• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدھ سے لانگ مارچ کا اعلان، عمران کا بیوروکریسی و پولیس کو رکاوٹ نہ ڈالنے کا انتباہ، فوج سے نیوٹرل رہنے کا مطالبہ

پشاور(ایجنسیاں)چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نےبدھ 25مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کرائے جائیں ‘تیسری کوئی بات ہمیں قبول نہیں ‘پھر اگر قوم ان چوروں کو لانا چاہتی ہے تو بے شک لے آئے مگر کوئی بیرونی ملک ان کو ہم پر مسلط نہ کرے‘ لوگ بار بار کہتے ہیں کہ جان کو خطرہ ہے، کوئی جان کو خطرہ نہیں ہے‘ یہ سیاست نہیں جہاد ہے‘یہ اللہ کا کام ہے، یہ اس کا حکم ہے‘پاکستان کی حقیقی آزادی کی جنگ ہے ‘اس کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہوں‘جتنی دیر بھی اسلام میں رہنا پڑا رہیں گے‘جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں‘ فوج کو بھی کہتا ہوں کہ آپ نے کہا ہے نیوٹرل ہیں تو نیوٹرل رہیں ۔ پشاور میں پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی تاریخ کا فیصلہ کرلیا ہے ‘سب کو دعوت دیتا ہوں 25مئی کو دوپہرتین بجے اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر ملاقات ہوگی‘ نئے الیکشن کی تاریخ کے اعلان تک اسلام آباد میں رہیں گے۔ پولیس‘ بیورو کریسی اورفوج یہ سب ہمارے اپنے ادارے ہیں‘ ہمارامارچ پرامن ہوگا ‘ چیئرمین پی ٹی آئی نے بیوروکریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے پر امن احتجاج کے خلاف کوئی غلط کارروائی ہوئی یا رکاوٹ ڈالی گئی تو یاد رکھیں کہ یہ غیر قانونی ہوگا اور آپ کے خلاف ہم ایکشن لیں گے‘عمران خان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے 22 کروڑ عوام کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا گیا، کہا گیا یہ وزیراعظم روس چلا گیا تھا، یہ ہمارا حکم نہیں مانتا تھا اسے نکالو، روس سے 30 فیصد کم قیمت پر تیل خریدنے کے لیے بات چیت کر رہے تھے۔بھارت روس سے سستا تیل خرید رہا ہے‘ موجودہ حکومت کی جرات نہیں کہ روس سے سستا تیل یا گندم خرید سکے، میں ملک کی بہتری کے لیے کوشش کر رہا تھا، سب کی مشاورت سے روس گیا مگر کہا گیا کہ یہ عمران خان کا اپنا فیصلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سازش کرکے یہ باہر سے پتلے لے کر آ گئے، چوروں کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنا دیا گیا‘ یہ قوم کی توہین ہے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی صورتحال تشویشناک ہے‘بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ پیسہ بھیجا‘ان کے پاس کوئی پلان یا روڈ میپ نہیں‘ مفرور باہر سے بیٹھ کر فیصلے کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی صورت ہم اس حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، ہمارا مطالبہ اسمبلیاں توڑنا اور انتخابات کی تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں تحلیل اور صاف شفاف انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست پرامن رہی ہے‘ہم نے کبھی انتشارکی کوشش کی نہ کسی کو کرنے دیا ۔ لوگ بار بار کہتے ہیں کہ جان کو خطرہ ہے، کوئی جان کو خطرہ نہیں ہے، یہ اللہ کا کام ہے، یہ اس کا حکم ہے، اوپر والے کا ہمیں حکم ہے کہ جب ملک میں ناانصافی ہو یا کوئی آپ کی آزادی لینے کی کوشش کرے تو اس سے بہتر ہے موت‘ بجائے اس کے کہ غلام بنیں۔ میں سول ملازمین ‘فوجیوں کے خاندانوں اورریٹائرڈ فوجیوں سمیت سب کو دعوت دینا چاہتا ہوں کہ وہ اسلام آباد آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ دو دن قبل انٹرنیٹ بند ہوجائے گا، پیٹرول ، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ بند ہوگی، کارکن تیاری کرلیں،کسی صورت انہیں قبول نہیں کریں گے ، ہمارا مطالبہ اسمبلیاں توڑنا اور الیکشن کی تاریخ ہے۔