شناخت، ہر شہری کا بنیادی حق، قومی ذمّے داری ہے اور دنیا بھر میں شہریوں کی شناخت کا قانون، ہر ملک کے آئین اور خود مختاری کے تحت مختلف ہے، جو پیدائش، خون کے رشتوںیا قدرتی طریقوں سے شہریت دیتا ہے۔ نیز، یہ قوانین دُہری شہریت، شناختی دستاویزات اور حقوق و فرائض کا بھی تعیّن کرتے ہیں۔
کسی بھی مُلک میں شہریوں کی شناخت، اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ افراد کو قانونی حیثیت، وابستگی کا احساس اور ریاست یا کمیونٹی کے اندر حقوق و فرائض کا ایک واضح نظام فراہم کرتی ہے۔ یہ 1793ء کی بات ہے جب ایک فرانسیسی ریاضی دان اور فلسفی، نِکولاز ڈی کونڈورسےنے فرد اور مجموعے کے درمیان تعلق کے مطالعے کے بعد ’’سماجی ریاضی‘‘ کی بنیاد رکھی، تاکہ جمہوری نظام کی بنیادوں کو ریاضی کی مدد سے باضابطہ شکل دی جا سکے۔
اس نے شہریوں کے قانونی حقوق اور ذمّے داریوں کے لحاظ سے مساوات کا الجبری تصوّر ظاہر کرنے کے لیے ’’شناخت‘‘ (Identity) کی اصطلاح کا انتخاب کیا۔ سادہ الفاظ میں، شناخت کسی بھی انسان کی جسمانی اور طرزِ عمل سے جڑی خصوصیات کا مجموعہ ہے، جو یہ طے کرتی ہیں کہ وہ کون ہے، یعنی اس کا نام، اس کی آنکھوں کی بناوٹ اور رنگت اور اس کی انگلیوں کے نشانات وغیرہ۔ ان حیاتیاتی خصوصیات کا مجموعہ اُسے واضح طور پر قابلِ شناخت بناتا ہے۔
جدید معاشرے میں شناخت شہریوں کو اپنے حقوق اور ذمّے داریوں کو منصفانہ اور مساوی طور پر استعمال کرنے کے قابل بناتے ہوئے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ سماجی، معاشی اور ڈیجیٹل شمولیت کے لیے ناگزیر ہے، کیوں کہ یہ صحت کی سہولتوں، پینشن، سماجی فوائد، ووٹ کے حق کے استعمال اور دیگر بنیادی انسانی حقوق تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ لیکن ان حقوق تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ شہری یہ ثابت کر سکے کہ وہ وہی ہے، جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔ عام طور پر قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جیسی سرکاری دستاویزات شہری کے نام کے ثبوت کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور ان دستاویزات پر اُس کی تصویر، اُس کی شناخت کا سب سے قدرتی ربط فراہم کرتی ہے۔
1950 ء میں لیاقت، نہرو پیکٹ کی منظوری کے بعد ’’دی پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ1951ء‘‘ کے تحت قانونِ شہریت متعارف کروایا گیا، جس کا مقصد پاکستانی باشندوں کی شناخت کے ذریعے اُن کی شہریت کا تعین کرنا تھا، لیکن1973ء تک ملک میں شہریوں کو قومی شناخت نامے جاری کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ ادارہ موجود نہیں تھا۔ 1973ء میں پہلی مرتبہ مُلک اور بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی شہریوں کے کوائف کی رجسٹریشن اور انہیں قومی شناخت فراہم کرنے کی غرض سے ’’دی نیشنل رجسٹریشن ایکٹ 1973ء‘‘ کے تحت ایک قومی ادارے ’’نیشنل رجسٹریشن سسٹم‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے تحت18برس کی عُمر کے ہر پاکستانی شہری کو رجسٹریشن کی بنیاد پر قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور سب سے پہلا قومی شناختی کارڈ 1973ء میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم، ذوالفقار علی بھٹو کو جاری کیا گیا۔
بعد ازاں، وقت کے تقاضے مدِّنظر رکھتے ہوئے شہریوں کو مستند اور معیاری شناخت فراہم کرنے کی غرض سے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی آرڈیننس مجریہ 2000ء کے تحت ایک قومی ادارہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کا قیام عمل میں لایا گیا، جو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے کوائف کی مکمل جانچ پڑتال اور ان کی بائیو میٹرک تصدیق کے بعد شہریوں کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات جاری کرتا ہے۔ یہ ایک جدید کمپیوٹرائزڈ نظام سے مربوط ہے، جو ہر پاکستانی شہری کے ذاتی کوائف اور معلومات کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قدم بھی ہے اور کسی بھی پاکستانی شہری کی شہریت کی ضمانت اور اس کی پہچان کا معتبر ذریعہ بھی۔
مارچ 2000ء سے پاکستانی شہریوں کی رجسٹریشن کے باقاعدہ آغاز کے بعد سے یہ اہم قومی ادارہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ایک جدید مرکزی ڈیٹا ویئر ہاؤس، نیٹ ورک انفرااسٹرکچر اور انٹرایکٹو ڈیٹا ایکویزیشن سسٹم کی بدولت ملک و بیرون ِملک مقیم پاکستانی شہریوں کو محفوظ اور عالمی معیار کے قومی شناختی کارڈ سمیت درج ِذیل اہم شناختی دستاویزات بھی فراہم کر رہا ہے۔
پیدائشی سرٹیفکیٹ: نادرا، شہریوں کو مہد سے لحد تک زندگی کے ہر مرحلے پر ایک مستند شناخت فراہم کرتا ہے۔ نوزائیدہ بچّوں کے لیے اس کا جاری کردہ پیدائشی سرٹیفکیٹ ایک ایسی سرکاری دستاویز ہے، جو بچّوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے اور دیگر اہم خدمات کے لیے لازمی ہے۔ والدین اپنے نوزائیدہ بچّوں کا پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے آن لائن نادرا یا نادرا ای خدمت (e-Khidmat) پلیٹ فارم کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں یا مُلک بھر میں قائم نادرا رجسٹریشن سینٹر (NRC) سےبالمشافہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سرٹیفکیٹ کے لیے ضروری دستاویزات میں والدین کے قومی شناختی کارڈز اور اسپتال کا پیدائشی سرٹیفکیٹ درکار ہوتے ہیں۔ نابالغ بچّوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کو ’’ب‘‘ فارم بھی کہا جاتا ہے۔ یاد رہے، ہر بچّے کا پیدائشی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اُس کا بنیادی حق ہے۔
قومی شناختی کارڈ: بالغ شہریوں کے لیے نادرا کا قومی شناختی کارڈ ، محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی شناختی دستاویز ہے، جو پاکستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے، اس کے لیے18برس یا زائد عمر کاہر پاکستانی شہری درخواست دینے کا اہل ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے تیار کردہ یہ قومی شناختی کارڈ شہریوں کے کوائف کی صداقت اور درستی یقینی بناتا ہے۔ ہر کارڈ پر منفرد 13ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر درج ہوتا ہے، جس میں شہری کافرد نمبر،گھرانہ نمبر، صنف، ضلع اور صوبے کا کوڈ بھی موجود ہوتا ہے۔
نادرا کا جاری کردہ قومی شناختی کارڈ پورے ملک میں تسلیم شدہ دستاویز ہے، جو شہریوں کے لیے ڈرائیونگ لائسینس، نیشنل ٹیکس نمبر، بینک اکاؤنٹس، پاسپورٹ، موبائل/سیلولر کنیکشنز کے حصول اور دیگر قانونی امور کے لیے لازمی شرط ہے۔ اسی طرح ’’قومی شناختی کارڈ برائے سمندر پار پاکستانی‘‘ (NICOP) بھی نادرا کی ایک ایسی سرکاری شناختی دستاویز ہے، جو بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی شہریوں کو جاری کی جاتی ہے۔
اس میں وہ پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایسے غیر مُلکی ممالک کی شہریت حاصل کی ہو، جن کے ساتھ پاکستان کی دُہری شہریت کے معاہدے موجود ہیں۔ نیز، وہ افراد بھی، جو بیرونِ ملک رہتے ہوئے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھتے ہیں۔ یہ اُن تمام مقاصد کے لیے ایک معتبر دستاویز ہے، جن کے لیے پاکستانی شہریت کا ثبوت درکار ہو۔ اس کارڈ کے حامل شہری بغیر ویزا پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ کارڈ پاکستانی شہریت اور امیگریشن سے متعلق قوانین کے مطابق وطن آمدورفت کے لیے ایک آسان، قانونی اور بغیر رکاوٹ سفر یقینی بناتا ہے۔
پاکستان اوریجن کارڈ (POC) : نادرا، اس کارڈکے ذریعے پاکستانی نژاد غیر ملکی اہل افراد کو شناخت کی خصوصی سہولتیں فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے آبائی تعلق سے دوبارہ منسلک ہوکر دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ مضبوط روابط قائم رکھ سکیں۔ پاکستان اوریجن کارڈ کے حامل شہری ملک میں بغیر ویزا داخلہ، غیر معیّنہ مدّت تک قیام کی اجازت، پولیس یا غیر مُلکی رجسٹریشن دفاتر میں رپورٹ کیے بغیر، مُلک میں جائداد کی خرید و فروخت، ملکیت اور کاروبار چلانے کے حق، مُلک میں کسی بھی بینک میں اکاؤنٹ کھولنے اور چلانے کی سہولت، تمام مقررہ راستوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر تیز ترین امیگریشن کلیئرنس، قومی شناختی کارڈ کی جگہ شناخت کے ثبوت کے طور پر استعمال اور مُلک میں روزگار کے اہل ہیں۔ واضح رہے،یہ کارڈ بھارت، اسرائیل یا تائیوان سمیت ایسے ممالک کے شہریوں کو، جنہیں پاکستان تسلیم نہیں کرتا، جاری نہیں کیا جاتا۔
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC): یہ نادرا کی ایسی ا ہم دستاویز ہے، جو خاندانی ڈھانچے (Family Tree) کی تصدیق کرتی ہے۔ شہری تین اقسام کے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اوّل، پیدائش کے وقت ہی سے اس میں والدین اور بہن بھائیوں کی تفصیلات۔
دوم، شریکِ حیات اور بچّوں کی تفصیلات۔ اور سوم، کسی بچّے کو گود لیتے وقت اُس کے سرپرست اور گود لیے گئے خاندان کے افراد کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔اس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ گھرانے کے تمام افراد نادرا میں رجسٹرڈہوں اور اُن کے پاس 13ہندسوں پر مشتمل قومی شناختی نمبر موجود ہو۔ اگر گھرانے کا کوئی فرد نادرا میں رجسٹرڈ نہیں، تو اُس کی معلومات اس سرٹیفکیٹ میں شامل نہیں ہوں گی۔
منسوخی سرٹیفکیٹ: یہ نادرا کی ایک ایسی اہم رجسٹریشن دستاویز ہے، جو کسی شہری کی وفات کی صُورت میں اُس کے قومی شناختی کارڈ کی منسوخی کے لیے جاری کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد اس امَر کو یقینی بنانا ہے کہ متوفی شہری کا شناختی کارڈ مزید کارآمد نہ رہے اور اس کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ اس سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے کوئی فیس مقرر نہیں، جب کہ درجِ ذیل صُورتِوں میں قومی شناختی کارڈ کی منسوخی عمل میں آسکتی ہے۔
