• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صاحبو! وراثت کی کہانی بھی عجیب ہوا کرتی ہے۔ ترکے میں محض مال و جاگیر نہیں، آباؤ اجداد کی شخصیت بھی ملتی ہے۔ انسانی جین کے کچھ پُراسرار دھاگے نسل در نسل بعض خصوصیات منتقل کرتے ہیں۔ باپ دادا کے خدوخال تو ہیں ہی، لیکن وراثت میں ملنے والی ان خصوصیات میں سب سے زیادہ حیران کن ’’آواز‘‘ ہے۔ یادش بخیر۔ سول سروس میں آنے سے پہلے کے دن تھے۔ ہم کچھ عرصہ، روزگار کے سلسلے میں حبیب رفیق پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ منسلک رہے۔

وہیں ہماری ملاقات حبیب صاحب سے ہوئی، جن کا نام آج بھی اس کمپنی کے نام کا ایک مستقل حصّہ ہے۔ آپ یقین کیجے، ضعیف ہونے کے باوجود جب وہ بولتے تھے، تو لگتا تھا کہ کسی نے دبدبے کو آواز دے دی ہے، گونج کو الفاظ میں ڈھال دیا ہے اور شان و شکوہ کو تکلم عطا کردیا ہے۔ اُن کا کھرج ’’سی شارپ‘‘ سے بھی کہیں نیچے تھا اور تحت اللفظ میں ایسا کھرج کم کم عطا ہوتا ہے۔

یہ صاحب کون تھے بھلا؟ تو سُنیے۔ حبیب صاحب توقیر ناصر کے والد تھے اور توقیر ناصر کو اپنی آواز کی تمام اچھائیاں اور لہجے کی تمام رعنائیاں اپنے والد ہی سے ملی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالٰی حبیب صاحب کو جنّت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ توقیر کو کون نہیں جانتا؟ شاید وہ نہیں جانتا کہ جس کا پچھلے چالیس برس کے دوران کبھی بھی پاکستان ٹیلی ویژن سے رومانس نہ رہا ہو۔ ایسا کوئی شخص ابھی تک ہماری نظر سے تو نہیں گزرا۔ گزرے گا بھی تو ہم اُسے دیکھیں گے ہی نہیں کہ ایسے شخص سے ملاقات کا کیا فائدہ، جو توقیر ناصر کو نہ جانتا ہو۔ خیر، اُنہی دِ نوں کا ایک قصّہ دھیان میں روشن ہے۔

ہماری شاعری کے ابتدائی دن تھے۔ حبیب صاحب مرحوم کو خبر ہوئی کہ یہ لڑکا شعر کہتا ہے تو ایک دن ہمیں اپنے دفتر بُلوا بھیجا۔ ہم کشاں کشاں پہنچے تو حضرت فرمانے لگے کہ میاں! شعر سُناؤ۔ ہماری اُن سے قلبی وابستگی کا سبب یہ بھی تھا کہ وہ توقیر ناصر کے والد تھے اور ہم اُس زمانے میں بھی توقیر کے فین۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا۔

’’شاعری تو ہم سُنا دیں گے لیکن کیا آپ اس کے بدلے توقیر سے ہماری بات کروا سکتے ہیں ؟‘‘وہ مسکرائے اور بولے۔’’کیوں نہیں!‘‘ سو، ہم نے دو تین غزلیں سُنا کر اُن سے خُوب داد بھی حاصل کی اور بعد میں اُن کے دفتر میں موجود فون سے پہلی بار توقیر ناصر سے محوِ کلام بھی ہوئے۔ ظاہر ہے ہمارا ’’صوتی فین مومنٹ‘‘ تھا۔ فون بند ہوا تو حبیب صاحب ہنس کر کہنے لگے۔

’’توقیر نال فون تے گل کراں تے مینوں لگدا اے کہ دوجی ولّوں وی مَیں آپ ای بول ریاں۔‘‘ (توقیر سے فون پر بات کروں تو یُوں لگتا ہے،فون کے دوسری طرف سےبھی مَیں خود ہی بول رہا ہوں) اور واقعی ہمیں بھی یہی گمان گزرتا تھا۔ باپ بیٹے کی آوازمیں اس قدرحیران کُن مماثلت ہے کہ فرق کرنا خاصا مشکل ہے۔ بہت برسوں بعد پچھلے دنوں توقیر ناصر سے بات ہوئی تو اُداس آواز میں کہنے لگے۔’’آج بھی بہن بھائیوں سمیت خاندان کے سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ آپ بولیں تو لگتا ہے حبیب صاحب بول رہے ہیں۔‘‘

توقیر ناصر کے چرچے کہاں کہاں نہیں ہیں بھلا! اب یہی قصّہ سُن لیجے۔ ہیوسٹن میں مشاعرہ تھا۔ ہم بھی مدعو تھے۔ اُس مشاعرے کا ایک یادگار اورمہکتا لہکتا پہلو فلم اسٹار زینت امان کی موجودگی تھی۔ زینت اِس عُمر میں بھی بلا کی حسین و فطین ہیں۔ گفتار کی تہذیب ہو یا چلت پھرت کا سلیقہ، خدوخال کا امتزاج ہو کہ آداب و تسلیمات کہنے کا قرینہ، بس اپنی مثال آپ ہی ہیں۔

اسٹیج پر ڈیڑھ دوگھنٹے اکٹھے گزرے۔ اُن سے سرحد کے دونوں طرف اُن کے پسندیدہ اداکاروں کی بات ہوئی تو انہوں نے بطورِ خاص، سرِفہرست توقیر ناصر کا نام لیا، جو ایک پاکستانی ہونے کے ناتےمیرے لیے یقیناً لمحۂ فخروانبساط تھا۔موصوف کے بارے میں سرحد پار کی فلم انڈسٹری کے کئی مشہور ہیروز بھی (مثلاً اجے دیوگن) یہ کہہ چُکےہیں کہ اُنہوں نے ڈائیلاگ کی ادائی توقیر ناصر کو دیکھ سُن کرسیکھی۔ سچ پوچھیے تو ہمیں بعض اوقات شاہ رُخ خان کے بولنے کے انداز میں بھی توقیر کی جھلک نظر آتی ہے۔

یاد آیا، پچھلے دنوں ایک سیمینار کے سلسلے میں پاکستان نیشنل کاؤنسل آف آرٹس جانا ہُوا۔ ہمارے عزیز بھائی اور دوست ایوب جمالی آج کل وہاں ڈائریکٹر جنرل تعینات اورپاکستانی فن و ثقافت کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں۔ اُن کی زبانی توقیر ناصر کے ڈائریکٹر جنرل PNCA کے دَور کی بہت تعریف سُنی۔ دل چسپ بات یہ ہوئی کہ سیمینار کے بعد ہم صادقین گیلری میں صادقین کے شہہ پارے دیکھ رہے تھے کہ ایک ضعیف شخص نے ہمیں روکا۔ کہنے لگے۔’’آپ توقیر ناصر صاحب کے دور کی بات کررہے تھے۔

مَیں تب بھی یہیں کام کرتا تھا اور اب ریٹائر ہونے والا ہوں۔ اُن کے مجھ پر بہت احسانات ہیں۔ آپ اُن سے ملیں تو کہیے گا کہ مَیں اُن کے لیے بہت دُعائیں کرتا ہوں۔‘‘ یقین کیجے، ہمیں یہ سُن کر اس قدر خوشی ہوئی کہ بس۔ کارِ خیر ایسا چراغ ہے کہ چاہے کسی گھر سے رُخصت بھی ہوجائے، اُس کی روشنی وہاں موجود رہتی ہے۔ پی این سی اے میں ہیلری کلنٹن آئی تھیں تو ششدر و حیران رہ گئیں کہ آرٹ کا اس قدرخُوب صُورت ادارہ پاکستان میں بھی ہوسکتا ہے؟

توقیر ناصر مظفرگڑھ کی اُس زرخیز دھرتی کے سپوت ہیں کہ جس میں دریا کا رومانس بھی ہےاورصحرا کا بھی۔ اُن کی ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے شہروں میں ہوئی۔ اِن دونوں شہروں کی قدیمی تہذیب توقیر کی شخصیت میں مجسّم ہے۔ آپ اُن سے دو ہی ثانیے گپ شپ کیجے۔ آپ لفظوں کے لوچ اور لہجے کی لہک کا ہلکا سا بھی شعور رکھتے ہیں تو یقیناً جان جائیں گے کہ آپ ایک خاص الخاص عطا یافتہ فن کار سے بات کررہے ہیں۔ 1981ء میں انہوں نے پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ الگ پُراسرار بات ہے کہ فن اور شہرت کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے اُن کے دل میں ایک اور خواب بسا کرتا تھا۔ کیا بھلا؟

