• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے بحران کا دائمی حل ... شورائیت پر مبنی انتخابی نظام

پاکستان کے موجودہ معاشی و سیاسی بحرانوں کی وجہ، جہاں ساختیاتی اصلاحات میں ناکامی، اشرافیہ کی ناقص گورنینس، بدعنوانی اور قانون کی بالادستی کا فقدان ہے، وہیں اس کا ایک بڑا موجب سیاسی عدم استحکام و چپقلش اور انتخابات کے گرد گھومتی سیاست ہے، جس نے طویل مدّتی معاشی پالیسیوں کا نفاذ ناممکن بنادیا ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں پاکستان کو تاریخی منہگائی اور زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے سنگین بحرانوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

بدقسمتی سے قوم کو آج تک کوئی ایسی اہل اور دیانت دار قیادت میسّر نہیں آسکی، جو ملک کو ترقی کی شاہ راہ پر گام زن کرسکے۔ اس کا بنیادی سبب ہمارے ملک کا انتخابی نظام ہے، جس میں بڑے نقائص پائے جاتے ہیں۔ ہمارا انتخابی نظام اور طرزِحکومت قرآن کے ’’اصولِ شورائیت ‘‘ کی رُوح کے مطابق نہیں ہے۔ شورائی طرزِ حُکم رانی میں نظامِ حکومت باہم مشاورت اور باہمی رائے و مشاورت کے اصول پر چلایا جاتا ہے۔

اس نظام میں اہم قومی امور، فیصلے اور قانون سازی کے لیے منتخب یا اہل نمائندوں کی شوریٰ (کائونسل/پارلیمنٹ) سے مشورہ کیا جاتا ہے، جو مطلق العنان بادشاہت یا آمریت کے برعکس ہے۔ نظامِ شورائیت کے ذریعے منتخب ہونے والا حُکم ران ہی اکثریت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، ہمارے ملک میں رائج انتخابی طریقہ ٔ کار میں حُکم رانی کی مسند پر براجمان ہونے والا شخص عموماً صرف 20سے 25فی صد ووٹرز(یعنی اقلیت) کی نمائندگی کرتا ہے۔ 

سیاسی حُکم رانوں کی یہی وہ بنیادی کم زوری ہے، جس نے غیر آئینی قوتوں کو بار بار مُلکی نظام میں مداخلت کا موقع فراہم کیا۔ اس تباہ کُن صورتِ حال سے نکلنے، مُلک کو ترقی کی راہ پرگام زن کرنے اور شورائیت کے حقیقی اصول نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آئینی، انتخابی اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی جائیں، کیوں کہ ہمارے مُلک میں مسائل کی جڑ دراصل ہمارے نظامِ حُکم رانی اور انتخابی ڈھانچےہی میں پوشیدہ ہے۔ حُکم رانی کا حق کِسے حاصل ہونا چاہیے؟ ذیل میں ان ہی مقاصد کے پیشِ نظر کچھ تجاویز پیش ِ خدمت ہیں ، جن کی رُو سے مُلک کے دائمی مسائل کا حل ممکن ہوسکتا ہے۔

دستورِ الٰہی کی روشنی میں حُکم رانی کا اصول: الحمدللہ، مملکت ِ پاکستان کی بنیاد ’’کلمۂ طیبہ‘‘ پر رکھی گئی، لہٰذا ہم سیاسی اور حکومتی معاملات میں اللہ اور رسول ِ اکرمﷺ کے احکامات کے پابند ہیں۔ حُکم رانی اور نظامِ ریاست کے حوالے سے قرآنِ مجید میں دو بنیادی احکامات بتائے گئے ہیں، جن میں اوّل، احکام، صاحبِ امرکی اطاعت اور باہمی مشاورت ہے۔

سورۃ النساء، آیت 59میں اہلِ ایمان کو حُکم دیا گیا ہے کہ’’ اللہ اور رسول اللہﷺ کے ساتھ صاحبِ امر (اختیار رکھنے والے حُکم رانوں) کی اطاعت کریں، بہ شرط یہ کہ وہ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت میں ہوں۔’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو، اللہ کی اور اطاعت کرو رسولِ اکرمﷺ کی، اور ان لوگوں کی، جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں۔

پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہو جائے، تو اسے اللہ اور رسول ﷺکی طرف پھیر دو۔ اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی طریقہ بہتر ہے، اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔‘‘ جب کہ سورۃ الشوریٰ، آیت 38میں اہلِ ایمان کے اجتماعی معاملات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ’’ اور وہ جو اپنے ربّ کا حُکم مانتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں، اور اُن کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے، اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ دیا بھی کرتے ہیں۔‘‘یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ حکم ران یا تو ’’منتخب‘‘ ہوں گے یا ’’نام زد۔‘‘ دونوں صُورتوں میں حُکم ران اپنے تمام اہم امور باہمی مشورے سے چلانے کے پابند ہوں گے۔

شورائیت کی خلاف ورزی اور اقلیت کی حُکم رانی: پاکستان میں رائج انتخابی نظام، قرآنِ مجید کے باہمی مشاورت کے حوالے سے حُکم کی مسلسل خلاف ورزی کا سبب بن رہا ہے۔ ہمارے موجودہ نظام سے ووٹرز کی اکثریت بکھر جاتی ہے اور قومی اسمبلی کا ایک امیدوار حلقے کے کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی ایک قلیل تعداد (بعض اوقات صرف15سے 20فی صد) کے ووٹ لے کر کام یاب قرار پاتا ہے۔ 

ووٹس کی تقسیم کے نتیجے میں ملک میں ہمیشہ ایسی جماعت برسراقتدار آجاتی ہے، جو ملک کے مجموعی ووٹرز کی اکثریت کی نمائندہ نہیں، بلکہ ایک کم زور اقلیتی مینڈیٹ پر کھڑی ہوتی ہے۔ شورائیت کے اصول اور اکثریتی مینڈیٹ کی پامالی کا سب سے بڑا سانحہ1970ء کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا، جب سابق مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعت، عوامی لیگ نے پاکستان کی اسمبلی میں اکثریتی نشستیں حاصل کیں۔

شوریٰ کے اصول کے تحت اسے ملک کی قیادت کا حق دیا جانا چاہیے تھا، لیکن اکثریتی مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا اور ملکی معاملات کو باہمی مشاورت سے چلانے کے قرآنی حُکم کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔ اس غلط فیصلے کے نتیجے میں ملک دولخت ہو گیا۔ یہ سانحہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ اللہ کے احکام پامال کرنے کے نتیجے میں ہمیں سخت نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں۔

سیاسی استحکام کے لیے اصلاحاتی ایجنڈا: مُلک کے سیاسی، عدالتی اور انتظامی مسائل مستقل طور پر حل کرنے اور حقیقی شورائی طرزِحُکم رانی کے قیام کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔ موجودہ انتخابی نظام کی ایک اہم کم زوری یہ ہے کہ ہارنے والے امیدواروں کے ووٹ ضائع ہو جاتے ہیں، حالاں کہ اُن کی مجموعی تعداد اکثر جیتنے والے امیدوار کے ووٹس سے زیادہ ہوتی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام، اکثریت کی رائے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اسی لیے اس نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اسی طرح کابینہ کے حجم کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی وزراء، و مشیروں کی تعداد مقررکی جائے، تاکہ اسمبلی کے تمام ممبران وزیر نہ بن سکیں۔ صدر اور وزیر اعلیٰ کو سینیٹرز، قومی/صوبائی اسمبلی کے ممبران یا ٹیکنوکریٹس میں سے وزیر بنانے کا اختیار ہونا چاہیے۔

انتخابی و آئینی ڈھانچا: ہر حلقے کا ہر ووٹ اسی وقت کام یاب ہوگا، جب مردم شماری مکمل دیانت داری اور شفّافیت کے ساتھ کروائی جائے، پوری آبادی کا بایومیٹرک یا چہرہ شناسائی (Facial Recognition System)کے ذریعے اندراج ہو۔ تمام کوائف ایک مرکزی کمپیوٹرائزڈ نظام میں محفوظ کیے جائیں۔ اس نظام سے کسی بھی شخص کی فوری تصدیق ہوسکے گی کہ وہ کس حلقے میں رجسٹرڈ ہے۔

مذکورہ نظام اسی طرح کام کر سکتا ہے، جیسے آج کل ایئرپورٹس پر شناخت کی تصدیق کرنے والی مشینز استعمال ہوتی ہیں۔ کسی شخص کے ایک سے زیادہ جگہوں پر رجسٹرڈ ہونے کی صورت میں مشین فوراً معلومات فراہم کردے گی اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے گی۔ انتخابات کے مرحلے پر اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ جداگانہ، متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوں۔خواتین کے لیے مخصوص یا غیر منتخب نشستوں کا موجودہ نظام، جس میں نام زدگی کا اختیار سیاسی جماعتوں کے پاس ہوتا ہے، ختم ہونا چاہیے۔ 

اس کی جگہ ایک ایسا مکمل جمہوری نظام ہونا چاہیے، جہاں خواتین اور دیگر تمام شہریوں کو براہِ راست عوامی حلقوں میں الیکشن لڑنے کایک ساں حق حاصل ہو۔ سیاسی جماعتوں کو اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنے ٹکٹس خواتین سمیت تمام اہل افراد کو عمومی نشستوں پر دے سکیں۔

مخصوص کوٹے کا موجودہ طریقۂ کار درحقیقت حقیقی نمائندگی کے بجائے پارٹی قیادت کی ترجیحات کا آئینہ دار ہے، جس کی وجہ سے یہ نمائندے عوام کے بجائے جماعتی مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر اہل شہری، خواہ مرد ہو یا عورت، اپنی سیاسی قیادت کا انتخاب براہِ راست ووٹ کے ذریعے کر سکے، تاکہ نمائندگی حقیقی طور پر عوامی ہو۔

اسی طرح صدر، نائب صدر، سینیٹ کے چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کا انتخاب، ملک کے ہر ووٹر کے براہِ راست ووٹ سے ہونا چاہیے۔ صدارتی انتخابات میں کام یابی کے لیے امیدوار کا 50فی صد سے زائد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہو، اور اگر کوئی امیدوار یہ حد پوری نہ کرے، تو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کروایا جائے۔

قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں سیاسی جماعتوں کو ان کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں کے تناسب سے دی جانی چاہئیں، کیوں کہ اسی طریقے سے اقلیتی حُکم رانی کا خاتمہ ممکن ہے۔ مذکورہ نظام کے تحت ہر جماعت اپنی نشستیں اُن امیدواروں کو دے سکے گی، جنہوں نے جماعت کے اندر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں گے۔

اسی طرح اسمبلی میں کوئی نشست خالی ہوجائے، تو وہ سیٹ اسی پارٹی کے اگلے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے ناکام امیدوار کو دے دی جائے، تاکہ ضمنی انتخابات پر قومی خزانے کا خرچ اور سیاسی خرید و فروخت ختم ہو۔ الیکشن کمیشن کو جغرافیائی بنیادوں پر حلقہ بندی کا اختیار ختم کرکے قومی و صوبائی اسمبلی کی ہر نشست کے لیے ووٹرز کی اوسط تعداد مقررکی جانی چاہیے۔نیز، مُلک کی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے کم از کم 12 سے 14 نئے صوبے ناگزیر ہیں۔

عدلیہ، سرکاری اداروں اور پولیس کا کردار: بینچ اور بار کی علیحدگی لازمی قرار دی جائے۔ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری خالصتاً سینیارٹی اور میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور چیف جسٹس کا عہدہ سب سے زیادہ تجربہ کار جج کو دیا جانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن میں صرف ایسے نمائندے مقرر کیے جائیں، جو کسی سیاسی جماعت کا کبھی حصّہ نہ رہے ہوں۔

دھاندلی ثابت ہونے پر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح انتخابات میں جدید مشینوں کے ذریعے ووٹنگ ہونی چاہیے، ہر نمائندے کو اپنے اور دیگر امیدواروں کے ووٹ براہِ راست دیکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے تاکہ شفّافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہر جماعت کے لیے انتخابات سے چھے ماہ قبل اپنا منشور شائع کرنا لازم ہو اور منشور سے انحراف یا دھوکا دہی کی صورت میں ملک کے کسی بھی شہری کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ عدالت میں اس جماعت کے خلاف مقدمہ دائر کر سکے۔

بعض اوقات پولیس کسی کی ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے، جس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور ملزم کو فائدہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ایک جدید کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کروایا جانا چاہیے، جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے اپنی شکایات درج کروا سکیں۔ اس سے نہ صرف وقت اور وسائل کی بچت ہوگی بلکہ شفّافیت اور قانونی دستاویزات کی درستی بھی یقینی ہوجائے گی۔

موجودہ قانون کے تحت پولیس خود بھی ایف آئی آر درج کرتی ہے، لیکن یہ صرف اُن افراد کے لیے ممکن ہے، جو تھانے پر آتے ہیں یا جنہیں گرفتار کر کے لایا گیا جاتا ہے۔ نئے نظام کے ذریعے ایف آئی آر درج کرنے کا حق گھر بیٹھے شہریوں کو دیا جائے، تاکہ قانون اور انصاف تک رسائی آسان اور ہر فرد کے لیے یک ساں ہو۔ اگر کسی پولیس افسر پر عدالت میں یہ ثابت ہو جائے کہ اُس نے مقدمہ درج کرتے وقت چالان میں سچ کے بجائے جھوٹ شامل کیا ہے، تو اس پولیس افسر کے خلاف بھی سخت تادیبی کارروائی لازماً ہونی چاہیے۔

پاکستان کو بدقسمتی سے کرپٹ سیاست دانوں اور افسران نے بے دردی سے مسلسل لوٹا ہے۔ اتنے بحرانوں کے باوجود پاکستان کا قائم رہنا اللہ تعالیٰ کاخاص فضل اور انعام ہے۔ یہ مُلک 26 اور 27رمضان المبارک کی درمیانی شب کلمہ ٔ طیبہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد کی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا تھا۔ بلاشبہ، یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم انعام ہے، مگر افسوس کہ ہم نے اب تک اس کی سخت ناقدری کی ہے۔

اس انعام کی قدر کرنے اور ملک کے قیام کا بنیادی مقصد پورا کرنے کے لیےقرآنِ مجید میں بتائے گئے ’’اصولِ شورائیت‘‘ کے تحت اپنے نظام میں بنیادی اصلاحات لاکر میرٹ، اہلیت اور قانون کی حُکم رانی کو یقنی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

مذکورہ بالا اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف ’’پائے دار سیاسی و معاشی استحکام‘‘ قائم ہوگا، بلکہ مُلک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہوگا اور ایک پُرامن و محفوظ معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکے گی، جس کے بعد نہ صرف سیاسی مشکلات حل ہوسکیں گے، بلکہ معاشی خوش حالی کی راہیں بھی خود بخود ہم وار ہوجائیں گی۔ بصورتِ دیگر، اقلیتی حُکم رانی اور شخصی مفادات پر مبنی نظام مُلک کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیلتا رہے گا۔

سنڈے میگزین سے مزید