طلب سے بڑھ کے دیا، شُکر کبریا تیرا
مِرا نہیں ہے ذرا، جو ہے وہ دیا تیرا
اگرچہ سامنے میرے ہے تُو، ہے ڈر مجھ کو
نہ جانے کیسے کروں گا، مَیں سامنا تیرا
بدن بھی، رُوح بھی میری، مگر نہیں میری
کہ جسم و جاں پہ تصرّف ہے اے خدا تیرا
بلائیں میرے تعاقب میں تھیں ضرور، مگر
میں اُن سے بچ کے جو نکلا، تو آسرا تیرا
ترا وہ حرف مُجرّد تھا ’’کُن‘‘، مگر یارب
وہ ایک حرف مگر، حرفِ کاملہ تیرا
وہ بندگانِ خدا، جن پہ نعمتیں تھیں تری
اُن ہی کے نام پہ بندہ یہ جی گیا تیرا
ہزار رنگ سے دنیا سجا کے دی ہم کو
نہیں ہے رنگ تِرا، رنگ پر جُدا تیرا
میں سب حروفِ تہجّی سے بھی کروں جو سُخن
کہاں یہ تاب کہ حق کچھ بھی ہو ادا تیرا
یہ سچ ہے، اپنے گناہوں پہ شرم سار قمرؔ
کہ یہ نہیں ہے کوئی بندہ پارسا تیرا