جی ہاں! پاک فوج کی خاکی وردی پہننے کا خواب، جواُنہیں خاموش مگر مسلسل کششِ ثقل کی طرح اپنی جانب بُلاتا رہتا تھا۔ توقیر نے اپنے بے مثال و باکمال سفر کا آغاز 1978ء میں پی ٹی وی سے کیا اور یوں ایک ایسا چراغ روشن ہوا، جس کی روشنی برسوں تک ڈرامےکی دنیا کومنورکرتی رہی۔ اُنہیں ملنے والے اعزازات جیسا کہ پرائیڈ آف پرفارمینس اور تمغۂ امتیاز اس بات کی دلیل، ثبوت اور گواہ ہیں کہ توقیر عوام الناس اور حلقۂ خواص میں یک ساں مقبولیت رکھتے ہیں اور اُن کی شخصیت معاشرے کے ہر طبقے کو دل و جان سے بھاتی ہے۔

ویسے توقیر کم عُمر ترین شخصیت ہیں، جنہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا، مگر پاکستان میں فن و ہُنر کا مورخ یہی لکھے گا کہ اُن کا اصل اعزاز وہ اتھاہ محبت اور گہرا عشق ہے، جو برسوں بلکہ دہائیوں بعد بھی اُن کے کرداروں کی صُورت لوگوں کے دِلوں میں زندہ وتابندہ ورخشندہ ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بعض اوقات بارش ہو کر تھم جاتی ہے، لیکن سوندھی مٹی سے اُٹھنے والی خاموش خوشبو برقرار رہتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل جنگ گروپ کی میر خلیل الرحمان سوسائٹی اور پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے دو مختلف تقاریب میں توقیر ناصر سے ملاقات کا شرف حاصل ہُوا۔ پہلی تقریب نیویارک پیزا کے حوالے سے فاسٹ فوڈ سیمینار تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ توقیر تقریر کررہے تھے تو میرے ساتھ بیٹھی ایک طرح دار سی خاتون بولیں۔’’ان کو تو بندہ بس آنکھیں بند کرکے سنتا ہی رہے۔‘‘ مَیں نے پوچھا۔’’اوربندی؟‘‘ ہنس پڑیں۔ کہنے لگیں۔ ’’وہ تو سُن ہی رہی ہے۔‘‘ اور یہ بات حقیقت ہے کہ توقیر اداکار و صداکار تو ہیں ہی منجھے ہوئے، شخصیت کے لوچ اور رنگ و خوشبو میں بھی الگ ہیں۔

دوسری تقریب ’’معرکۂ حق‘‘ میں پاکستان کو ملنے والی یادگار فتحِ مُبین کی پہلی سال گرہ کی تھی، جس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی، ملک محمد احمد خان، معروف صحافی واصف ناگی، ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان اور فخرِ پاکستان یعنی توقیر ناصر نے اپنی تقاریر سے سماں باندھ دیا۔ 

ایک محفل میں باتوں ہی باتوں میں ہم نے موصوف سے پوچھا کہ آپ کو اداکاری کا شوق کیسے ہوا؟ تو اُنہوں نے اس شوق کا اولین کریڈٹ پاکستان کے چاکلیٹی ہیرو وحید مُراد کو دیا کہ جن کو دیکھ کر ان کے دل میں ہیرو بننےکی آرزو ایک کونپل کی صُورت پُھوٹی اور پھر جسے دُعائیں، خواہشیں، تمنائیں اورخواب پورے کرنے والے اللہ نے پورا کردیا۔

موصوف نے اپنے پہلے آڈیشن کا دل چسپ واقعہ بھی سُنایا کہ کیسے پہلے آڈیشن میں اقبال انصاری نے اُنہیں فیل کردیا، مگر پھر ہوتے ہوتے وقارعظیم تک پہنچے، جنہوں نے ان پر بھروسا کیا۔ اور وہ دن اورآج کا دن، توقیر نے اداکاری کی دُنیا میں پیچھے مُڑ کرنہیں دیکھا۔ ہرکردار میں پہلے سے زیادہ حیرت کا سامان، تحیّر کا اعلان اور سرخوشی کا امکان بھر دیا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی یادوں بھری راہ داریوں میں اِن سے متعلق کہا جاتا کہ یہ وہ اداکار ہیں، جو ایک لفظ بولےبغیر بھی اپنی بات مکمل اور پُراثرانداز میں کہہ سکتے ہیں، کیوں کہ ان کی آنکھیں بھرپور بولتی ہیں۔ شروع میں انہوں نے غُصیلے، بھڑکیلے، جوشیلے کردار کیے اور اتنی کام یابی سے کہ شہزاد خلیل جیسے بےمثال پروڈیوسر اُنہیں ’’اینگری ینگ مین‘‘ بُلانے لگے۔

چار سو ڈراموں میں دوسوسے زیادہ کردار اسی غُصیلے نوجوان کے تھے کہ جو ’’اینٹی ہیرو‘‘ہے، مگر ہیرو بھی بلکہ پی ٹی وی کے تمام سینٹرز میں جب بھی کوئی رائٹر ایسا بپھرا ہوا کردار تخلیق کرتا تو ساتھ شرط رکھتا کہ یہ کردار توقیر ناصر کریں گے۔ پھر بھی توقیر نے اپنے اوپر کوئی مخصوص چھاپ نہیں لگنے دی۔

اُن کی پہچان ایک ورسٹائل فن کار کے طور پر ہمیشہ رہی، جو ہر کردار میں مکمل ڈوب جانے، کُھب جانے اور ضم ہوجانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ موصوف کی اداکاری محض اداکاری نہیں، ایک کیفیت ہے۔ایسی کیفیت، جو خاموشی سے دل میں اُترتی اور دیر اور دُور تک اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے۔

توقیر جب کسی کردار میں ڈھلتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسےاپنی ذات کو بالکل پسِ پشت چھوڑ کر کسی اور ہی رُوح کو بھرپور زندگی، کامل سراپاعطا کررہے ہوں اور پھر وقت کے ساتھ توقیر کے فن میں ایسی ٹھہراؤ بَھری پختگی آئی کہ ہر کردار اُن کے لمس سے زندہ محسوس ہونے لگا۔ ’’پرواز‘‘ کے بےقرار، سلگتے ہوئے نوجوان سے لےکر ’’راہیں‘‘ کے مٹی سے جڑے دیہاتی ’’رابن ہُڈ‘‘ تک کا سفر بےتکان کرتے ہوئے توقیر ناصر نے ایسے کردار تخلیق کیے، جو ناظرین کے دِلوں میں آج تک سانس لے رہے ہیں۔

مجھے کہنے دیجے کہ اُن کے فن میں ایک عجیب سی کشش ہے۔ کبھی دریا کی روانی جیسی، کبھی خزاں کی شام سی اداس اور کبھی محبّت کی پہلی سرگوشی جیسی۔ اندازہ لگائیے، سترہ اٹھارہ برس کےایک لااُبالی لڑکے کو(جسے اداکاری کا کچھ علم نہیں تھا) اپنے پہلے منظر کی عکس بندی میں بیٹے کا کردار ادا کرنا تھا،جب کہ مرحوم سلیم ناصر جیسا نادرِ روزگار، بےمثال اداکار والد کےرُوپ میں جلوہ گر تھا۔ پہلا سین تھا اور قدرے جذباتی بھی، پھر سامنے سلیم ناصر جیسا نام۔

توقیر ناصر نے ڈائریکٹر سے گزارش کی کہ یہ سین بعد میں کر لیجے گا، پہلے کسی آسان منظر سے شروع کرلیں۔ سلیم ناصر مرحوم کو اندازہ ہوا کہ لڑکا گھبرا رہا ہے تو اُنہوں نے بذاتِ خود توقیر کو حوصلہ دیا اور سین عکس بند ہوگیا۔ وقار عظیم ابتدا ہی میں توقیر کو باقاعدہ اداکاری کی ’’ٹیوشن‘‘ دیتے رہے۔ سب لوگ پیک اَپ کے بعد گھر چلے جاتے مگر وقار صاحب نوجوان کو مسلسل ریہرسل کرواتے۔ شاید انہوں نے کیمرے کی آنکھ سے تبھی پہچان لیا تھا کہ اداکاری کے اُفق پر ایک نیا حیران کُن ستارہ طلوع ہوچُکا ہے۔

آگے کی داستان بھی عجب طلسمِ ہوش رُبا ہے کہ وقت نے توقیر کے نام کے پانچ حروف کے گرد کام یابی کی ”پنج ستارہ‘‘ کہانیاں بُننا شروع کر دیں۔ ایک کے بعد ایک، ایک کے بعد ایک۔ ’’پناہ‘‘، ’’ایک حقیقت ایک افسانہ‘‘، ’’سمندر‘‘، ’’دہلیز‘‘، ’’درد اور درماں‘‘ اور خاص طور پر ’’پرواز‘‘ میں اُن کی اداکاری نے دِلوں کو مبہوت، آنکھوں کو مسحور اور رُوحوں کوخُوب محظوظ کیا۔