شہری کی وفات، پاکستانی شہریت چھوڑنے، ایسے پاکستانی شہری، جنہوں نے غیر مُلکی شہریت کے حصول کے بعد اپنی پاکستانی شہریت باقاعدہ طور پر ترک کردی ہو اور جنہیں دُہری شہریت کی اجازت نہ ہو، دُہری شہریت کے معاہدے یا پاکستانی شہریت دوبارہ حاصل کرنے کی بنیاد پرسابق پاکستانی شہری، جنہوں نے پاکستانی شہریت چھوڑنے کے بعد پاکستان اوریجن کارڈ حاصل کیا ہو اور پھروفاقی حکومت اُن کے موجودہ ملکِ شہریت کے ساتھ دُہری شہریت کا معاہدہ کرے، یاوہ اپنی پاکستانی شہریت دوبارہ حاصل کر لیں، تو وہ اپنے پاکستان اوریجن کارڈ کی منسوخی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
اسی طرح جوڑے کی طلاق کی بنیاد پر، طلاق کے بعد پاکستانی شریکِ حیات اپنے غیرمُلکی سابق شوہر/بیوی کے پاکستان اوریجن کارڈ کی منسوخی کے لیے درخواست دے سکتا/سکتی ہے۔ کسی شہری کے دو یا زائدقومی شناختی کارڈ رکھنے کی صُورت میں بھی منسوخی سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
جانشینی سرٹیفکیٹ: کسی شہری کی وفات کی صُورت میں اُس کے ورثاء کو قانونی امور میں اس کےجانشینی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ نادرا نےاس مقصد کے لیےجنوری 2021ء میں اہل شہریوں کے لیے پانچ مراحل پر مشتمل ایک آسان طریقۂ کار متعارف کروایا، جس کا مقصد درخواست دہندگان کو عدالتوں سے رجوع کیے بغیر اجرا ئےانتظام نامہ(Letter of Administration) یا جانشینی سرٹیفکیٹ (succession certificate ) کےحصول میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
مذکورہ سرٹیفکیٹ نادراکے رجسٹریشن دفاتر یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ورثاء کی جانب سے جانشینی سرٹیفکیٹ کی درخواست جمع کروانے کے بعد نادرا عام طور پر ایک عوامی نوٹس جاری کرتی ہے، تاکہ متوفی شہری کے خاندانی شجرے اور ورثاء کی تفصیلات کی تصدیق کی جا سکے۔ نادرا کا جاری کردہ جانشینی سرٹیفکیٹ یہ ثابت کرتا ہے کہ متوفی شہری کے قانونی ورثاء اس کے منقولہ اثاثوں کے جائز حق دار ہیں اور یہ سرٹیفکیٹ ورثاء کومتوفی شہری کے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے، لائف انشورنس کلیمز حاصل کرنے اور شیئرز و دیگر سیکیورٹیز کی رقم کے مالی اثاثوں تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔
مذکورہ سرٹیفکیٹ مالیاتی اداروں اور سرکاری محکموں کے لیے وراثتی دعوے کی قانونی ملکیت کا معتبر ثبوت ہوتا ہے۔ اس کے اجراء کے لیے متوفی شہری کا وفات سرٹیفکیٹ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) اور جملہ ورثاء کےقومی شناختی کارڈ درکار ہوتے ہیں۔ متوفی شہری کے بیرونِ ملک مقیم خاندان کے افراد، نادرا کی متعارف کردہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ Pak IDکے ذریعے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کر سکتے ہیں۔
نادرا کے اس اقدام سے عدلیہ کے کام کے بوجھ میں 30فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ فی الحال یہ منصوبہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خوا کے ضلعی سطح کے مراکز پر فعال ہے اور جلد ہی اس کا دائرئہ کار مزید علاقوں تک دراز کرنے کا منصوبہ ہے۔
میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ: یہ سرٹیفکیٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ہر پاکستانی، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا قومیت سے ہو، حاصل کرسکتا ہے۔ مذکورہ سرٹیفکیٹ بیرونِ ملک سفر کے لیے ویزا درخواستوں،امیگریشن، جائداد کی ملکیت اور دیگر قانونی مقاصد کے لیے نادرا کی ایک اہم دستاویز ہے۔اسی طرح کسی جوڑے کی طلاق یا خُلع کی صُورت میں متعلقہ یونین کائونسل میں رجسٹریشن کے ذریعے نادرا کے ڈیٹا بیس میں اندراج کے بعد درخواست دہندگان کو نادرا سے طلاق سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، نادرا نے حال ہی میں شہریوں کی رجسٹریشن کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر ایک برق رفتار اور مؤثر موبائل ایپ پاک آئی ڈی ( Pak ID) متعارف کروائی ہے۔ اس جدیدسہولت کے ذریعے مُلک و بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی شہری اب دنیا کے کسی بھی حصّے میں بیٹھے اپنے نوزائیدہ بچّوں کی رجسٹریشن، قومی شناختی کارڈ کے اجراء، تجدید، ایڈریس میں تبدیلی اور دیگر شناختی دستاویزات حاصل کرسکتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے درخواستیں پاک آئی ڈی موبائل ایپ (اینڈرائیڈ اور iOS) کے ذریعے جمع کروائی جاتی ہیں اور دنیا بھر میں درخواست دہندہ کی دہلیز پر پہنچائی جاتی ہیں۔ نیز، نادرا، انسانی ہم دردی کے جذبے کے تحت معذور شہریوں کے لیے خصوصی خدمات بھی فراہم کرتا ہے، جس میں ہیلپ لائن پر کال کے ذریعے رجسٹریشن سینٹر پر پیشگی وقت مقرر کرنا، وہیل چیئر کی فراہمی، ترجیحی طور پر بلاقطارخصوصی ٹوکن کا اجراء اورمعذور شہریوں کو پہلی بار بلا معاوضہ تاحیات میعادکے ساتھ خصوصی قومی شناختی کارڈ کا اجراء شامل ہیں۔
اسی طرح شہریوں کو نادرا کی شناختی دستاویزات کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے مقررہ کوٹے پر عمل درآمد کے حوالے سے سکونتی سرٹیفکیٹ(Certificate of Domicile) اور مستقل سکونتی سرٹیفکیٹ (PRC) کی شرط عائد ہے۔ کیوں کہ ’’دی پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ1951ء‘‘ کی دفعہ17اورحکم 23کےتحت پاکستانی شہریوں کے لیے سرٹیفکیٹ آف ڈومیسائل ایک مستقل سکونتی دستاویزی ثبوت قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت پاکستان کا کوئی شہری اگرکسی بھی صوبے کے کسی ضلعے میں ایک برس تک مستقل قیام کرے، تو وہ اس شہر کے قانونی سرٹیفکیٹ آف ڈومیسائل کا حق دار بن جاتا ہے۔
تاہم، صوبۂ سندھ میں ایک برس کی مدّت کے بجائے تین برس تک مستقل سکونت رکھنے والا شہری سندھ کے سرٹیفکیٹ آف ڈومیسائل کا اہل ہے۔ علاوہ ازیں، صوبۂ سندھ میں سرٹیفکیٹ آف ڈومیسائل کے ساتھ ساتھ شہری کی سکونت کی تصدیق کے لیے مستقل سکونتی سرٹیفکیٹ (PRC)کا قانون بھی لاگو ہے۔ جسے1971ء میں Sindh Permanent Residence Certificate Rules of 1971کے تحت متعارف کروایا گیا اور اسے ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔ ان سرٹیفکیٹس کااجراء مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفاتر سے کیا جاتا ہے۔
شہریوں کی قانونی ذمّے داری ہے کہ وہ ایک ذمّے دار شہری کی حیثیت سے زندگی کے مختلف مراحل میں درکار مختلف قانونی شناختی دستاویزات کے حصول کے لیے نادرا کی فراہم کردہ خدمات سے بھرپور استفادہ کریں۔ مزید معلومات نادرا کی ویب سائٹwww.nadra.gov.pk سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