السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
خدا سرسبز رکھے اس چمن کو
فروری کی آخری مسافتیں طے کرتے ہوئے تین شماروں کو اکھٹا کر کے سب کی دیکھا دیکھی اُن پر تبصرے کا سوچا، لیکن ہمیں تو یہ کام سات سمندر پارکرنے کے مترداف نظر آیا کہ جب ہفتے میں ایک ہی میگزین محنتوں کی کہانی بن کر ہاتھ میں آتا ہے، تو پھر ان محنتوں کا صلہ بھی ایک ہی میں ڈوب کردینا چاہیے۔ یوں ایک ہی جریدے میں غوطہ زن ہوکر وہ گوہرِنایاب ڈھونڈے، جو زندگی کا حاصل بن کر بہت کچھ سکھلاگئے۔ سرورق پر تو احسن خان کی پُربہار شخصیت چھائی نظر آئی، مگر دین کی روشنی ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں مولانا جلال الدین رومیؒ کی حکایات و وصیت ’’بہترین کلام وہ ہے، جو مختصر ومدلّل ہو‘‘ نشانِ ہدایت بنا۔ پھر2020ء میں ’’عجائب خانہ‘‘ کے طلسم میں غرق کرنے والے عرفان جاوید کے قلم سے نکلے ایک اور شاہ کار ’’نیا، پرانا آدمی‘‘سےعلمی تشنگی بجھائی۔ عالمی اُفق کی تباہ کاریوں پر کڑھتے ہوئے جو اپنے وطن کی پیاری سرزمین پرقدم رکھا، تو بلوچستان کے حسین ودل کش تفریحی مقامات دیکھ کر دل سے دُعا نکلی ؎ خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر۔ ’’کہی ان کہی‘‘ میں منجھے ہوئے اداکار، ساجد شاہ کا کہنا ‘‘طفلِ مکتب ہوں آج بھی‘‘ بڑاعاجزانہ سا لگا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کی افسانوی دنیا اور غزل کی کھنکتی پازیب نے یوں بےخو دکیا کہ گنگنا اٹھے ’’ہماری سانسوں میں آج تک وہ حنا کی خوشبو مہک رہی ہے…‘‘ لائبریری میں ’’عمرہ ڈائری ‘‘ پڑھ کر عُمرے کی خواہش پھر سےجاگ اٹھی، جِسے کورونا نے خانہ کعبہ کا طواف بند کر کے، تھپک تھپک سُلا دیا تھا۔ بعدازاں، اپنی محفل میں خود کو حیران کھڑے پایا، کیوں کہ ڈاکیا ہاتھ میں چٹھی لیے گھنٹی بجاتا جو نظر نہ آیا بلکہ نئے سال کا نیا انداز زندگی کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ پیغام دے رہا تھا کہ ؎ نیا زمانہ، نئے صبح وشام پیدا کر۔ (نازلی فیصل، ڈیفینس، لاہور)
ج: گرچہ ہمیں آپ سے سخت گِلہ ہے کہ آپ نے جو مضمون اشاعت کی غرض سے ہمیں بھیجا (باوجود ہماری بارہا تنبیہ کے) ایک معاصر کو بھی بھیج دیا۔ جب ہم سخت عرق ریزی کے بعد آپ کا مضمون قابلِ اشاعت بنا کے پریس بھیجنے کی تیاری کررہےتھے، عین اُس وقت وہ دوسرے جریدے میں چَھپا دکھائی دیا۔ یعنی ہماری تمام تر محنت اکارت گئی۔ اس کے باوجود آپ کا یہ خط شایع کیے دے رہے ہیں کہ یہ خط چوں کہ جنگ، سنڈے میگزین کے مندرجات سے متعلق ہے، تو کہیں اوربھیجے جانے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن بہرحال اب آپ کی کوئی تحریر مکمل تشفّی کے بغیر سنڈے میگزین میں شایع نہیں ہو سکےگی۔
عُمدگی سےآگے بڑھ رہی ہے
ٹائٹل حسبِ معمول خُوب صُورت اور دل کش ہے ؎ رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے… ہی کے مثل۔ ’’حالات وواقعات‘‘ کا صفحہ منور مرزا کی بدولت خُوب پڑھا جاتا ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ پر محمّد احمد غزالی نے حضرت بہائو الدین نقش بند کی شخصیت اور صفات پر روشنی ڈالی۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں پاک فضائیہ کے کارناموں کا ذکرتھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم نے کھانے پینے میں احتیاط سے کام لے کر صحت مند رہنے کی مفید مشاورت سے نوازا۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں ڈاکٹر سیّد محمد عظیم شاہ نے ’’عجائباتِ لاہور‘‘ سے متعلق تفصیلاً آگاہ کیا۔ ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات پر عالیہ کاشف کا رائٹ اَپ تھا۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں خُوب رُو اداکار منیب بٹ سے اچھی بات چیت کی گئی۔ سیّد ثقلین علی نقوی نے ہندکو بولی کا ذکر کیا اور خُوب کیا۔ ’’انٹرویو‘‘ میں ماہرِ معاشیات محمّد منیر احمد سے رئوف ظفر کی بات چیت اچھی رہی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں عاطف حفیظ صدیقی سماعت کے مسائل پر گفتگو کررہے تھے اور ’’آدمی‘‘ عرفان جاوید کی بہترین نگارش، عُمدگی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس بار منور راجپوت نے نئی کتابوں سے قارئین کو متعارف کروایا۔ اور آخر میں ’’آپ کا صفحہ‘‘ ہے، جس میں اہلِ قلم خواتین وحضرات نے اپنے اپنے قلم کو خُوب آزمایا۔ اللہ کرے، زور قلم اور زیادہ۔ (صدیق فن کار، کلمہ چوک، عسکری اسٹریٹ، جھاورہ راول پنڈی، کینٹ)
بہت حد تک مکمل
’’سنڈے میگزین‘‘ گویا اطلاعات ومعلومات کا ایک خزانہ ہے۔ کئی پرانے، نئے سلسلے خصوصی توجّہ کے حامل رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ چھوٹا سا جریدہ ہے، لیکن اپنی ذات میں بہت حد تک مکمل معلوم ہوتا ہے ۔ (شری مُرلی چند جی گوپی چند گھوکلیہ، شکارپور)
ج: بہت شکریہ۔
گناہ کا احساس نہ ہو
’’عالمی اُفق‘‘ میں فرانس میں صدارتی انتخابات کا احوال پڑھا۔ یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ صدارتی الیکشن کا پہلا مرحلہ 10اپریل کو اور دوسرا 4اپریل کو ہوگا، یعنی پہلے دوسرا مرحلہ ہوگا، بعد میں پہلا۔ واہ بھئی۔ ’’انٹرویو‘‘ میں ڈاکٹر عاقب معین کی بات چیت پڑھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اسپیس سائنس سے کافی دُور ہیں، لیکن یہ کائنات کیسے وجود میں آئی، اس حوالے سے ہمیں کوئی شک نہیں۔ اور یہ’’بگ بینگ‘‘ تو نری جہالت ہے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں سی ایس ایس کارنر سے تعارف ہوا، ماشاء اللہ بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔ عرفان جاوید نے ’’آدمی‘‘ میں اوبر کا تذکرہ کیا،تو حیرت ہوئی کہ اُس زمانے میں ’’اوبر‘‘ بھی ہوتی تھی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں عالیہ کاشف نے لکھا کہ ’’ان میں سے کوئی بھی رنگ وانداز منتخب کرلیں، بخدا کئی نظریں آپ ہی پر ٹھہر جائیں گے‘‘ یعنی آپ چاہتی ہیں کہ ’’بنتِ حوا‘‘ شمعِ محفل بن جائے۔ ’اِک رشتہ،اِک کہانی‘‘ میں ملک محمد اسحاق نے اپنی مرحوم بیوی کا تذکرہ جس انداز میں کیا، پڑھ کر رشک آیا، اب پتا نہیں، یہ ہاتھی کے دانت صرف دکھانے والے ہیں یا کھانے والے بھی یہی تھے۔ ’’نئی کتابیں ‘‘میں اختر سعیدی کے تبصرے مجھے بالکل پسند نہیں آرہے۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں محمّد سلیم راجا کا تبصرہ پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے سنڈے میگزین کے اگلے ایڈیٹر یہی صاحب ہوں گے۔ ایک بات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ مَیں آپ کےجریدے کا سرورق دیکھتے ہی ماڈل کی مونچھیں بنادیتا ہوں تاکہ دوبارہ نظر پڑے، تو مردانہ پن کی وجہ سےگناہ کا احساس نہ ہو۔ اگلے جریدے میں ایک خط کے جواب میں آپ نے فرمایا، ’’جو لکھنا جانتے ہیں، اُنہیں کچھ نہ کچھ لکھتے رہنا چاہیے‘‘ میرا خیال ہے یہ ٹھیک نہیں ہے، آپ کو یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ جو چاپلوسی کرنا جانتے ہیں، اُنہیں کچھ نہ کچھ لکھتے رہنا چاہیے، کیوں کہ ہر ایک کا لکھا تو آپ کو بالکل ہضم نہیں ہوتا۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں منیب بٹ نے اپنی پہلی تن خواہ بطور صدقہ خرچ کرنے کا ارادہ کیا تو چیل کوّے ہی نظر آئے، افسوس۔ آپ کے’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی سُرخی تھی ؎ رنگ چہرے پر گُھلا ہو جیسے، ہمیں رنگ تو کہیں نظر نہیں آیا۔ البتہ میک اپ کی دکان ضرور نظر آئی۔ (آپ کا ناپسندیدہ نامہ نگار، مامے کا پُتر، نارتھ کراچی،کراچی)
ج:یہ غالباً اِس جریدے میں آپ کا آخری خط ہی ہوگا، کیوں کہ ہمارے اسٹاف کی خواتین سے متعلق آپ نےجو یاوہ گوئی فرمائی(جسے ایڈٹ کیا گیا)اُس سے آپ کی عُمدہ تربیت کی تو بخوبی عکّاسی ہوئی ہی، لیکن ساتھ ہی ہماری برداشت کی بھی انتہا ہوگئی ہے۔ بہت ممکن ہے، آپ کا تعلق بھی ’’انصافی بریگیڈ‘‘ ہی سے ہو، لیکن سنڈے میگزین ایک فیملی میگزین، اور یہ بزم بہت شائستہ و شُستہ لوگوں کی بزم ہے۔ سو، اب یہاں آپ کی کوئی جگہ نہیں۔ ویسے ہم چاہتے تو یہ پورا خط ہی ضایع کرسکتے تھے، لیکن آپ کی طرح کے چند اور شاہ کاروں کو بھی تنبیہ کی ضرورت ہے۔ سو، اس تھوڑے لکھے ہی کو بہت جانیے۔
قلم قبیلہ، ایک لڑی میں…