مُرشدی انور مسعود نے ایک بار لیجنڈری یوسف خان عُرف دلیپ کمار سے کہا تھا کہ ’’کسی کام کےآئندہ کا علم ہوتےہوئے بھی اُسے یوں کرنا، جیسے اس کا علم نہیں، اِسے اداکاری کہتے ہیں۔‘‘ دلیپ اداکاری کی یہ تعریف سُن کر پھڑک اُٹھے تھے اور اس تعریف کو انسانی شکل دی جائے، تو توقیر ناصر بنتے ہیں۔

توقیر اپنےکیرئیر کا بہت کریڈٹ اشفاق احمد، منُو بھائی، امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سید کو دیتے ہیں کہ جن کی شہرہ آفاق کردار سازی اور کہانی گوئی نے توقیر کو ایسے یادگار کردار ادا کرنے میں مدد کی۔ خُود کہتے ہیں کہ ’’ابتدا میں اداکاری میرے لیے محض ایک شوق تھی اور بس! جیسے کوئی شخص شام ڈھلے بانسری چھیڑ لے، مگر آہستہ آہستہ یہی شوق میرےدل کی دھڑکن بن گیا، اور پھر میری زندگی کا خُوب صُورت ترین جنون۔‘‘

توقیر کے خیال میں 1975 ء سے 1990 ء تک کا زمانہ پی ٹی وی کا’’سنہری دَور‘‘ تھا۔ ایک ایسا دَور، جب ہرفن کاراپنے فن میں دل کی آخری حد تک سچائی گھول دیتا تھا۔ اُن دنوں ڈرامے صرف کہانیاں نہیں ہوتے تھے، جذبوں، خوابوں اور معاشرتی سچائیوں کا آئینہ ہوا کرتے تھے۔ تاہم وہ آج کے پی ٹی وی سے بھی مکمل مایوس نہیں، کیوں کہ اُن کےخیال میں اب بھی کہیں کہیں خلوص کی روشنی جھلملا اُٹھتی ہے۔ موسیقی میں وہ نغمگی، نرمی اور احساس کی مٹھاس پسند کرتے ہیں۔

مہدی حسن کی درد بھری آواز، لتا کی شفّاف لَے، نورجہاں کی جادوئی گونج، غلام علی کی غزل، نصرت فتح علی خان کی وجد آفریں کیفیت اور فریدہ خانم کی اداس سرگوشیاں۔ یہ سب اُن کے دل کے قریب ہیں۔ جہاں تک پاپ موسیقی کا تعلق ہے، ہلکی سی بےنیازی سے کہتے ہیں۔’’پاپ موسیقی شوروغُل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہاں تسلیم کہ اُس پر رقص کیا جاسکتا ہے، بھنگڑا ڈالاجاسکتا ہے، لیکن یہ دل کے اُن خاموش تاروں کو ہرگز نہیں چھیڑتی، جہاں اصلی نسلی احساسات بستے ہیں۔‘‘

کچھ روز قبل ہماری توقیر سے فون پر بات ہوئی تو ہم نے ملاقات کا وقت چاہا۔ آپ یقین کریں، اس قدرعجز و انکسار سے پیش آئے کہ خُود ہمیں احساس ہوا کہ بڑا فن کار کیا ہوتا ہے اور بڑا فن کار بڑا کیوں ہوتا ہے۔ درحقیقت، یہی رویہ اور برتاؤ اُن کی شخصیت کی اصلی پرت ہے۔ اس حوالے سے وہ گفتگو کی کوئی تیاری یابات چیت کی کوئی ریہرسل نہیں کرتے، کیوں کہ وہ اصل ہی میں ایسے ہیں۔ ہمارا ایک شعر ہے ؎

نظر آئے کہ جو تھے، کوئی تیاری نہیں کی

محبت میں محبت کی اداکاری نہیں کی

تو جب جب پاکستان میں فنِ اداکاری کی بات آئے گی، ڈائیلاگ ڈیلیوری کا ذکرچھڑے گا، چہرے کے ایکسپریشنز پر گفتگو ہوگی تو کیمرا خود چِلّا اُٹھے گا کہ پاکستان میں اداکاری کی توقیر بڑھانے والے توقیر ناصر ہی تو ہیں۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید