پاکستان میں خودکُشی کے واقعات میں خوف ناک حد تک اضافہ سب ہی کے لیےلمحۂ فکریہ ہے۔ زندگی عطیۂ خداوندی،ایک اَن مول نعمت ہے۔ دُکھ، پریشانیاں، مسائل اور آزمائشیں زندگی کا حصّہ بلکہ زندگی کی علامت ہیں، لیکن پتانہیںکیوں اب لوگ بہت جلد ہار ماننے لگے ہیں۔ حالاں کہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ ﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر اُن کے گناہ مٹاتا ، بہتر انسان بننے، اپنے قریب آنے کا موقع فراہم کرتاہے، پھر جو لوگ اپنے خالق کی آزمائش پر پورے اُترتے ہیں، وہ اُس کی رحمتوں کے سائے میں آجاتے ہیں۔ جب کہ خود کُشی یا حرام موت کی صُورت اپنے لیے روزِ حشر تک کی سزا منتخب کرنا بذاتِ خود ایک کریہہ عمل ہے۔
یاد رکھیں، بہترین انسان وہ ہے، جو مشکل حالات کا جائزہ لے، اسباب تلاش کرے، ان کا مداوا کرے، مشکلات کو آسانیوں میں بدلے اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل و بھروسا کرتے ہوئے مایوسی کی بجائے صبر و رضا میں زندگی بسر کرے۔ قرآن مجید، فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ تو کسی مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوگی کہ اللہ پاک خود فرما رہا ہے کہ مشکل کے بعد آسانی ہے، اس لیے ہمیشہ یہی یقین ہونا چاہیے کہ وقت چاہے کتنا ہی کٹھن، حالات چاہے کتنے ہی سخت اور لوگ چاہے کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پہ قادر ہے، جو ربّ دن کو رات اور رات کو دن میں بدلنے پر قادر ہے، وہ ہمارے دُکھوں، غموں، تاریک دِنوں کو بھی ایک نہ ایک دن خوشیوں سے ضرور بَھر دے گا۔
بلاشبہ، ہر شخص اپنی زندگی بھرپور انداز سے جینا چاہتا ہے، مگر کئی بار زندگی میں ایسے مقام آجاتے ہیں کہ انسان منفی خیالات کی رَو میں بہتا چلا جاتا ہے، پھر کبھی کبھار حالات ایسا موڑبھی اختیار کر لیتے ہیں کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی موت کی تمنّا کرنے لگتا ہے، تو ایسے میں بزدلوں کی طرح کسی غلط راستےکا انتخاب کرنے،خود کُشی جیسا قبیح عمل سرانجام دینے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہم تو وہ خوش نصیب ہیں، جو پیدائشی طور پر مسلمان ہیں، ہمیں وہ دین ملا ،جو مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی دینی، تعلیمات سے غافل ہوگئے ہیں ، ورنہ ایک سچّا مسلمان تو اپنے ربّ کی رحمت سے نااُمید ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے یہاں قریباً 25 فی صد افراد ڈیپریشن،ذہنی تناؤ اور دماغی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے، جب کہ خودکُشی کی چند بنیادی وجوہ میں معاشرے میں عدم برداشت، خانگی تنازعات، غربت، منہگائی، بےروزگاری، کم گریڈز، گھریلو جھگڑے، پسند کی شادیاںنہ ہونا اور سائبر کرائمز (نجی تصاویر کاسوشل میڈیا پر وائرل ہوجانایا بلیک میلنگ)وغیرہ شامل ہیں۔
پھر ماہرینِ نفسیات آج کل خودکُشی کی ایک بڑی وجہ معاشی بدحالی کوبھی قرار دیتےہیں۔ یاد رہے، کسی بھی ذہنی و نفسیاتی مرض کی صُورت میں اہلِ خانہ کی توجّہ، مخلص دوستوں کا ساتھ اور ماہرِ نفسیات سے رابطہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ یوں بھی زندگی میں مخلص دوستوں کا ہونا بڑی نعمت ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دوست چاہے زیادہ نہ ہوں، لیکن مخلص ہونے چاہئیں، ایسے دوست جن سے بلا جھجھک دل کی ہر بات کہی جاسکے کہ جب دل پر مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو دماغ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کرکے کوئی انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ سو، اس کا سب سے آسان نسخہ اللہ کو یاد کرنا، اُس کی نعمتوں کے بارے میں سوچنا، اُس کا شکر ادا کرنا اور اُس پہ بھروسا کرنا ہے۔ نیز، خود کُشی جیسے قبیح عمل کی روک تھام کے لیے اسلامی تعلیمات عام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
ہر لحظہ یاد رکھیںکہ یہ زندگی عارضی ہے، ہم یہاں جو کچھ بوئیں گے، آخرت میں وہی کاٹیں گے۔ بالخصوص نوجوان نسل میں زندگی کی اہمیت اُجاگر کرنے، مثبت سوچ عام کرنے اور اُمید کا دیا جلانے کی اشد ضرورت ہےاور یہ کسی ایک کی نہیں، پورے معاشرے کی ذمّے داری، ہر ایک کا فرض ہے۔ساتھ ہی ان اسباب کے سدِّباب کی بھی سعی کرنی چاہیے، جن کی وجہ سے لوگ اپنی زندگیوں کے خاتمےپر مجبورہوجاتے ہیں۔
ہمیں نوجوان نسل کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ دنیا کی سب سے قیمتی شے جان ہے، جو اللہ کی امانت ہے، لہٰذا ہمیں کسی بھی حال میں ہار ماننی چاہیے، نہ ہی اُمید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا چاہیے۔ اس ضمن میں اگر مثبت سوچ پروان چڑھائی جائے، ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے پر توجّہ دی جائے، تو بلاشبہ صورتِ حال میں خاصی بہتری آجائے گی۔ حقیقت یہی ہے کہ جو مشکل حالات کا مقابلہ کرنا سیکھ لے، وہ بالآخر ایک نہ ایک دن کام یاب ہو ہی جاتا ہے۔