بلقیس متین، کراچی
رمضان المبارک کی آمد میں چند روز باقی ہیں۔ تاہم، ماہِ صیام کی فضیلت و اہمیت کا ادراک رکھنے والے افراد رجب اور شعبان ہی میں اس بابرکت مہینے کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں، کیوں کہ جو کام جس قدر بڑا اور اہم ہوتا ہے، اُس کی خوش اسلوبی سے انجام دہی کے لیے اُتنا ہی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی منصوبے کی کام یابی کا دارومدار اُس کے لیے کی گئی پلاننگ پر ہوتا ہے۔
یعنی جتنی اچّھی منصوبہ بندی ہوگی، کام یابی کے امکانات اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔ عمومی روزمرّہ زندگی میں بھی اس امرکا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شادی بیاہ کی مختلف تقاریب کی تاریخیں کئی ماہ پہلے ہی مقرّر کرلی جاتی ہیں کہ میرج ہال، بیوٹی پارلر وغیرہ کی بکنگ کروانی ہوتی ہے، جب کہ خریداری تو مہینوں پہلے ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔
دُلہن، دولھا کےملبوسات آرڈر کیے جاتے ہیں، تاکہ وقت سے پہلے ڈیلیوری ممکن ہوسکے۔ نیز، کسی ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ اِسی طرح عیدین کی تیاریاں بھی ہم کئی روز پہلے ہی شروع کر دیتے ہیں۔ عیدالفطر کے لیے رمضان المبارک سے قبل ہی کپڑوں، جوتوں کی فکر لاحق ہوجاتی ہے، جب کہ عیدالاضحیٰ سے کئی ماہ بلکہ سال بَھر پہلے ہی متوسّط طبقے کے لوگ کمیٹیاں ڈالنی شروع کردیتے ہیں تاکہ وقتِ مقرّرہ پر قربانی کے جانور کی خریداری ممکن ہوسکے۔
نیز، کچھ لوگ تو مہینوں پہلے ہی قربانی کا جانور خرید کر اُسے گھر میں پالتے بھی ہیں۔ ان باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایونٹ جتنا بڑا اور اہم ہوتا ہے، اُس کی منصوبہ بندی بھی اسی اعتبار سے کی جاتی ہے۔ یوں کہیے، اگر ایک فرد کوئی کام کے کرنےکا ارادہ رکھتا ہے، مگر اُس کے لیے مناسب تیاری نہیں کرتا، تو اس کا مطلب ہے، وہ اپنے ارادے سے مخلص نہیں۔ جو کام آدمی نیک نیّتی، پورے خلوص سے کرنا چاہتا ہے، اُس کے لیےتیاری لازماً کرتا ہے۔
لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم رمضان المبارک جیسے اہم مہینے کی بھی خُوب تیاری کریں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، ہمیں رمضان المبارک کی تیاری کیوں اور کیسے کرنی چاہیے؟ تو اس کا جواب ہے، ہمیں ماہِ صیام کی تیاری اس لیے کرنی چاہیے کہ یہ ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے میں قرآنِ پاک کا نزول ہوا اور ماہِ رمضان ہی میں لیلۃ القدرآتی ہے۔ وہ رات، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ نیز، جو شخص اس مبارک مہینے کی سعادت حاصل کرنے سے محروم رہا، وہ ہر خیر سے محروم رہا۔
پھر روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ تزکیۂ نفس کے لحاظ سے اِس جیسی کوئی دوسری عبادت نہیں۔ یہ ایک نہایت عظیم، افضل عمل اور نیکیاں کمانے کا سُنہری موقع ہے۔ یاد رہے، ہمیں موقعے کو غنیمت جاننے کا حُکم دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، تونگری کو فقر سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔‘‘
لہٰذا،دانش مندی کا تقاضا یہی ہےکہ ہم موت سے پہلے اپنی زندگی کو غنیمت جانیں،جو شخص موقع گنوا دیتا ہے، اُسےعقل مند نہیں کہا جاسکتا۔ سو،رمضان المبارک کی تیاری ہمیں اس لیے بھی کرنی چاہیے کہ یہ زندگی ایک مہلت، ایک موقع ہے، جو کسی بھی لمحے واپس لیا جاسکتا ہے۔ کون جانے،اگلےسال اُسے رمضان کا مہینہ نصیب بھی ہوگا یا نہیں اور اگر نصیب ہو بھی گیا، تو وہ تن درست ہوگا یا نہیں۔
لہٰذا، یہی موقع غنیمت ہے۔ یاد رہے، زندگی، جوانی، صحت، فراغت اور تونگری ایسی نعمتیں ہیں، جوعموماً ایک ساتھ اکٹّھی نہیں ہوتیں اور اگربیک وقت حاصل ہوں بھی، تو عام طور پر اِن کی قدر نہیں کی جاتی۔ قیمتی وقت لغویات، فضولیات میں ضائع کردیا جاتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک صحت مند زندگی دی ہے، تو ہم پرلازم ہے، اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ رمضان المبارک میں روزے رکھنے، نیک کام کرنےاورحرام، لغو کاموں سے بچنےکی نیّت کریں، کیوں کہ صرف خالص اور سچّی نیّت پ ربھی ثواب ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور وہ اس کام کو کسی وجہ سے نہ کرسکے، تو ایک نیکی کا ثواب لکھا جاتا ہے اور جو اس کا ارادہ کرے اور پھراس کام کو کر بھی لے، تو دس نیکیوں کا اجر لکھا جاتا ہے، جب کہ بعض صُورتوں میں سات سو نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر گناہ کا ارادہ کیا اور اس بُرے کام کو اللہ کے خوف سے نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا ثواب لکھتا ہے اور اگر اس کام کو کرلیا، توصرف ایک ہی گناہ لکھا جائےگا۔ مذکورہ حدیث شریف سے معلوم ہوا، نیک کام کا ارادہ کرنے ہی سےایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے۔ اس لیے اگر کسی نیک کام کا ارادہ ہو، تو اسے اوّلین فرصت میں کرلینا چاہیے، اس ضمن میں تاخیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
کسی بھی نیک عمل یا رمضان المبارک کے لیے پیشگی تیاری کے متعدّد فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کی تعمیل کے درمیان کسی مجبوری کے حائل ہوجانے کی صُورت میں آدمی پورےثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ یوں تو رمضان المبارک کے لیے سبھی مسلمان تیاری کرتے ہیں، لیکن ہر ایک کی تیاری کا اپنا ہی مفہوم، معیار اور انداز ہوتا ہے۔
زیادہ ترلوگ ماہِ صیام کے لیے جو تیاری کرتے ہیں، وہ کھانے پینے ہی سے متعلق ہوتی ہے کہ عام طور پر رمضان اور روزے کے نام کےساتھ ہی پکوڑے، سموسے، چنے، دہی بڑے وغیرہ ہی نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں، تو ان سے متعلق خریداری شروع کر لی جاتی ہے۔ مہینے بھر کا راشن گھر میں جمع ہوجاتا ہے، جس میں بیسن، چنے، چینی، کھجوریں مختلف اقسام کے مشروبات، چاٹ مسالا، کیچپ اور دیگر چٹنیاں و مسالا جات شامل ہوتے ہیں۔
پُرتکلف افطار پارٹیز کی پلاننگ ہونےلگتی ہے اور اس مقصد کےلیے نِت نئی ریسیپیز جمع کی جاتی ہیں۔ اسی طرح سحری کے لیے کئی اقسام کے پراٹھے فریز کرنے، روزہ کُشائی کے نام پر دعوتوں کے اہتمام کی پلاننگ ہوتی ہے، مگر یہ سب امور روحانیت سے یک سرخالی ہیں، کیوں کہ اِن کامقصد محض کھانا پینا، ملنا ملانا، مہمان داریاں وغیرہ ہے۔ ایسی دعوتوں میں عموماً باجماعت نماز تک کی پروا نہیں کی جاتی۔ لیکن افسوس ناک حقیقت یہی ہے کہ رمضان المبارک کے یہ پروگرامز، رسومات ہمارے مزاج میں ایسے رَچ بس گئے ہیں کہ اِن کے بغیر روزے پھیکے اور رمضان ادھورا لگتا ہے۔
تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے، ہمیں ماہِ صیام کی درست تیاری کس طرح کرنی چاہیے؟ اس ضمن میں سب سے پہلے رمضان المبارک کے قیمتی لمحات سے مستفید ہونے کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ مثال کےطور پر اپنے دن اور رات کے اوقات میں ہمیں کچھ وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت، نوافل، تلاوتِ قرآن کریم اور ذکر اذکار کے لیے مختص کرنا ہوگا۔
اس کے لیے ہرروز کسی ایک چھوٹی یا بڑی سُورت کے ایک رکوع کو لفظی ترجمے کے ساتھ یاد کرنے کی نیّت کرلیں، ساتھ ہر نماز کے بعد قرآنی دُعائیں یاد کرنے کا مصمّم ارادہ کریں۔ علاوہ ازیں، صدقہ و خیرات میں بھرپور حصّہ لینے بالخصوص آخری عشرے میں وقت کا زیادہ ترحصّہ عبادت میں گزارنے کی نیّت کریں۔
یاد رہے، ہم عام دنوں کی روٹین کے ساتھ رمضان المبارک سے کماحقہ مستفید نہیں ہوسکتے۔ یہ خود کو سراسردھوکا دینے کے مترادف ہے۔ اس انداز سے روزے رکھنے سے فرض تو ادا ہوجاتا ہے، مگر روزے فرض کیے جانےکا اصل مقصد یعنی تقویٰ حاصل نہیں ہوتا۔
