• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ بلدیاتی نتائج پر تحفظات، PP سے معاہدہ ختم کرسکتے ہیں، متحدہ، صوبائی حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے، JUI

کراچی‘لاڑکانہ(ٹی وی رپورٹ‘ایجنسیاں) سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر تحفظات‘ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی سے معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دیدی جبکہ وفاق میں حکومتی اتحاد میں شامل اہم جماعت جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے سندھ حکومت کے خلاف تحریک چلانےکا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آج الیکشن کمیشن کے ضلعی دفاتر دھرنے دیئے جائیں گے‘.

ادھر وعدے پورے نہ ہونے پر بلوچستان عوامی پارٹی کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خالد مگسی اورگوادرسے آزادرکن اسمبلی اسلم بھوتانی وفاقی حکومت پر برس پڑے ۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات اور اس کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایم کیوایم نے الزام عائد کیا ہے کہ جن حلقوں میں اس کے امیدوار جیت رہے تھے وہاں نتائج روکے گئے۔

سابق میئر کراچی اور ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر نے کہا کہ اب حد ہوگئی، معاہدے کی وجہ سے خاموش ہیں، اگر پیپلزپارٹی وعدے سے منحرف ہوتی ہے توایم کیو ایم بھی بہادر آباد کو تالا لگا کر سڑکوں پرہوگی۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ پیپلزپارٹی ہمارا اور ہم ان کا مینڈیٹ قبول کریں گے‘ اگر حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں پر ایم کیو ایم کے خدشات کو نہ سنا گیا توکراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخاب نہیں ہونے دیں گے۔

وسیم اختر نے کہا کہ 2018ءکے انتخابات میں ہمارے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا لیکن اب ہم اپنے ووٹ پر ڈاکا نہیں پڑنے دیں گے۔

 اب بس بہت ہوگیا ‘ایسا نہ ہو کہ حالات وہاں چلے جائیں جہاں سنبھالے نہ جاسکیں۔

ادھرلاڑکانہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل راشد محمود سومرو نے سندھ کے 14 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخاب میں پیپلز پارٹی پر دھاندلی کا الزام لگادیا۔

اہم خبریں سے مزید