• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا بَھر میں ہر سال عالمی ادارۂ صحت اور عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت(World Food and Agriculture Organization) کے زیرِ اہتمام 16 اکتوبر کو’’عالمی یومِ خوراک‘‘ اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ دُنیا سے خوراک کی قلّت اور بھوک کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔ رواں برس اس یوم کے لیے جو تھیم منتخب کیا گیا ہے، وہ ہےLeave NO ONE behind ہے۔ یعنی کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ پوری دُنیا میں گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ قدرتی آفات کے ساتھ جنگیں بھی معمول بن چُکی ہیں، جب کہ پچھلے دو تین سالوں میں کووِڈ-19 کے باعث عالمی سطح پر منہگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل جنم لینے سےغربت اور غذائی قلّت کے شکار افراد کی تعداد میں بھی کئی گُنا اضافہ ہوگیا ہے۔

اسی کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی دُنیا کے مختلف مُمالک میں ظاہر ہو رہے ہیں، خصوصاً پاکستان میں حالیہ سیلاب 2005ء میں آنے والے زلزلے اور2010 ء میں آنے والے سیلاب سے بھی کہیں زیادہ تباہ کُن ثابت ہوا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد3کروڑ کے لگ بھگ بتائی جارہی ہے، جب کہ عالمی طور پر روس اور یوکرین کےمابین جاری جنگ نے بھی خوراک کے بحران کو جنم دیا ہے۔ 

اس وقت یوکرین کی عالمی سطح پر گندم اور دیگر اجناس کی برآمدات تعطّل کا شکار ہیں، لہٰذا ان تمام واقعات کے سبب دُنیا بَھر میں نہ صرف غذائی قلّت اور خوراک کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، بلکہ عین ممکن ہے کہ کئی پوش افراد بھی زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں۔ فی الوقت دُنیا کی 40 فی صد آبادی کے لیے جو کہ تین ارب افراد پر مشتمل ہے، صحت بخش غذائیں انتہائی منہگی ہوچُکی ہیں، جب کہ ان ہی میں وہ 75فی صد افراد بھی شامل ہیں، جو زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور غذائی قلّت کا شکار ہیں۔

اگر ہم دُنیا کے اہم ترین چیلنجز کا ذکر کریں، توان میں مختلف مُمالک کے مابین تنازعات، غربت، صنفی عدم مساوات، ہجرتیں، موسمیاتی تبدیلیاں اور وبائی امراض وغیرہ شامل ہیں۔ تنازعات اور جنگوں کی بات کی جائے، تو یہ بھوک و غذائی قلّت کو جنم دینے والے سب سے بڑے عوامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ تیس ہزار افراد ان ہی کے سبب گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں اور پھر ان افراد کی مشکلات کا دائرہ صرف غذا کے حصول تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کے لیے صحت اور تعلیم کا حصول بھی مشکل تر ہوجاتا ہے۔ جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے کسان ہی کاشت کاری کے ذریعے پوری دُنیا کو خوراک کا بڑا حصّہ فراہم کرتے ہیں اور خود غربت اور خوراک کی کمی کا شکار رہتےہیں۔

خواہ خشک سالی ہو یا سیلاب دونوں ہی صُورتوں میں یہ افراد شدید مشکلات کا سامنا کرتےہیں۔اسی لیے کسان طبقے کی ایک بڑی تعداد اب اپنا پیشہ چھوڑ کر ملازمت کو ترجیح دے رہی ہے اور یہ امر آنے والے وقتوں میںغذائی قلّت کے اعتبار سے انتہائی پریشان کُن صُورتِ حال کا سبب بن سکتاہے۔ صنفی عدم مساوات بھی دُنیا میں ایک اہم مسئلہ ہے ۔ دو تہائی مُمالک میں خواتین کی شرح مَردوں سے زائد ہے، جب کہ مَردوں کی نسبت خواتین میں خوراک اور غذائیت کی کمی کے اثرات بھی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ 

عموماً خواتین کو ترقّی پذیر مُمالک میں تعلیم اور ترقّی کے مواقع بھی نسبتاً کم میسّر ہیں۔ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ایک عورت کی تعلیم و ترقّی ایک نسل کو سنوار دیتی ہے۔ لوگوں کی نقل مکانی یا ہجرت چاہے وہ اندرونِ مُلک ہو یا بیرونِ مُلک، اس کی وجہ مُلکی تنازعات ہوں، موسمیات یا ماحولیاتی تبدیلیاں، زلزلہ، بارش یا خشک سالی یا پھر بہتر مستقبل، بہرحال مہاجرین کے لیے بنیادی ضروریات کا حصول مثلاً روزگار، خوراک، تعلیم اور دوسرے عوامل تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آرہا ہے۔ 

اس کے ساتھ ہی ماحولیاتی تبدیلی بھی، جس کی بڑی وجہ زمین سے نکلنے والےFossil fuels کا بے جااستعمال ہے اور جو فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی مقدار بڑھا دیتا ہے، عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔اب اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کے درجۂ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ 

گرین ہاؤس گیسز کی زیادتی کے سبب خشک سالی اور سیلاب معمول کا حصّہ بن رہے ہیں۔ رہی بات پاکستان کی، تو اس کا شمار ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ مُمالک میں سرِفہرست ہے۔ پھر کئی برسوں سےمختلف وبائیں بھی دُنیا کو بُری طرح متاثر کررہی ہیں، خصوصاً کووِڈ-19کے سبب عالمی مالیاتی بحران، منہگائی اور غذائی قلّت عروج پر ہیں۔ اس کے علاوہ جانوروں اور پرندوں میں پھیلنے والی وباؤں نے بھی خوراک کی ترسیل کو بہت متاثر کیا ہے۔

ماہرین کو عالمی سطح پر ان مسائل کے فوری حل پر توجّہ دینا ہوگی۔ اس ضمن میں خاص طور پر تعلیم کے ذریعے خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں میں شعور اُجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اِسی کے ساتھ دَورِ جدید میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ پھر حکومتیں اور مختلف رفاہی فلاحی ادارے مل کر سماجی تحفّظ کے لیے علاج معالجے کی سہولتیں اور عُمر رسیدہ اور انتہائی غریب افراد کے لیے وظائف کا اہتمام بھی کر سکتے ہیں۔ مانا کہ موجودہ سیلابی صُورتِ حال میں پاکستان جس بدترین بحران سے گزر رہا ہے، عالمی برادری کی مدد کے بغیر اس سے باہر نکلنا ناممکن ہے، مگر حکومت کو بھی اس جانب خاص توجّہ دینا ہوگی۔

مستقبل میں اس طرح کی سیلابی صُورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بڑے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر سال کےچند ماہ خشک سالی سے تباہی ہوگی ، تو چند ماہ سیلابی صُورتِ حال سے گزرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں عوام الناس میں مسلسل عدم تحفّظ کا احساس ترقّی کی راہ میں رکاوٹ ہی بنا رہے گا۔ جب کہ اگر ان مسائل کا کوئی فوری حل ڈھونڈ لیا جائے، تو پاکستان اور اس جیسے کئی مُمالک کے لیے ترقّی کی راہ پر گام زن ہونا سہل ہوجائے گا۔ (مضمون نگار،جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سےبطور اسسٹنٹ پروفیسروابستہ ہیں،جب کہ سندھ فوڈ اتھارٹی بورڈ اور سائنٹیفک پینل کے رُکن بھی ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید