• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: میرا سوال بڑے اور چھوٹے بھائیوں کے متعلق ہے۔ عام طور پر جب کوئی شخص کاروبار کرتا ہے اور اس کا انتقال ہوجاتا ہے تو بڑا بیٹا کاروبار سنبھال لیتا ہے۔ ایک عام صورت یہ پیش آتی ہے کہ بڑا بیٹا محنت کرتا ہے اور گھر کی کفالت کرتا ہے۔ چھوٹے بھائی اگر ہوں تو وہ تعلیم جاری رکھتے ہیں اور یہ بڑا بھائی ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرتا ہے۔ اگر چھوٹے بھائی تعلیم حاصل نہ کریں تو جب تک بڑے ہوتے ہیں یا جب تک کاروبار سیکھتے ہیں، اس میں برسوں کا عرصہ گزرجاتا ہے۔ یہی چھوٹے بھائی جب بڑے ہوجاتے ہیں تو کاروبار میں بڑے بھائی کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں۔ اب سب مل کر کاروبار کرتے ہیں اور جب کسی جھگڑے کی وجہ سے بٹوارے کی نوبت آتی ہے تو چھوٹے بھائی برابر کا حصہ مانگتے ہیں، جب کہ بڑے بھائی کی محنت زیادہ ہوتی ہے؟ اس صورت میں کیا حکم ہوگا ؟

جواب: چھوٹے بیٹوں کا والد مرحوم کے کاروبار میں برابری کی سطح کا دعویٰ درست ہے۔ سب بیٹوں کو برابر برابر ملے گا، اگرچہ کاروبار کو بڑھانے اور پھیلانے میں بڑے بیٹے کی محنت اور کردار زیادہ ہو۔ فتاویٰ شامی میں ہے: کسانوں میں عام طور پر یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس کی اولاد اس کا ترکہ تقسیم کیے بغیر سنبھال لیتی ہے اور اس میں کھیتی بھاڑی، زراعت،خریدوفروخت اور قرضوں کا لین دین شروع کردیتی ہے۔ کبھی ان میں سے بڑا بیٹا ان تمام معاملات کا ذمہ داربن جاتا ہے اور باقی سب اس کے کہنے کے مطابق اس کے پاس کام شروع کردیتے ہیں تو چوں کہ ان سب کی محنت ایک ہی ہے اور کس نے اپنی محنت سے کیا کمایا ہے، وہ الگ اور قابل شناخت نہیں ہے تو ان سب نے مل کر جو جمع کیا ہے ،وہ ان میں برابر تقسیم ہوگا، اگر چہ ان میں کام میں کمی بیشی کے اعتبار سے اور فیصلوں میں غلط اور صحیح کے اعتبار سے فرق ہو۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk