اسلام آباد(نمائندہ جنگ) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ʼʼ قانون کی تعلیم کے معیار میں تنزلی اور لاءکالجز کی تعداد میں بے ہنگم اضافہ ʼʼسے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ جب آپ سسٹم کا حصہ ہوتےہیں تو کچھ لوگ آپ کے حمایتی اور کچھ مخالف ہوتے ہیں، ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ نیک نیتی کے باوجود تنقید کو کیسے برداشت کیا جاتا ہے ، جس پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے کہا کہ پورے معاشرے میں تنقید ہی ہو رہی ہے، آپ نے صبر سے تکلیف برداشت کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کوئی بات نہیں، آخر سچائی ہی غالب آتی ہے،چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے بدھ کے روز کیس کی سماعت کے دوران لا ء کالجز بنانے کا طریقہ کار طے کرنے کے لئے کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزارت قانون اور وفاقی حکومت کو مجوزہ قائمہ کمیٹی کے قیام میں معاونت کی ہدایت تاکہ مجوزہ قائمہ کمیٹی ملک میں لا ء کالجز کے معیار سے متعلق قوائد و ضوابط اور طریقہ کار وضع کرسکے۔