• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

خود سے جوڑ کر

خدا سنڈے میگزین کو ہر نظرِبد سے بچائے۔ کورونائی ایّام کے سخت حالات میں بھی اس خُوب صُورت شمارے نے ہمیں معلومات و تفریح کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا۔ زیر نظر شمارہ اپنے عُمدہ صفحات کی بدولت بہت ہی پسند آیا۔ یہ اس جریدے ہی کا خاصّہ ہے کہ اتنے سالوں سے قارئین کی ایک بڑی تعداد کو خود سے جوڑ کر رکھا ہوا ہے۔ (شری مرلی چند جی گوپی چند گھوکلیہ، شکارپور)

آواز اُٹھائی جائے

خداوند تعالیٰ کی ذات سے اُمید کرتی ہوں کہ آپ اور آپ کی ٹیم خیریت سےہوگی۔ آپ کابےحد شکریہ، جنوری کے پہلے ایڈیشن اور پھر27فروری کے شمارے میں میرے خطوط شامل کیے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمدغزالی کا ’’تذکرہ اللہ والوں کا‘‘ سلسلے میں انتہائی ایمان افروز مضمون پڑھنے کوملا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ونگ کمانڈر (ر) محبوب حیدر سحاب اسلام آباد سے لکھتے ہیں اور کیاخُوب لکھتےہیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں ’’عجائبات لاہور‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر سیّد محمّدعظیم بخاری کا مضمون مع تصاویر بھلا لگا۔ ’’انٹرویو‘‘ میں ماہرِ معاشیات، محمّد منیر احمد سے بات چیت اچھی تھی۔ ’’پیارا گھر‘‘(ہمارا گھر) میں ڈاکٹر عزیزہ انجم ہمیشہ کی طرح بہترین موضوع پر رقم طراز تھیں۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ سے منیب بٹ کی دل چسپ باتیں سُنیں۔ ’’متفرق‘‘ میں سیّد ثقلین علی نقوی ’’ہندکو‘‘ زبان پرخُوب صورت تحریر کےساتھ موجود تھے۔ عرفان جاوید ’’آدمی‘‘ کی صُورت ایک اور اچھوتا سلسلہ ہماری بصارتوں کی نذر کررہے ہیں۔ اللہ کرے، زورِقلم اور زیادہ۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے یوکرین جنگ سے متعلق تجزیاتی تحریر لکھی۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ میں روبینہ قریشی نے ایک تاریخی شہرکا احوال خُوب صُورتی سے پیش کیا ۔ نئی کتابوں پر منور راجپوت بےحد اچھا تبصرہ کرتے ہیں، جیسے لفظ لفظ موتی سے پرویا ہو۔ اور آخر میں آتے ہیں اپنے صفحے کی طرف، جو خالصتاً ہمارا ہے، میرا خاص اور پسندیدہ صفحہ۔ تمام خطوط نگاروں کو سلام۔ میگزین کے لفظ لفظ سے آپ اور آپ کی ٹیم کی محنت، عرق ریزی واضح نظر آتی ہے۔ آپ سے ایک درخواست کرنی تھی کہ میری طبیعت ناساز ہونے پر ’’ڈائو میڈیکل سینٹر‘‘ جانے کا اتفاق ہوا،تو وہاں ساراہی عملہ،انتظامیہ انتہائی تن دہی سے کام میں مصروف نظر آئے۔ دیکھ کر بہت اچھا لگا، مگر ہر شخص اس بات سے پریشان کہ تن خواہوں میں اضافہ نہیںہوتا۔ تو براہِ مہربانی ایسے لوگوں کے لیےضرور آواز اٹھائی جائے۔ (خالدہ سمیع،گلستان جوہر، کراچی)

ج:جی، الحمد للہ ہم پرانے پاکستان میں لینڈ کرگئے ہیں، اللہ نے چاہا تو حالات میں کچھ بہتری بھی آئے گی کہ پچھلے چند سالوں میں تو مُلکی معیشت کا جو بیڑہ غرق ہوا ہے، تن خواہوں میں اضافہ تو درکنار، جِسے جو مل رہاتھا، وہی غنیمت سمجھا گیا اور ہم دوسروں کےلیے کیا آواز اُٹھاتے، صحافی برادری کے تو خود اپنے حالات دگرگوں ہیں۔

ایڈیٹنگ کا کمال

’’تذکرہ اللہ والوں کا‘‘ میں مولانا رومی ؒ سے متعلق تحریر کا دوسرا اور آخری حصّہ شایع ہوا، پڑھ کر طبیعت بحال ہوگئی۔ ’’ اشاعتِ خصوصی‘‘ میں شفق رفیع نے سینٹرل جیل، کراچی کا شان دار دورہ کروایا، ’’پیارا گھر‘‘ کے مضامین پسند آئے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں محمّد ارسلان فیاض نے بلوچستان کے حسین مقامات کی سیر کروا دی۔ عرفان جاوید کا ’’آدمی‘‘ تو کمال آدمی ثابت ہوا۔ ایسی خُوب صورت تحریر کیا آپ کی ایڈیٹنگ کا کمال ہے۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں عالیہ کاشف نے یہ نہیں بتایا کہ تبریز کی پیدائش کے بعد تبریز کی والدہ کہاں گئیں۔ ’’حالات وواقعات‘‘ پر منور مرزا کی گرفت بہت ہی مضبوط نظر آتی ہے۔ ڈائجسٹ، ناقابلِ فراموش کے صفحات کا معیار بہت بہتر ہوگیا ہے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں میرا خط شامل نہیں تھا، لیکن خادم ملک کا خط موجود تھا۔ سو، سارے شکوے ختم ہوگئے۔ ( سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی،کراچی)

ج:آپ کو اُن سے اتنی ہی عقیدت ومحبّت ہے تو اپنا نام بھی خادم ملک ہی رکھ لیں، اور عرفان جاوید بذاتِ خود ایک بہترین لکھاری ہیں۔ یہ اُن چند ایک رائٹرز میں شامل ہیں، جن کی تحریروں کو خال ہی ایڈیٹنگ کی ضرورت پیش آتی ہے اور وہ بھی ادارتی پالیسی کی ضمن میں، نہ کہ زبان وبیان کے معاملے میں۔ بےشک ایسے لکھاری، ایڈیٹرز کے لیے کسی بلیسنگ سے کم نہیں ہوتے۔

عرصے بعد تشریف لائے

6فروری کا شمارہ خُوب صورت سرورق سے مزیّن پایا۔ منور مرزا نے مشرقِ وسطیٰ کے مسائل پر سیر حاصل تبصرہ فرمایا۔ وحید زہیر کا علی احمد کُرد سے انٹرویو پسند آیا، تو پروفیسر تقدیس افروز نے بیگم سلیم اختر کی شخصیت کے چُھپے گوشے عُمدگی سے وا کیے۔ سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی شایع شدہ کتابوں پر خُوب روشنی ڈالی گئی۔ اور 2021ء میں ہم سے جدا ہونے والے اہلِ علم ودانش کے لیے دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ ’’آدمی‘‘ میں عرفان جاوید آئے اور چھا گئے۔ اگرچہ کافی عرصے بعد تشریف لائے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر مریم جاوید نے کورونا وائرس اور اومیکرون سے متعلق مفید اور قابلِ عمل ٹپس کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کے واقعات ’’اسمائے حسنیٰ‘‘ اور ’’مفت کا مال‘‘ بہت پسند آئے، تلوار کا زخم بھر سکتا ہے، لیکن زبان کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا، اقصیٰ منور ملک نے’’پیارا گھر‘‘ میں یہ فلسفہ خُوب صورت انداز میں سمجھایا۔ شائستہ فیض نے تو بغیر خرچ کے چکن سُوپ اور لذیذ کباب ٹیسٹ کروا دئیے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ بھی اچھا رہا اور آخرمیں شمارے کی جان ’’آپ کا صفحہ‘‘ پڑھ کے تو بے اختیار ایڈیٹر اور ٹیم کو سلام پیش کرنے کو جی چاہا۔ (جاوید اقبال، بلدیہ کالونی، چشتیاں، بہاول نگر)

ج: وعلیکم السلام۔

آغاز میں شامل کیا کریں

’’عالمی افق‘‘ میں منور مرزا موجود تھے اور فرانس کے انتخابات پر بہترین تبصرہ فرما رہے تھے۔ خلائی سائنس دان، ڈاکٹر عاقب معین کا انٹرویو بہت اچھا لگا۔ نئے سلسلے ’’آدمی‘‘ کا جواب نہیں، عرفان جاوید کا بےحد شکریہ۔ ’’پیارا گھر‘‘ اچھا نہیں لگ رہا، تراکیب لازماً شامل کیا کریں۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ اور ’’کچھ توجّہ اِدھر بھی‘‘ پسند آئے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ تو بہت ہی اچھا ہوگیا ہے۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کے دونوں واقعات اور نئی کتابوں پر اختر سعیدی کا تبصرہ لاجواب تھے۔ اگلے شمارے کے اشاعتِ خصوصی میں ونگ کمانڈر محبوب حیدر سحاب نے 27فروری 2019ء کے یادگار دن کی یاد تازہ کردی۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں ڈاکٹر سیّد محمد عظیم شاہ بخاری ’’عجائبات لاہور‘‘ پر اچھی معلومات فراہم کر رہے تھے، تصاویر کا انتخاب بھی اچھا رہا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں مٹھاس کی باتیں ہوئیں۔ سرِورق کی ماڈل اچھی لگی، سیّد ثقلین علی نقوی نے ہندکو زبان کے حوالے سے اچھی معلومات عنایت کیں۔ عرفان جاوید کا تو کوئی مول ہی نہیں۔ منور مرزا کو15ویں صفحے پر کیوں جگہ دی۔ اُن کی اہم تحریر آغاز ہی میں شامل رکھا کریں۔ ’’جہانِ دیگر‘‘ میں روبینہ قریشی نے عمان کی خُوب سیر کروائی۔ منور راجپوت کے تبصرے بہت پسند آئے۔ اور’’آپ کا صفحہ‘‘ تو بس اپنا ہی صفحہ ہے۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: عموماً یہی کوشش ہوتی ہے کہ منور مرزا کی تحریر ابتدائی صفحات ہی میں شامل رہے، لیکن بعض اوقات اشتہارات کی پلیسنگ کچھ ایسی ہوتی ہےکہ صفحے کو مجبوراً جریدے کے سیکنڈ ہاف میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔

ناقابلِ اشاعت تبصروں کی فہرست

’’آپ کا صفحہ‘‘ میں میٹھے خطوط کے کڑوے جوابات بالکل پسند نہیں آئے۔ عرفان جاوید کا نیا سلسلہ ’’آدمی‘‘ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہوسکتا ہے، آگے جا کر کچھ دل چسپی پیدا ہوجائے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں تو شالز کی مارکیٹنگ ہورہی تھی۔ ماڈل عُمر، اگرحضرت عُمربن خطاب کو فالو کرتے، تو آج ایک غیرمحرم کےساتھ یوں چھچھورا پن نہ دکھاتے۔ علی احمد کُرد کے والدین پتا نہیں کیسے ماں باپ تھے، جو بیٹے کو سیاسی سرگرمیوں سے نہیں روکتے تھے، ہمارے والدین تو کان سے پکڑ کر دو تھپڑ لگاتے اور گھر میں بند کر دیتے۔ اس دفعہ سرچشمۂ ہدایت کچھ توجّہ اِدھر بھی، نئی کتابیں، سنڈے اسپیشل وغیرہ غائب تھے، خیریت تو ہے…؟ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کا تجزیہ پسند آیا۔ اور ہاں، میرا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ آپ ایک فہرست ناقابلِ اشاعت تبصرہ نگاروں کے ناموں کی بھی مرتّب کریں تاکہ پتا چلے کہ ہمارا تبصرہ شایع نہ ہونے کی وجہ محکمہ ڈاک کی کوتاہی ہے یا اس کی وجہ آپ کی انَاپرستی ہے۔ اگلےشمارے کے ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں شفق رفیع کا ’’عقوبت خانہ یا مرکز اصلاح‘‘ پڑھا، تو حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ ہمارے مُلک میں بھی قیدیوں کی اصلاح کے لیے اتنا زبردست کام ہو رہا ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں اس بار صنفِ کرخت کو موقع دیا گیا، لیکن اندازِتحریر بدلانظرآیا۔’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں محمّد ارسلان نے بلوچستان کے حسین و دل کش سیّاحتی مقامات کی سیر کروائی۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے معاہدہ پیرس کا ذکر کیا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں مولانا جلال الدّین رومی ؒکے تذکرے میں بعض ایسی باتیں بھی پڑھنے کو ملیں، جو ذہن و عقل میں بمشکل ہی سما پائیں۔ (مامے کا پتر، نارتھ کراچی، کراچی)

ج: آپ کے پچھلے کئی خطوط ردّی کی ٹوکری کی نذر کیے گئے اور کسی انَا پرستی کے سبب نہیں (یوں بھی آپ ہیں کون کہ آپ سے انانیّت کا کوئی معاملہ ہو۔ ایویں ای ’’تُو کون؟ میں خواہ مخواہ‘‘) آپ کی اپنی حماقت کے سبب کہ آپ سارے تازہ جریدے چھوڑ کر پورے ایک سال پرانے شماروں پر تبصرے کر کربھیج رہے تھے۔ اگر آپ کے ساتھ کوئی ذہنی مسئلہ ہے، تو یہ لاکھوں قارئین کا قصور نہیں کہ انہیں ناحق سزا دی جائے۔ اُن فضول پلندوں کی جگہ ڈسٹ بِن میں تھی، سو وہیں ڈال دیئے گئے۔ اب چوں کہ آپ قواعد و ضوابط کے مطابق تازہ شماروں پر تبصرے بھیج رہے ہیں، تو وہ شایع بھی کیے جارہے ہیں۔

نئے زمانے سے ہم آہنگ

یہ کیا بات ہوئی، آپ فیصل وڑائچ کو نہیں جانتیں۔ فیصل وڑائچ تو ایک مشہور یو ٹیوبر ہیں۔ براہِ مہربانی یو ٹیوب بھی باقاعدگی سے دیکھتی رہا کریں۔ نئے زمانے کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ رکھیں۔ آپ غالباً ابھی تک مرزا غالب کے زمانے میں زندہ ہیں۔ جب قاصد کی جگہ کبوتر پیغام لے کر آتا تھا۔ اور براہِ مہربانی ’’آپ کا صفحہ‘‘میں ہماری زیادہ تعریف نہ کیا کریں۔ ہم اتنی تعریف کے قابل نہیں کہ آپ نے ہمیں ’’سیانا‘‘ کا لقب ہی دے دیا۔ اس پر ہم آپ کے سیانے پن کو 32توپوں کی سلامی پیش کرتے ہیں ویسے ہم نواب زادے ہی بھلے ہیں۔ (نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)

ج:جی، بجا فرمایا آپ نے۔ ہم ابھی تک مرزا غالب ہی کے دَور میں جی رہے ہیں۔ ہمیں فیصل وڑائچ کا نہیں پتا تو پھر تو ہمارے زندہ رہنے کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔ اور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں کہ آئندہ آپ کو سیانا کہنے کی غلطی بھی ہرگز نہ ہوگی۔

                            فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

؎ یہ ایک سال تو گزرا ہے، ایک صدی کی طرح… لگ بھگ ایک سال بعدآپ کی محفل میں حاضری ہو رہی ہے، مگر سنڈے میگزین مستقلاً زیرِ مطالعہ رہا۔ ہاں، بہ سببِ قلّتِ وقت تبصرے اور خط کی سعادت سےمحروم رہی۔ بہرحال، آج بہت سے جرائد پر ایک ساتھ ہی تبصرہ کیے دیتی ہوں۔ آپ کا سال نامہ، اُس کاٹائٹل،ہینڈنگز،تصاویراور نگارشات سب بہت اعلیٰ تھے۔ خصوصاً ’’حرفِ آغاز‘‘ تو لاجواب، بےمثال لگا۔ ویسے نرجس جی، کیا اب کبھی وہ ایک سو صفحات والا ایڈیشن بھی شایع ہو سکےگا کہ ؎ اس وقت تو یوں لگتا ہے، اب کچھ بھی نہیں ہے۔ اور ہائے! یہ کس قیامت کے نامے آپ کے نام آتے ہیں، درحقیقت سیال کوٹ کی شائستہ اظہر صدیقی کےخط ہی نے ہمیں قلم اٹھانے پر زیادہ مجبور کیا۔ اُف کیا خط تھا، پڑھ کر آنکھیں نم ہو گئیں اور دل بےحد رنجیدہ۔ واقعی، جب اللہ کی رحمت بیٹی کی شکل میں کندھے سے آلگے، تو پنجرے کا دَر کھلا بھی ہو تو اُڑا نہیں جا سکتا۔ وہ صرف شائستہ کی کہانی نہیں تھی، پاکستان کی بےشمار لڑکیوں کی کہانی تھی۔ اور وہ عشرت جہاں نے جو کہا، ’’جو مزاجِ خار میں آئے‘‘ تو وہ بھی ایک بہترین تبصرہ تھا۔ بلوچستان کی شہزادی، اسماء دمڑ نے خود ہی لڑائی شروع کر کے پھر خود ہی بہنوئیوں سے صلح بھی کر لی، یعنی پارٹی بدل لی۔ پہلے بہنوں سے تو پوچھتی، وہ راضی نامہ چاہتی بھی ہیں یانہیں۔ لڑکی یہ بلوچستان کی ہے اور پنجابی ایسی عُمدہ لکھتی ہےکہ پڑھ کےحیرانی ہوتی ہے۔ہمیں تو اس کا ’’سلامِ شرافت‘‘ پڑھ کے ہی ہنسی کادورہ پڑگیا اور اللہ جانے یہ راجگان، شہزادگان، نواب زادے کیسے ہر ہفتےچِٹھی کھڑکا مارتے ہیں۔ ہمیں تو ’’امورِ سلطنت ‘‘ہی سے فرصت نہیں مل کے دیتی۔ ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی تحاریر بہت ہی شوق سے پڑھتی ہوں، حضرت مجدّد الف ثانی پر بھی انہوں نے بہت خُوب لکھا تھا۔ محمّد احمد غزالی ٹیم میں بہترین اضافہ ہیں اورمنور راجپوت تو بس ہرفن مولا لگتے ہیں۔ انٹرویوز، مضامین، کتابوں پر تبصرے سب ہی کر ڈالتے ہیں۔ اور ہاں، ایک بات بھی پوچھنی تھی کہ یہ شفق رفیع کی کوئی پرانی تصویر ہے یا وہ ابھی ہے ہی اتنی کم سِن، کیوں کہ تحریر اتنی پختہ اور موضوعات اتنےمتنوّع ہوتےہیں کہ یقین نہیں آتا کہ یہ اسی بچّی کےذہن کی تخلیق ہیں۔ ’’دُھندلے عکس‘‘ پڑھ کر اچھا لگا۔ وہ بھی ایک کم عُمر مصنّفہ کی اچھی کاوش تھی۔ ’’آدمی‘‘ سلسلہ شروع کر کے تو آپ نے کمال کردیا۔ عرفان جاوید بھی بہت ہی منجھے ہوئے لکھاری ہیں، ہمیں تو ایسے کم سِن، لائق فائق لوگوں کو دیکھ کر بڑا رشک آتا ہے اور پھرخود پر افسوس سا ہوتا ہے کہ کہاں عُمر ضائع کردی۔ ’’متفرق‘‘ میں2021ءمیں رخصت ہونے والوں کی تصاویر کے نیچے نام بھی ہوتے، تو اچھا تھا کہ ہم چند ایک کو شکل سے نہیں پہچانتے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے افسانے ’’سایہ‘‘ میں سمجھ ہی نہیں آیا کہ کنجاہی صاحب کہنا کیا چاہ رہےہیں۔ آخر میں عزیز ہم وطنوں کے نام التجا ہے کہ خدارا بےکارخطوط لکھ کر اپنا اور ایڈیٹر صاحبہ کا قیمتی وقت ضائع نہ کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر امر پابندئ وقت کا مظہر ہے۔ وہ کیا ہے کہ ’’ویلے بندے نوں سو کم‘‘ 3 ماہ کے جرائد میں تعریف کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے، لیکن جگہ کی تنگی کے سبب اسی پر اکتفا کرتی ہوں۔ آپ کے لیے میں نے ’’خاتونِ آہن‘‘ کا لقب تجویز کیا ہے کہ بقول شائستہ اظہر صدیقی ’’سب شہ سواروں کے سامنے تنہا ڈھال اورتلوارتھامے کھڑی ہوتی ہیں۔‘‘ میری طرف سے بھی دادِ تحسین قبول کریں۔ (رانی خاور میو، لاہور)

ج: رانی! یہ شفق کی بالکل فریش تصویر ہے۔ وہ واقعی چھوٹی سی عُمر میں بلا کی ذہین و فطین ہے۔ آپ ہی کو نہیں، اکثر ہمیں بھی حیران کردیتی ہے۔ اسی طرح ہم منور راجپوت اور عرفان جاوید کےبھی بڑے مدّاح، بےحد قدر دان ہیں۔ وہ کیا ہے کہ ؎ سلیقے سے ہوائوں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں..... ابھی کچھ لوگ باقی ہیں، جو اُردو بول سکتےہیں(آپ اِسے اردو لکھ سکتے ہیں، سمجھ لیں)۔ اور جن دو تحریروں پر آپ نےاعتراض کیا، اُن سے متعلق بھی عرض ہے کہ وہ مقامی طور پر (اشتہارات نہ ہونے کے سبب) تیارکر کےشایع کی گئیں، یعنی اُن کی اشاعت میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں، سو، ہم اس ضمن میں بھی بری الذّمہ ہیں۔

گوشہ برقی خطوط

* مَیں ایک طویل عرصے سے سنڈے میگزین کا مطالعہ کررہا ہوں، معذرت خواہ ہوں، لیکن مجھے کہنا پڑے گا کہ میگزین کا معیار اب وہ نہیں رہا، جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ کئی جگہوں پر خاصی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ خصوصاً ایڈیٹنگ، پرنٹنگ اور مواد کے انتخاب کے حوالے سے اور پھر بعض خطوط کے جوابات پڑھ کے بھی بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ اس حد تک بداخلاقی، غیر شائستگی کا مظاہرہ کیسے کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ فروری کے ایک شمارے میں نواب زادہ بےکار ملک کےخط کے جواب میں ذاتیات پر بات کی گئی۔ میرے خیال میں تو اُردو ایک بہت میٹھی زبان ہے، تو اس کا اس کڑوے انداز سے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ (محمّد رمضان،کوئٹہ)

ج:آپ نے لکھا تو ہے کہ آپ طویل عرصے سے سنڈے میگزین کا مطالعہ کررہے ہیں، لیکن حقیقتاً شاید ایسا نہیں ہے۔ جریدے کا مستقل مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ نواب زادہ بےکار ملک محض ایک نامہ نگار نہیں، بلکہ باقاعدہ ایک کریکٹر ہیں۔ وہ اپنے ہر خط میں ذاتی زندگی، بیگم سے لڑائی، مارکُٹائی، اپنی کم علمی، بے روزگاری (ہماری لاکھ تنبیہ کے باوجود کہ ’’جریدے کے مندرجات تک محدود رہیں‘‘) وغیرہ ہی کے رونے روتے رہتے ہیں، نتیجتاً انہیں، اُن ہی کے مَن پسند انداز میں جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے(اور جسے وہ عموماً خوب سراہتے بھی ہیں)۔ خیر، اگر آپ کو بُرا محسوس ہوا تو ہم معذرت خواہ ہیں۔ رہی بات اُردو زبان کے میٹھے یا کڑوے ہونے کی، تو بھائی، بے شک زبان میٹھی ہے، لیکن اب کسی کی سرزنش کے لیے برفی، گلاب جامن، چم چم یا رس گلّے جیسے الفاظ تو استعمال نہیں ہوسکتے ناں۔

* عرفان جاوید کا سلسلہ ’’آدمی‘‘ بہترین ہے،ہاں مگر بڑی عمیق نگاہی سے یا یوں کہہ لیں، بندے کا پتّر بن کے پڑھنا پڑتا ہے، تب ہی تحریر سمجھ میں آتی ہے۔ ایسی علمی و ادبی تحریر سرسری پڑھی بھی نہیں جا سکتی۔ عرفان صاحب جب آتے ہیں، حواسوں پہ ہی چھا جاتےہیں۔ ہر قسط کے بعد،اگلی قسط کا انتظار مشکل ہوجاتا ہے۔ (پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ الیاس ،مظفر آباد)

قارئینِ کرام !

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید