٭ انسان کی خدمت ہی دراصل خدا کی خدمت ہے۔ (حضرت ابو ذر غفاریؒ)
٭ انسانوں کی بے غرض خدمت ہی انسانیت کی معراج ہے۔ (مہاتما بدھ)
٭خالق مخلوق میں ہے، اُسے پانے کے لیے مخلوق کی خدمت ناگزیر ہے۔ (بابا گرونانک)
٭ توبہ و عبادت سے بھی بندوں کو وہ فائدہ نہیں پہنچتا، جو بندے کو بندوں کی خدمت اور حاجت روائی سے پہنچتا ہے۔ (دائود طائی)
٭آدمی کے نفس کی مثال اُس بیمار گائے کی سی ہے، جو دن بھر سبزے میں پِھرتی، چَرتی ہے، مگر رات بھر اِس فکرمیں رہتی ہے کہ صُبح کو کیا اور کہاں سے کھاؤں گی؟ دن کھانے میں گزرتا ہے اور رات جگالی میں۔
گرچہ سبزہ زار کی گھاس ختم نہیں ہوتی، لیکن ہوس کا کیا علاج۔ انسانی نفس بھی جوع البقر میں مبتلا رہتا ہے۔ ہر گھڑی یہ فکر کہ کل کیا ہوگا؟ نتیجتاً کسی کام کا نہیں رہتا۔ (مولانا رومؒ)
٭ جو شخص خُود کو برتر سمجھتا ہے، وہ خدمت کی حلاوت و مٹھاس سے محروم ہوجاتا ہے۔ (ابو سلیمان درانی)
٭ جو شخص کسی غرض کے تحت خدمت کرتا اور دل سے خواہشات دُور نہیں کرتا، وہ خادم نہیں، چارگُنا دام مانگنے والا سا ہوکار ہے۔ (بھگت کبیر)
٭ محنت ہرانسان کی بنیادی ذمّےداری ہے اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اُٹھا رکھتا ہے، تو یہ گویا ایک دائمی نیکی ہے۔ (ابراہم لنکن)
٭ حقیقی آزادی کا حصول صرف وہیں ممکن ہے، جہاں ظلم کا راج نہ ہو۔ بےروزگاری، بھوک، افلاس نہ ہو، کسی کو یہ ڈر، خوف، اندیشہ نہ ہو کہ کل اپنے روزگار سے محروم کردیا جائے گا، درحقیقت، ایسے ہی سماج میں شخصی آزادی ممکن ہوگی۔ (اسٹالن)
٭ اگر دل میں نیکی ہے تو اخلاق سدھرے گا۔ اچھے اخلاق سے گھر میں راحت و سُکون ہوگا۔ گھر کا سُکون پوری قوم کو نظم وضبط اور سُکون بخشے گا اور پوری قوم کا سُکون و اطمینان دنیا میں امن و امان قائم کرنے کا موجب بنے گا۔ (کنفیوشس)
٭ جس کی زندگی کا نصب العین، مُلک و قوم کی خدمت ہو، اُسے شرف و امتیاز کی احتیاج نہیں ہوتی۔ (والٹیئر)
٭ خدمت نتیجے سے بےنیاز ہوکر محض خدمت ہی کے لیے انجام دینی چاہیے۔ (کیتھرین شیرڈ)
(ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد)