• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیلاب: علاج، راشن، خیموں کا فقدان، گیسٹرو سے مزید 6 افراد جاں بحق

میہڑ / سکھر / دادو (نامہ نگاران / بیورو رپورٹ) سیلاب متاثرین کے مشکلات کم نہ ہوسکیں ، علاج معالجے ، راشن اور خیموں کے فقدان کے باعث ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں ، ملیریا ، گیسڑوں سے دیگر وبائی امراض کی وجہ سے بچی سمیت مزید 6؍ افراد جاں بحق ہوگئے ، متاثرین تاحال کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں ، کئی علاقوں سے اب تک نکاسی آب نہ ہوسکی ، میہڑ میں متاثرین سیلاب احتجاج کیا اور دھرنا دیا جبکہ مختیار کار میہڑ کو یرغمال بنالیا۔ تفصیلات کے مطابق میہڑ میں ہزاروں سیلاب متاثرین روڈ راستوں اور بندوں پر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، سیلاب متاثرین کو راشن ، خیموں اور علاج سمیت دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہیں جبکہ سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے سیلاب متاثرین میں بیماریاں پھیل گئیں ہیں۔گاؤں بھنبھور چھن کا رہائشی 9؍ سالہ بچہ عبدالقادر ولد ممتاز سولنگی ، فریدآباد کے نیاز کالونی کا 6 سالہ بچہ زمان ولد عبدالرحمان تیونو ، گاؤں ڈرب کوڑو کی 5 سالہ بچی سھانا بنت عبدالغفار چانڈیو ، گاؤں حاصل کہوسو کا 45سالہ مختیار کہوسو گیسٹرو اور ملیریا سے تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گئے ۔ جبکہ سیلاب زدہ گاؤں الھندو تیونو کی مسمات حنیفہ زوجہ بچل تیونو سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئیں۔ اس حوالے سے علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ دیہات میں اس وقت بھی 30سے زائد بچے گیسٹرو میں مبتلا ہیں جبکہ متعدد بچوں کی حالت تشویشناک ہے،ڈپٹی کمشنر کی جانب سے فراہم کردہ پانی کی بوتلیں بھی ختم ہوچکی ہیں، بارش کے پانی کی نکاسی میں بااثر افراد رکاوٹیں ڈال رہے ہیں،متعلقہ بالا حکام اس حوالے سے نوٹس لیں اور گیسٹرو پر قابو پانے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔سیلاب متاثرہ علاقے ضلع قمبر میں ہر طرف تباہی ہی تباہی ،مختلف وبائی امراض نے اپنے پنجے گاڑ لئے ،ادویات کی سخت قلت اور ڈاکٹرز غیر حاضر ،دو افراد لقمہ اجل بن گئے۔
اہم خبریں سے مزید