• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لانگ مارچ ہر صورت روکیں گے، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گے، دارالحکومت بند نہیں کرنے دیا جائیگا، وزیر داخلہ

اسلام آ باد (نمائندہ جنگ، اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو ہر صورت روکنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دارالحکومت بند نہیں کرنے دیا جائیگا، اسلام آباد میں دو ماہ کیلئے دفعہ 144نافذ کردی گئی ہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گے.

 ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، تشدد یا اشتعال انگیزی پر قانون حرکت میں آئیگا، تحریک انصاف گالیوں سے گولیوں پر آ گئی، عمرانی فتنے کی گمراہی کا شکار لوگ اس سے باہر نکلیں، دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ فیصلوں پر مکمل عمل ہو گا.

 اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کرنے دینگے ،یہ کوئی جمہوری مارچ ہے نہ لانگ مارچ بلکہ یہ مارچ قوم کو تقسیم کرنے، ملک میں افراتفری اور انتشار کو فروغ دینے کیلئے کیا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر بر ائے امور کشمیر قمر الزمان کا ئرہ، وزیر مواصلات مو لانا اسعد محمود، شاہ زین بگٹی اور دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پر یس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

 وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خونی مارچ کی باتیں کرکے اور مسلح جتھے لیکر وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی نہیں کرنے دی جائے گی، مارچ کو روکا جائے گا، فتنہ فساد پھیلانے والوں کو گرفتار کیا جائیگا، ضرورت پڑنے پر رینجرز اور فوج بھی طلب کی جا سکتی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے 25 مئی کو لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد مارچ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس قسم کی یہ گفتگو کرتے رہے ہیں کہ یہ ʼخونی لانگ مارچ ہوگا،۔ہم وہاں آکر فتنہ فساد پھیلائینگے،جیسی تمام چیزیں ریکارڈ پر ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ اس لانگ مارچ کے نتیجے میں ہم حکومت کو اٹھا کر باہر پھینک دینگے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 میں بھی انہوں نے کہا کہ ہم پر امن احتجاج کیلئے آرہے ہیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے معاہدہ کیا کہ ایک جگہ پر محدود رہیں گے لیکن وہاں رکنے کے بجائے ریڈ زون میں داخل ہوئے، وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے انہیں لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں روکا جائیگا تا کہ یہ قوم کو تقسیم کرنے، گمراہی کا ایجنڈا آگے نہ بڑھا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اس سے پہلے بھی وعدہ خلافی کی تھی اور اب بھی یہ گالیوں سے گولیوں پر آگئے ہیں جسکے باعث لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شہید ہوگیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ویسے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن اب سب ساری قیادت پشاور میں اکٹھی ہوگئی ہے کوئی اپنے گھروں میں موجود نہیں ہے اور وہاں سے یہ ایک وفاقی اکائی یعنی صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام وسائل استعمال کر کے اور صوبائی فورسز کو ساتھ لیکر وفاق پر حملہ آور ہونے آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہاں سے یہ ایک بڑے جتھے کی صورت میں کل آنا چاہتے ہیں، ایسا جتھا جس کی کوئی قانونی، آئینی حیثیت نہ ہو اور سرکاری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے وفاق پر حملہ آور ہونے آرہا ہو، اسی کسی قیمت پر اجازت نہیں دی جاسکتی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ صرف اتحادی حکومت، ایک سیاسی جماعت یا ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے اور اس میں تمام اداروں، سیاسی جماعتوں، میڈیا کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے اور اس فتنے فساد کو روکنا چاہیے، اسے اسی مرحلے پر روک دیا جائیگا تو بہت بڑی خدمت ہوگی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں بہت حیرانی ہوئی کہ آج جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں کہا کہ اگر آپ اپنی جگہ پر محدود رہنے اور اس قسم کے کسی واقعے کو نہ دہرانے کی بات کرتے ہیں تو ہم آپ کیلئے کوئی آرڈر جاری کرسکتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور بیانِ حلفی دینے سے انکار کیا جس سے انکے ارادے واضح ہیں۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آج وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا انتہائی اہمیت کا حامل تھا، وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ کی گفتگو کی تائید کرتا ہوں.

 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کا مقصد پاکستان کی سیاست اور معیشت کو تباہ کرنا تھا، پھر انکے پونے چار سالہ دور حکومت میں آئین میں اصلاحات کے نام پر متنازع قانون سازی ہوئی، ملک معاشی و اخلاقی پستی کی طرف گیا.

 انکے اپنے اتحادیوں نے ملک کی معاشی، سیاسی صورتحال کے پیش نظر ان پر عدم اعتماد کیا اور ایک غیر آئینی طریقے سے بنی حکومت کو ایک آئینی طریقے سے رخصت کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان دنیا کو یہ پیغام دینے کیلئے اسلام آباد آ رہا ہے کہ پاکستان میں بے یقینی کی صورتحال ہے.

 سپریم کورٹ، پارلیمان اور پی ٹی وی سنٹر پر بھی پاکستان تحریک انصاف نے دھاوا بول دیا تھا، ہمارا واضح پیغام ہے کہ پرامن احتجاج کی اجازت ہو گی لیکن انتشار اور خونریزی کی کبھی اجازت نہیں دی جائیگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ بھارت کشمیر ی رہنما یاسین ملک کو سزا دینے کیلئے جوکچھ کر رہا ہےہم اسکی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں جو تاثر پایا جارہا ہے کہ ایک غیر یقینی کی کیفیت ہے یہ ساری کی ساری صدر کی پیدا کردہ ہے وہ صدر نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے اپوزیشن لیڈر کے طور پر کھڑے ہوگئے ہیں ہم انکے اس رویے کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ساری سیاست جھوٹ بولنا اور اسے کچھ عرصے چلا کر ایک نیا جھوٹ بولنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں انکے ساتھیوں سے کہوں گا ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کوئی ایک وعدہ جو عمران خان نے پورا کیا ہو تو اس کی بات میں کوئی وزن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں عمران خان سے مطالبہ کرتا ہوں لاؤ سازش کے ثبوت وزیر داخلہ، یا آئی جی پنجاب، یا آئی جی کے پی یا سپریم کورٹ کو دے دو صرف جھوٹ کے سہارے چلتے جارہے ہو۔

قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ ہم سب اس حکومت کا حصہ ہیں، یہ کسی ایک جماعت کی نہیں ہے اور ہم اس کے نفع و نقصان دونوں کے ذمہ دار ہیں اس لیے جو بھی فیصلے ہوئے ہیں وہ متفقہ فیصلے ہیں جو پاکستان کو انارکی سے بچا لیں گے۔جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی نے کہا کہ عمران خان کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