• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

TTP مذاکرات، حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کا، سول و عسکری نمائندوں کی کمیٹی افغان حکومت کے تعاون سے بات چیت کررہی ہے، قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کوبتایاگیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا.

افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،افغانستان کی حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے جس میں حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نمائندگی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کررہی ہے جس پر حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کیلئے فراہم کردہ رہنمائی اور اتفاق رائے سے کیاجائے گا۔

اجلاس میں قرار دیاگیا کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ملک بھر میں ریاستی عمل داری ، امن کی بحالی اور معمول کی زندگی کی واپسی کو یقینی بنایاگیا ہے۔

آج پاکستان کے کسی حصے میں بھی منظم دہشت گردی کا کوئی ڈھانچہ باقی نہیں رہا۔سیاسی قیادت نے معاملات سے نمٹنے کی حکمت عملی اور اس میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

بدھ کو جار ی بیان کے مطابق شہبازشریف کی زیرصدارت بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں قومی سلامتی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی، پارلیمانی و سیاسی قیادت، ارکان قومی اسمبلی وسینیٹ اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

 قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے ملکی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو ملک کی داخلی اور خارجہ سطح پر لاحق خطرات اور ان کے تدارک کے لئے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیاگیا۔

 اجلاس کو پاکستان افغانستان سرحد پر انتظامی امور کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔ اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن واستحکام کے لئے نہایت ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔

اجلاس کے شرکاء کو ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیاگیا۔

 اجلا س کو بتایاگیا کہ افغان حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے جس میں حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نمائندگی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کررہی ہے جس پر حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لئے فراہم کردہ راہنمائی اور اتفاق رائے سے کیاجائے گا۔

اہم خبریں سے مزید