقل ہے۔‘‘
وقت گزرتا گیا۔ نمائش کے قریب اسٹیشن کی عمارت مکمل ہونے لگی۔ ایک صبح آزمائشی بس گزری تو سب نے ویڈیو بنائی۔ علی خوشی سے چلایا۔ ’’ابّو! یہ واقعی چل رہی ہے!‘‘ زعیم نے پوچھا۔ ’’اب ٹریفک کم ہوگا ناں؟‘‘ والد نے جواب دیا۔ ’’ان شاء اللہ۔‘‘ رشید صاحب اُمید افزا لہجے میں بولے۔’’اگر باقی کام بھی اسی رفتار سے ہو تو 2026ء میں مکمل ہوسکتا ہے۔‘‘ آخرکار، وہ دن آہی گیا، جب کوریڈور کا بڑا حصّہ فعال ہوا۔ ٹریفک کا دباؤ آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔
اگرچہ زخم مکمل مندمل نہیں ہوئے تھے، مگر بہتری کے آثار نمایاں تھے۔ شجرکاری کا آغاز ہوا۔ بچے نئے لگائے گئے پودوں کو پانی دیتے۔ عیسیٰ نےایک شام کہا۔ ’’دیکھو، تکلیف کے بعد آسانی آئی ہے۔‘‘ احمد نے مسکرا کر جواب دیا۔’’بس دُعا ہے کہ آئندہ منصوبوں میں یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔‘‘ رشید صاحب بولے۔ ’’تنقید ضروری تھی، مگر اُمید بھی۔‘‘
زبیر نے ہنستے ہوئےکہا۔ ’’اور کاروبار بھی ضروری تھا، جواب واپس آرہا ہے۔‘‘ یونی ورسٹی روڈ اب بھی مکمل طور پر ویسی نہیں تھی، جیسی کبھی تھی، مگر اس پر چلنے والوں کے دِلوں میں اُمید کی روشنی لوٹ آئی تھی۔ شہر نے ایک مشکل مرحلہ عبور کیا تھا۔ ٹھیکے دارکی ناقص منصوبہ بندی اورسست روی پر تنقید تاریخ کا حصّہ بن گئی، مگر اس کے ساتھ یہ سبق بھی ملا کہ اجتماعی آواز اور مستقل مزاجی تبدیلی لا سکتی ہے۔
2026 ء کی صُبح جب سورج اس سڑک پر چمکا، تو درختوں کےنئے پودوں پر روشنی پڑ رہی تھی، بسیں رواں تھیں، اور چاروں خاندان اپنے اپنے گھروں سے نکل کرنسبتاً آسان سفرکی طرف بڑھ رہے تھے۔ زعیم نے اسکول جاتے ہوئے کہا۔ ’’بابا! اب شہر بہتر لگ رہا ہے۔‘‘ اس کے باپ نے مُسکرا کر جواب دیا۔ ’’ہاں بیٹا، کیوں کہ ہم نے مشکل وقت میں ہمت نہیں ہاری۔‘‘ اور شاید یہی کراچی کی اصل پہچان ہے کہ وہ ہر آزمائش کے بعد ایک نئی صُبح کا استقبال کرنا جانتا ہے۔