رمضان المبارک میں سلف صالحین، محدثین و فقہا، صحابہ کرامؓ اور خُود رسولِ کریمﷺ کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ ہر نیک عمل میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے۔ ہر چند کہ آپ ﷺ عام دِنوں میں بھی خیر کے کاموں میں سب سے آگے ہوتے، مگر رمضان کریم میں تو اور بھی زیادہ سخاوت فرماتے۔
حتیٰ کہ امورِ خیر میں تیز ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہوتے، جب کہ رمضان کے آخری عشرے میں تو عبادات کے لیے جیسے کمر بستہ ہوجاتے۔ خُود بھی قیام اللیل فرماتے، گھر والوں کو بھی جگاتے۔ سو، اگر آپ بھی ماہِ صیام کے لیےخصوصی وقت نکالیں گے، تو ہی کہہ سکتے ہیں کہ رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے کی کوشش کی ہے، وگرنہ ہماری وہی تیاری متصوّر ہوگی، جس کا پہلے ذکر کیا گیا، یعنی پکوڑے، سموسے اور پراٹھے…۔
ہمیں رمضان المبارک کی اِس تیاری کا فائدہ کیا ہوگا؟ یوں تواِس سےبہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، لیکن ایک قابلِ ذکر فائدہ یہ ہےکہ اگر کوئی شخص صدقِ دل سےکسی کام کا پُختہ ارادہ کر لے اور پھر کسی عُذر یا مجبوری کے باعث انجام دینے کا موقع نہ بھی ملے،توبھی اُس کے لیے کام کا مکمل اجر تو لکھ ہی دیا جاتا ہے۔
جیسا کہ غزوۂ تبوک کے موقعے پر کچھ مفلس و نادار مسلمانوں نے، جو اپنےخرچ پر غزوے میں شریک نہیں ہو سکتے تھے، رسول اللہﷺ سے درخواست کی کہ ’’اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے سواری کا انتظام فرمائیے۔‘‘ توآپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’مَیں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ واپس لوٹ گئےاور اُن کا حال یہ تھا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔اُنہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنےخرچ پرشریکِ جہاد ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اس واقعے کو ایک حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ ’’آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو بتایا کہ مدینے میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے کوئی کُوچ نہیں کیا اورکوئی وادی سَر نہیں کی کہ جس میں وہ تمہارے ساتھ ساتھ نہ ہوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے، صحابہؓ نےعرض کیا۔’’وہ مدینے میں رہتے ہوئے کس طرح ہمارے ساتھ ہیں؟‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا۔ ’’اُنہیں کسی مجبوری نے روک لیا ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے۔’’وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔‘‘تو رمضان المبارک یا کسی بھی نیک عمل کی پیشگی تیاری کے متعدّد فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کی تعمیل کےدرمیان کسی مجبوری کے حائل ہو جانے کی صُورت میں آدمی پورے ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ دِلوں کا حال جانتا ہے، وہ نیّتوں تک سے واقف ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآنِ پاک میں منافقین کی، جنہوں نے جھوٹے عُذر پیش کر کے آپﷺ سے غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے کی رخصت مانگی، مذمت کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’اگرواقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا، تو وہ اِس کے لیے کچھ تیاری کرتے۔‘‘ یعنی یہ بہانے تو اب بنا رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ شروع ہی سے اُن کا جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ نہ تھا۔
ارادہ ہوتا، تو کچھ نہ کچھ تیاری تو کی ہوتی۔ بےشک، اعمال کا دارومدار نیّت پر ہے۔ سو، رمضان سے قبل ہی اس نہایت بابرکت مہینے کی تیاری نہایت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے اور زندگی اور صحت کی نعمت سے بہرہ مند رکھے تاکہ ہم ماہِ صیام کی بابرکت ساعتوں سے مستفید ہوسکیں۔ آمین۔