دنیا کی بہترین زبانوں میں سے ایک، ہماری پیاری اُردو زبان ہے اور سنڈے میگزین کے ذریعے اس کا مقام روز بروز بلند ہورہا ہے۔ نیز، قلم قبیلے کو محبّت کی ایک لڑی میں پرونے میں جو کردار سنڈے میگزین ادا کر رہا ہے، وہ قابلِ صد ستائش ہے۔ ’’عالمی افق‘‘ کے ترجمان، منور مرزا فرانس میں صدارتی انتخابات کی بساط کا تذکرہ کررہے تھے۔ لو بھئی تیار ہوجائو، خلا میں بھی گھومنے پھرنے کے لیے، خلائی سائنس دان، ڈاکٹر عاقب معین سے منور راجپوت کی بات چیت شان دار تھی۔ شفق رفیع نے سی ایس ایس کارنر کے روشن دِیے مزید روشن کیے۔ نارائن پورہ کمپائونڈ کے حوالے سے سعدیہ عبید کی تحریر فکرانگیز تھی۔ عرفان جاوید کیا ہی لازوال انداز میں ڈاکٹر آصف اسلم فرخی کے اوراقِ زندگی پلٹ رہے ہیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں حکیم حارث نسیم سوہدروی اسموگ سے بچائو کا حل بتارہے تھے۔ ماڈل بتول زہرا سینٹر اسپریڈ پہ خُوب ہی سجیں۔ معروف ماہرِ امراضِ معدہ، ڈاکٹر نازش بٹ سے عالیہ کاشف کی بات چیت بھی زبردست رہی۔ ’اِک رشتہ‘ اِک کہانی‘‘ کے تینوں ہی کردار زندگی کے رنگوں سے بھرپور لگے۔ شہلا خضر کا قلمی تراشہ ’’کاری‘‘ اور صدیق فن کار کی غزل پسند آئی۔ اختر سعیدی کےاندازِ تبصرہ کے بھی کیا ہی کہنے۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میرپور خاص)
تعلیمی صفحات کم ہیں
ایک مضمون سنڈے میگزین کے لیے لکھا تھا، جو آپ کو روانہ کیا اور آپ کو موصول بھی ہوگیا۔ مگر تاحال شایع نہیں ہوا۔ آپ کے جریدے میں تعلیمی صفحات بہت کم ہیں۔ درس و تدریس سے متعلق صفحات کی تعداد بڑھانی چاہیے۔ بہرحال، مضمون کی کاپی ایک بار پھر ارسالِ خدمت ہے۔ (ڈاکٹر ظفر فاروقی، اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج ، نشتر روڈ، کراچی)
ج:پروفیسر صاحب! آپ کے مضامین یکے بعد دیگرے موصول ہورہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ مضامین قابلِ اشاعت ہوں بھی، تو ہمارے یہاں باری آنے پر شایع کیے جاتے ہیں۔ دوم، ہم کئی بار تاکیدکرچکے ہیں کہ جب تک ایک مضمون شایع نہ ہوجائے، دوسرا ارسال کرنے کی زحمت نہ کریں۔ اور تیسری بات یہ کہ آپ کے بیش تر مضامین ایک ہی نوعیت کے ہیں، ہم پہلے ہی صفحات کی کمی کے مسئلے سےدوچار ہیں، تو اس قدرریپیٹیشن پرمبنی مضامین کی اشاعت ممکن نہیں، موضوعات کا تنوّع ہماری ترجیحات میں سرِفہرست رہتا ہے۔ آپ استاد ہیں، آپ کا نام بار بار ناقابلِ اشاعت کی فہرست میں شامل کرنا بھی اچھا نہیں لگتا، اس لیے بہتر یہ ہے کہ مقدار کے بجائے معیار پر فوکس رکھیں۔
آپ راضی ہیں …؟؟
مجھے آپ کا سنڈے میگزین بہت پسند آیا ہے، عرض ہے کہ مجھے بھی لکھنے لکھانے کا شوق ہے اور مَیں چاہتی ہوں کہ سن ڈے میگزین میں میری شاعری اور کہانیوں کو بھی جگہ ملے۔ آپ راضی ہیں، تو میں آپ کو ہر ہفتے ایک عدد غزل اور ایک کہانی بھیج دیا کروں گی۔ (نشاء تبسّم، ڈھاباں خورد، ڈاک خانہ خاص، صفدر آباد، شیخوپورہ)
ج:جی نہیں، ہم آپ کی تحریر دیکھے بغیر بالکل بھی راضی نہیں ہیں اور ہر ہفتے کی کمٹمنٹ تو بہت دُور کی بات ہے، پہلے ایک تحریر بھیجیں، اُسے دیکھ کر ہی باقی ’’دیگ‘‘ کا فیصلہ ہوگا۔
فی امان اللہ
اس ہفتے کی چٹھی
سرِورق پر اچٹتی سی نظر ڈال کر آگے بڑھ گئے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمد غزالی کا رُوح پرور مضمون پڑھا۔ دل ودماغ مسرور سےہوگئے، معلومات میں بےحد اضافہ ہوا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں محبوب حیدر سحاب ونگ کمانڈر (ر) ہماری شیر دل فضائیہ کا قابلِ فخر کارنامہ یاد کروارہے تھے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں ڈاکٹر سیّد عظیم شاہ بخاری لاہور کے عجائب خانوں کا احوال لے کے آئے۔ بلاشبہ میوزیم کسی بھی قوم کا پورا تاریخی وَرثہ ہوتا ہے۔ ’’انٹرویو‘‘ میؒں روئف ظفر نے ماہرِ معاشیات، محمّد منیر احمد سے بات چیت کی۔ واقعی اگر ہم درست طور پر زکوٰۃ دینے اور لینے والے ہی بن جائیں، تو سارے دلدّر دُور ہوجائیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم بڑا ناصحانہ مضمون لائیں۔ ’’مٹھاس کھانوں میں نہیں، لب ولہجے میں بڑھائیں‘‘بہت خوب، اخلاقیات کا بہترین درس دیا۔ ’’سینٹر اسپریڈ، کہی اَن کہی‘‘ میں عالیہ کاشف چھائی ہوئی تھیں۔ ’’متفرق‘‘ میں سیّد ثقلین نقوی ہندکو زبان کی تاریخ، ترویج وترقی پر روشنی ڈال رہے تھے۔ ’’آدمی‘‘ میں عرفان جاوید اپنے مخصرص انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی سماعت کے عالمی یوم سے متعلق اہم مضمون لائے۔ ’’نئی کتابیں‘‘ پر منور راجپوت نے ماہرانہ تبصرہ کیا اور اب ہم آپہنچے ہیں، اپنے صفحے پر، ’’اس ہفتے کی چِٹھی‘‘ کا اعزاز ضیاء الحق قائم خانی نے حاصل کیا۔ مبارک ہو اور خادم ملک کو تبدیلی خان کی حکومت نے تو کوئی نوکری دی نہیں، آپ ہی اپنے دفتر میں نائب قاصد لگوادیں۔13 مارچ کا رسالہ موصول ہوا، سرِورق پر مصرع درج تھا ؎ جیسے پُرواتری خوشبو کو لیے آئی ہو۔ تو اس لفظ ’’پُرواتری‘‘ کا کیا مطلب ہے؟’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں اللہ والوں کے تذکرے میں محمّد احمد غزالی شیخ ابو الحسن شازلی کا ایمان افروز تذکرہ لائے۔ ’’حالات و واقعات ‘‘میں منور مرزا یوکرین جنگ کے یورپ کی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ کر رہے تھے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں رائو محمّد شاہد اقبال نے کرپٹو کرنسی کے گورکھ دھندے کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں شبینہ گل انصاری کے ٹوٹکے اچھے لگے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں عالیہ کاشف نے پُرواتری کے ملبوسات متعارف کروائے تو فیچر میں محمّد ارسلان فیاض، بلوچستان کے پھلوں اور خشک میوہ جات کا ذکر لائے۔ اے کاش! ہم کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرکے اسی کی پیداوار کے ذریعےکوئی خاطر خواہ زرمبادلہ کما لیتے۔ ’’آدمی‘‘ میں عرفان جاوید مدبّر، دانش وَر، علم و ادب کے بحر بےکنار، آصف اسلم فرخی کی زندگی کا فکر و افروز احوال بیان کر رہے تھے۔ واقعی، اللہ تعالیٰ جن بندوں پر مہربان ہوجائے، اُنہیں خصوصی صلاحیتیں عطا کرتا ہے۔ شبینہ گل انصاری کی غزل نے بہت متاثر کیا؎ چند سانسوں کے سوا کچھ نہیں بیمار کے پاس..... آپ کیوں آگئے گرتی ہوئی دیوار کے پاس۔ گرتی ہوئی دیوار کی علامت تو جھنجھوڑ ہی گئی۔’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہونہار راجہ کی بارات سجی تھی۔ ہماری چِٹھی بھی شاملِ بزم تھی، مگر راجہ کے اعزاز سے بھی ہمیں خوشی ہوتی ہے، وہ اس لیے کہ راجا ہمارا سانجھا ہے۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپور خاص)
ج:آپ کا یہ ’’پُرواتری‘‘ پڑھ کے تو بخدا ہم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے۔ ارے بھئی، یہ دو الگ الگ لفظ ہیں۔ ’’پُروا‘‘ اور ’’تِری‘‘۔ ’’پُروا‘‘ کے معنی پورب کی ہوا، باد مشرق اور ’’تِری‘‘ یعنی تیری۔ مصرعے کا بہت ہی سادہ سا مطلب تھا کہ جیسے ہوا تمہاری خوشبو کو ساتھ لیے آئی ہو۔
گوشہ برقی خطوط
* سال2022کا آغاز میرے لیے تو بالکل بھی اچھا نہیں ہوا۔ میری دو غزلیں اور کہانیاں ناقابلِ اشاعت کی فہرست میں شامل کردی گئیں، حالاں کہ غزلیں بھی اچھی تھیں اور کہانیاں بھی سچّی۔ اگر تحریروں میں کوئی کمی بیشی تھی، تو آپ لوگوں کو اصلاح کے بعد شایع کرنی چاہیے تھیں، نہ کہ ری جیکٹ ہی کردی جاتیں۔ (فوزیہ ناہید سیال، لاہور)
ج: دیکھیں فوزیہ! ہماری آپ سے نہ تو کوئی دشمنی ہے، نہ ہی رشتے داری۔ ہمارے یہاں ہر تحریر کی جانچ پڑتال سو فی صد میرٹ پر ہوتی ہے۔ کسی تحریر میں تھوڑی بہت بھی جان ہو تو اُسے بہتر کر کے شایع کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ (ہاں، کچھ تحریریں فارمیٹ فالو نہ کیے جانے یا پالیسی کے خلاف ہونے کے سبب ضرور رَد کی جا سکتی ہیں)جب کہ شاعری کے انتخاب کےلیے تو باقاعدہ ایک مستند شاعر کی خدمات لی جاتی ہیں، تو آپ کی غزلیں، کہانیاں اگر اشاعت کے لائق ہوتیں، تو ضرور شایع کردی جاتیں۔ آپ محنت جاری رکھیں۔ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے آپ کی کچھ تحریریں شایع ہوئی بھی ہیں، مزید بھی کوئی قابلِ اشاعت ہوگی، تو ضرور شایع ہوجائے گی۔
* پورا جریدہ ہی اپنی ندرت و انفرادیت کے سبب اپنی مثال آپ ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ تا ’’آپ کا صفحہ‘‘ قاری کا انہماک برقرار ہی رہتا ہے۔ میرا پسندیدہ بہترین صفحہ ’’نئی کتابیں‘‘ ہے۔ نئی کتابوں کا تعارف پڑھ کر کس قدر خوشی ہوتی ہے، بتا نہیں سکتی۔ دُعا ہے کہ یہ علمی و ادبی سرمایہ اِسی طرح پھلتا پھولتارہے۔ حالاتِ حاضرہ کے ضمن میں ایک کوشش مَیں نے بھی کی ہے، لائقِ اشاعت ہو تو شایع کردیجیے گا۔ (منیبہ زکریا)
ج: جی بالکل، آپ کی تحریر قابلِ اشاعت تھی، اسی لیے شایع کر دی گئی ہے۔ یقیناً آپ نے ملاحظہ بھی کر لی ہو گی۔
* مَیں ایک افسانہ بھیجنا چاہتی ہوں۔ (آفرین نعیم)
ج: تو براہِ مہربانی بھیج دیجیے۔
قارئینِ کرام !
ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk